کیا میاں نواز شریف مظلوم ہیں؟

کیا میاں نواز شریف مظلوم ہیں؟

سابق وزیر اعظم نواز شریف نااہل قرار دیے جانے کے بعد اسلام آباد سے چپ چاپ براستہ موٹر وے لاہور جانے کی بجائے گزشتہ بدھ کے روز براستہ جی ٹی روڈ جگہ جگہ اپنے مداحوں اور ہمدردوں سے خطاب کرتے ہوئے روانہ ہوئے۔ ان کی نااہلی کا فیصلہ یقینا ان کے لیے ،ان کے مداحوں اور ان کی پارٹی کے لیے بہت شدید دھچکا ہے۔ میاں نواز شریف گزشتہ تقریباً تیس سال سے پاکستان کی سیاست میں سرگرم ہیں۔ اس تیس سالہ سیاسی کیریئر کے دوران توقع کی جانی چاہیے کہ وہ ملک کے آئین اور قانون سے کماحقہ واقف ہو چکے ہوں گے۔ لیکن نااہلی کا فیصلہ سننے کے بعد تقریباً ایک ہفتہ سے وہ عوامی جلسوں کے حاضرین سے پوچھ رہے ہیں بتاؤ میرا قصور کیا ہے؟ مجھے کیوں نکالا گیا؟ میں نے کوئی کرپشن نہیںکی کوئی کک بیک نہیں لی' کوئی کمیشن حاصل نہیں کیا۔ پھر مجھے کیوں نکالا گیا؟ ۔ اپنا قصور عوام سے دریافت کرتے کرتے انہوں نے آخر گوجرانوالہ میں اپنے آپ کو مظلوم قرار دے دیا ہے اور جلسہ گاہ میں ہی اپنے مخاطبین سے سوال کیا ہے ''مظلوم کا ساتھ دو گے؟'' نواز شریف کی یہ مظلومیت سب سے پہلے ان کی بیگم کی انتخابی مہم میں کام آئے گی۔ یا کم ازکم وہ ایسا سمجھتے ہیں۔ لیکن سپریم کورٹ کے ان کی نااہلی کے فیصلہ کے حوالے سے وہ اپنے آپ کو مظلوم کہہ کر بالواسطہ طور پر سپریم کورٹ کو ظالم کہہ رہے ہیں جس نے ملک کے آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ دیا ہے۔ اس لاہور واپسی کے سفر کے دوران انہوں نے سپریم کورٹ کے بارے میں اور بھی نازیبا ریمارکس دیے ہیں۔ لیکن روایت ہے کہ عدلیہ کے فیصلے بولتے ہیں جج نہیں بولتے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پانچ معزز لوگ بیس کروڑ عوام کے ووٹ حاصل کرنے والے کو گھر بھیج دیتے ہیں کیا یہ مذاق نہیں ؟ انہوں نے کہا کہ ''میرا مقدمہ عوام کی عدالت میں ہے۔'' ''انہوں نے کاغذوں میں نکالا'' آپ پھر وزیر اعظم بنا دیں گے۔ اس طرح وہ عوام کے ووٹ اور قانون عدالت کے فیصلے کو ایک دوسرے کے مقابلے پر کھڑا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور عدلیہ کے خلاف محاذ آرائی کی فضا پیدا کر رہے ہیں۔سوال یہ ہے کہ آیا میاں نواز شریف واقعی مظلوم ہیں اور عدالت عظمیٰ نے ان کے مقدمے میں قانون و انصاف کے تقاضوں کے مطابق فیصلہ کرکے ان پر کوئی ظلم کر دیا ہے۔ کیا واقعی میاں نواز شریف کو یہ معلوم نہیں کہ انہیں کس وجہ سے نکالا گیا؟
سابق وزیر اعظم نے وزارت عظمیٰ کے عہدے کا حلف اُٹھاتے ہوئے کہا ''میں بحیثیت وزیر اعظم پاکستان اپنے فرائض کارہائے منصبی ایمانداری' اپنی انتہائی صلاحیت اور وفاداری کے ساتھ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور اور قانون کے مطابق اور ہمیشہ پاکستان کی خود مختاری ' سا لمیت' استحکام ' یک جہتی اور خوش حالی کی خاطر انجام دوں گا۔''اس میں ایمانداری ' وفاداری اور دستور و قانون کے تقاضوں سے کماحقہ واقفیت لازمی عناصر ہیں۔ یہ ان کے حلف کے اس حصہ سے بھی ظاہر ہے کہ '' میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کو برقرار رکھوں گا' اس کا تحفظ اور دفاع کروں گا۔'' عدالت عظمیٰ کا ادارہ آئین پاکستان کے تحت قائم ہونے والا ادارہ ہے۔ اس طرح عدالت عظمیٰ کا احترام ، اس کا تحفظ اور اس کا دفاع بھی حلف اُٹھانے والے کی ذمہ داری ہے۔
