معصوم بچے کی ہلاکت اور بے حسی کی انتہا

معصوم بچے کی ہلاکت اور بے حسی کی انتہا


سابق وزیرا عظم محمد نواز شریف کے قافلے میں گاڑی کا معصوم بچے کو کچلنے کا واقعہ حادثہ ضرور ہے لیکن حادثے کے بعد جس بے حسی کا مظاہرہ کیا گیا اس کی کوئی تو جیہہ پیش کرنا ممکن کی نہیں ۔ اصولی طور پر سیکورٹی کا تقاضا یہ تھا کہ کسی کو بھی اتنا قریب آنے نہیں دینا چاہیئے تھا کہ وہ قافلے تک پہنچ سکے اور ایک معصوم بچے کو اس قدر قریب آنے دینا از خود حادثے کو دعوت دینے کے مترادف تھا ۔ بہر حال حادثے کی روک تھام اور احتیاطی تدابیر کی ناکامی اپنی جگہ حادثے کے بعد اگر گزر ی ہوئی گاڑیوں کو واقعے کا اندازہ نہ ہو سکا تو جس گاڑی کی ٹکر سے بچہ جاں بحق ہو گیا اور اس کے پیچھے آنے والی گاڑیوں میں سے کم از کم کسی ایک گاڑی کو رک کربچے کو ہسپتال منتقل کرنے کی ذمہ داری نبھانی چاہیئے تھی قافلے میں طبی امداد کے معقول انتظامات موجود تھے اگر کسی ایمبولینس کا عملہ بچے کو طبی امداد دینے کا فرض پورا کرتا تو ممکن ہے بچے کی جان بچ جاتی مگر جس بے حسی کا مظاہرہ کیا گیا اس پر جتنا افسوس کا اظہار کیا جائے کم ہی ہے اس ایک واقعے کو ایک خاص تناظر میں اجا گر کرنے کی وجہ جو بھی ہو اس طرح کے محض کسی خاص واقعے پر ہی اس قدر افسوس کا اظہار نہیں ہونا چاہیئے بلکہ کسی بھی قیمتی انسانی جان کے ضیاع پرایسا ہی کرنے کی ضرورت ہے ۔ جلوس میں معصوم بچے کے ضیاع اور برتی گئی غفلت ہی افسوسناک نہیں سابق وزیراعظم، پنجاب حکومت اور مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت کی جانب سے دم تحریر بچے کے غمزدہ والدین کو دلاسہ دینے اور ان کی معقول مالی امداد کرنے کی کوئی اطلاع نہیں اس سے مرحوم کی واپسی ممکن ہوگئی ہے اور نہ ہی مالی امداد قیمتی انسانی جان کا نعم البدل بن سکتا ہے یہ ایک انسانی ہمدردی اور انسانی بس کی بات ہے جو اب ممکن ہے جس میں تاخیر نہیں ہونی چاہیئے ۔

متعلقہ خبریں