امراض نہیں پھوٹیں گے تو اور کیا ہوگا ؟

امراض نہیں پھوٹیں گے تو اور کیا ہوگا ؟

تہکال سے پھیلی ہوئی ڈینگی جہاں متعلقہ حکام کی غفلت کے باعث پھیل کر وبائی صورت اختیار کر کے پشتہ خرہ کے علاقے کو بھی لپیٹ میں لے چکی ہے وہاں ضلع ناظم کے تاخیر در تا خیر تہکال کے دورے کے موقع پر چھتیس سالوں سے آبنوشی کی ٹینکی کی صفائی نہ ہونے کی شکایت کا سامنا آنا جہاں محیر العقول ہے وہاں علاقے کی بیماریوں کی لپیٹ میں آنے کی وجہ بھی سامنے آگئی ہے ۔ حیرت انگیز امر صرف یہ نہیں کہ بلدیہ کے عملے نے چھتیس سالوں سے ٹینکی کی صفائی کی زحمت نہ کی حیرت انگیز امر یہ ہے کہ اتنے سالوں تک علاقے سے منتخب کسی کونسلر، کسی ناظم اورکسی رکن اسمبلی نے زحمت نہیں کی کہ وہ کم از کم آبنوشی کی ٹینکی کی ممکنہ صفائی کا اہتمام تو کرواتے ۔ ٹینکی کی صفائی اتنا مشکل اور پیچیدہ کام نہیں اگر کسی کو اس امر کا احساس ہوتا تو اس کی صفائی مشکل نہ تھی مگر کسی کو بھی اس امر کا احساس تک نہ ہوا کہ ایسا کرنا بھی ضروری ہے ۔ بلدیہ کے عملے کی غفلت کی انتہا اور متعلقہ حکام کی نااہلی تو اب ضرب المثل بن چکی ہے متعلقہ صوبائی وزیر کے بلند بانگ دعوئوں کے مطابق تو صوبائی دارالحکومت پشاور پھولوں کا شہر بن چکا ہے مگر ان کے محکمے کی اتنی تو فیق نہیں کہ وہ ایک ٹینکی کی صفائی ہی کروانے کی ذمہ داری نبھاتے ۔ صرف ان ہی کے دور میںنہیں بلکہ گزشتہ 36سالوں میں گزرنے والی ہر حکومت میں یہی صورتحال رہی اب بھی اگر اہل علاقہ ضلع ناظم سے شکایت نہ کرتے تو شاید ایک صدی پوری ہو جاتی مگر ٹینکی کی صفائی شاید ہی ہو جاتی ۔ یہ امر بھی المیہ ہی گردانا جائے گا کہ بطور شہری ہم اپنے فرائض و حقوق کسی بھی چیز سے واقف نہیں، متعلقہ محکمے کی جانب سے اگر غفلت کا مظاہرہ ہورہا تھا تو شہریوں کی بھی ذمہ داری تھی کہ وہ اس طرف توجہ دلاتے اور اگر شکایات کے باوجود ٹینکی کی صفائی نہ ہوتی اور عوام کو صاف پانی کے قدر قیمت کا احساس ہوتا تو چند نوجوان مل کر اس کی صفائی خود بھی کر سکتے تھے ۔ تہکال میں آبنوشی کی ٹینکی کی ریکارڈ مدت میں صفائی نہ ہونا واحد مثال نہ ہوگی کم و بیش شہر اور پورے صوبے میںایسی ہی صورتحال متوقع ہے ۔ ایک انوکھی صورتحا ل کے سامنے آنے کے بعد اب تو کم از کم صوبائی وزیر اور آبنوشی کا متعلقہ محکمہ زحمت کرے کہ جہاں جہاں جس جس محکمے کے زیر انتظام پانی کی سپلائی ہورہی ہے وہاں ٹینکی کی صفائی فوری طور پر یقینی بنائی جائے ۔ عوام کو اس امر کا احساس ہونا چاہیئے کہ آلودہ پانی ام الامراض ہے۔ کو شش ہونی چاہیئے کہ پانی ابال کر استعمال کیا جائے ۔ صوبائی حکومت نے جگہ جگہ واٹر فلٹریشن پلانٹ لگانے کے جو بلند و بانگ دعوے کئے تھے اس پر عملدر آمد نہیں ہو سکا ہے تاہم چند ایک مقامات پر ا س کا انتظام دکھائی دیتا ہے لیکن وہاں بھی جگہ کی صفائی کا ناقص انتظام کے باعث پانی کا حصول نظافت کے اصولوں کے مطابق دکھائی نہیں دیتا ، بہت سی جگہوںسے نلکے توڑ دیئے گئے ہیں اور خراب نلکوں کے باعث پانی ضائع ہو رہا ہوتا ہے ۔ پینے کے پانی سے لوگ برتن دھورہے ہوتے ہیں اور عام استعمال کے لئے پانی لے جار ہے ہوتے ہیں کیا اس طرف بھی کسی کی توجہ ہوگی اور صاف پانی کی فراہمی کا مقصد پورا کرنے کی سعی کی جائے گی ۔

متعلقہ خبریں