میاں صاحب کی نااہلی کی وجہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق ان کا دوسرے ملک میں اقامہ کے تحت منفعت بخش ملازمت حاصل کرنا اور اسے انتخابی گوشواروں میں ظاہر نہ کرنا ہے۔ کیا ایمانداری اور وفاداری کا تقاضا نہ تھا کہ وہ اس حقیقت کو انتخابی گوشواروں میںآشکار کرتے کہ وہ کسی دوسرے ملک میں منفعت بخش ملازمت پر فائز ہیں۔ کیا اخلاق کا تقاضا نہ تھا کہ وہ اپنی بیرون ملک ملازمت کی حقیقت کوبیان کردیتے۔ میاں صاحب کہتے ہیں کہ ''مجھے اپنے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ وصول کرنے کی پاداش میںنکالاگیا''۔ تنخواہ وصول کرنا یا نہ کرنا موضوع نہیں ہے۔ فائدہ بخش ملازمت کو اخفاء میں رکھنا موضوع ہے۔ میاں صاحب کہتے ہیں کہ ''کرپشن کرو تو مشکل کرپشن نہ کرو تو مشکل'' ۔ انہیں اس مشکل میں پڑنا ہی نہیںچاہیے تھا اور الیکشن کمیشن کے گوشواروں میں اس ملازمت کااندراج کر دینا چاہیے تھا۔وہ کہتے ہیں '' بھلاکوئی اپنے بیٹے کی کمپنی سے بھی تنخواہ لیتاہے؟'' ان سے پوچھا جا سکتا ہے کہ رکن پارلیمنٹ ہوتے ہوئے بھلا کوئی اپنے بیٹے کی بیرون ملک کمپنی میں ملازمت اختیار کرتا ہے؟ ایمانداری اور آئین پاکستان سے وفاداری کاتقاضا تھا کہ انتخابی گوشواروں میں اس ملازمت کے بارے میں جو انہوں نے ایک دوسرے ملک میںقائم ہونے والی اپنے بیٹے کی کمپنی میں اختیار کی کااندراج کر دیتے۔یہ اخفاء آئین اور قانون کے مطابق ان کی نااہلی کا سبب بنا، ان پر کوئی ظلم نہیں ہوا ہے۔قانون کے تقاضے پورے کیے گئے ہیں۔جے آئی ٹی کی تفتیش سے پہلے کبھی نہیں سنا تھا کہ میاں نواز شریف دوبئی میںایک کمپنی کی ملازمت بھی کرتے ہیں۔یہ تو جے آئی ٹی کی تفتیش کی وجہ سے معلوم ہوا۔جے آئی ٹی کی تفتیش کی نوبت ہی نہ آتی اگر میاں صاحب اور ان کے اہل خاندان سپریم کورٹ کے سامنے سو سے زیادہ پیشیوں میں لندن فلیٹس کی خریداری کے لیے جو رقم صرف کی گئی اس کے حصول کے ذرائع' اس پر ادا کیے ہوئے ٹیکسوں اور اس کے لندن تک پہنچنے اور فلیٹس کی خریداری میں کام آنے کی ٹریل بتا دیتے۔ میاں صاحب نے ایوان اسمبلی میں کہا تھا کہ یہ ہیں وہ وسائل اور ذرائع جن سے لندن فلیٹس خریدے گئے۔ اگر وہ عدالت کے روبرو وہ ذرائع اور وسائل آشکار کردیتے تو وہیں مقدمہ ختم ہوجاتا۔لیکن منی ٹریل مدعا علیہان نے نہیں بتائی۔ مظلومیت کاجو تاثر وہ دے رہے ہیں اس کی وجہ سے ممکن ہے ان کی بیگم کلثوم نواز کومظلومیت کاووٹ مل جائے لیکن وہ جو قانون پر ووٹ کو حاوی کرنے کا پروگرام دینے کا اعلان کر رہے ہیں اسے کون تسلیم کرے گا۔

متعلقہ خبریں