جب وہ میدان میں آیا تو برا مان گئے

جب وہ میدان میں آیا تو برا مان گئے

اب ہم وطن عزیز کی سیاست کی کون کونسی خوبیاں بیان کریں۔ اس کی بے حسی پر ماتم کریں' کٹھورپن پر آنسو بہائیں یا پھر اس کی سنگدلی کا رونا روئیں۔ روزانہ نت نئے واقعات سامنے آرہے ہیں۔آج جب میں یہ کالم لکھنے بیٹھا ہوں سابق وزیر اعظم کی اسلام آباد سے لاہور کو روانگی کا چوتھا روز ہے۔ اس تمام عرصہ میں تمام پرائیویٹ ٹی وی چینلز پر اس جلوس کی لمحہ بہ لمحہ خبریں دی جا رہی ہیں جس نے قوم کے ذہنوں کو مائوف کرکے رکھ دیا ہے اور انہیں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نفسیاتی مریض بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اس بے نتیجہ مشق کا کیا نتیجہ نکلتا ہے اس کا علم تو اپنا جلوس نکالنے والوں کو ہی ہو سکتاہے۔ کل انہوں نے گوجرانوالہ میں کہا کہ لوگو! میرے پیغام کا انتظار کرو۔ یہ کیا پیغام ہوگا۔ یہ بھی ان کو ہی معلوم ہوگا۔ اب تک سفر کے دوران وہ اپنے خطابات میں ایک نہایت ہی خطرناک قسم کا بیانیہ ترتیب دے رہے ہیں جس میں غصہ' تلخی اور شکوہ نمایاں ہے۔ ان کے سیاسی حریفوں کو یہ حقیقت مان لینی چاہئے کہ ان کی ریلی کی کامیابی میں کوئی شائبہ نہیں۔ ظاہر ہے وہ ایک ایسے صوبے میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ جہاں سے انہوں نے ہیوی مینڈیٹ حاصل کیا ہے۔ انتظامیہ کے تمام وسائل ان کی پشت پر ہیں ۔ نئی کابینہ کے تمام نئے وزیر' ان کی جلوس میں نظر آرہے ہیں اور ان سے ایسی حرکتیں بھی سرزد ہو رہی ہیں جو وزارت کے منصب پر فائز کسی شخص کو زیب نہیں دیتیں۔ ہم نے کسی وزیر کو جلسے میں غبارے پھلاتے اور ہوا میں اڑاتے پہلی بار دیکھا ہے۔ کچھ وزیر کھلی گاڑی میں پاگل رقص کرتے بھی پہلی بار نظر آئے ہیں۔ ہم نے تحریر کا آغاز موجودہ سیاست کی سنگدلی سے کیا تھا۔ کل گوجرانوالہ کے مقام پر جلوس میں شامل دو افراد لقمہ اجل بن گئے۔ ان میں دس بارہ سال کی عمر کا ایک بچہ حامد تھا جو پھول نچھاور کر رہا تھا کہ پھسل پڑا۔ پروٹوکول کی گاڑی اس کے پائوں پر سے گزر گئی۔دوسری کے ٹائرز اس کے پیٹ پر پڑے اور تیسری نے اس کی کھوپڑی کو کچل دیا۔ سنگدلی کا اس سے بڑا مظاہرہ اور کیا ہوسکتا ہے۔ اس جلوس میں ایک پچپن سالہ شخص موٹر سائیکل سے ٹکرا کر مر گیا۔ ہمیں افسوس ان سانحوں پر اس رد عمل سے ہوا جو جلوس میں شامل کچھ لیڈروں کی جانب سے سامنے آیا۔ وفاقی وزیر جو اپنی چرب زبانی کے لئے کافی شہرت رکھتے ہیں اس موقع پر اپنے خطاب میں حامد کو راہ جمہوریت کا پہلا شہید قرار دیا۔ ایک دوسرے صاحب نے کہا' اس نوع کی جدوجہد میں شہ شہادتیں کوئی نئی بات نہیں۔ قیام پاکستان کے موقع پر بھی تو سات لاکھ افراد خون کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ اب ہم انہیں کیا بتائیں کہ وہ قربانیاں جو سات لاکھ سے بہت زیادہ تھیں ایک اعلیٰ و ارفع مقصد کے لئے پیش کی گئی تھیں۔ جان اچکزئی، ہمیں اس ذات شریف کاکوئی حدود اربعہ معلوم نہیں، گوجرانوالہ کے سانحے میں اموات کا یہ مضحکہ خیز جواز پیش کیا کہ جلوسوں میں یہ واقعات روز کامعمول ہیں۔ پی ٹی آئی کے جلسوں میں بھی تو لوگ مرتے رہے۔ ان بیانات سے موجودہ سیاست کی بے حسی اور سنگدلی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ہم یہاں تک پہنچے تھے کہ ہمارے ایک عزیز دوست نے اپنے صبح بخیر کے پیغام میں جہاں ہمیں ڈھیر ساری دعائیں دی ہیں تو ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ علم کی پہچان عاجزی ہے اور جاہل کی پہچان تکبر ہے۔ ہم اس جملے میں اس اضافے کی اجازت چاہتے ہیں کہ جہالت جب پوری کروفر کے ساتھ قوم پر مسلط ہو جائے تو اس کے نتائج بھی بڑے خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ اس کی ایک حالیہ مثال وہ ٹویٹ ہیں جو سابق وزیر اعظم کے قریبی عزیز اور نئی کابینہ کے ایک وزیر نے اپنے قائد کی تعریف و توصیف میں جاری کیاہے ہم ان کے قائد کو بلا شبہ ایک راسخ العقیدہ مسلمان سمجھتے ہیں۔ لیکن ان کے نادان عقیدت مند نے انہیں رسم چاپلوسی کو نبھاتے ہوئے تاریخ اسلام کے ایک ایسے بد بخت کردار سے تشبیہہ دی ہے جسے حیدر کرار حضرت علی کرام اللہ وجہہ نے جنگ خیبر میں جہنم رسید کیا تھا۔ ہمیں تو پرائمری جماعتوں میں ہی اساتذہ نے بنا دیا تھا اور جمعے کے خطبوں میں بھی علماء کرام سے تواتر کے ساتھ سنتے آرہے ہیں کہ اس بد بخت اعظم کا نام مرحب تھا جو خاکم بدہن یثرب سے صنعاء کی وادی تک اسلام کو بے دخل کرنا چاہتا تھا۔ لیکن اس وفاقی وزیر نے جو دریدہ ذہنی میں بے مثال ہیں بغیر سوچے سمجھے یہ شاہکار ٹویٹ داغ دیا
پہلے للکار رہے تھے کہ کہاں ہے مرحب
جب وہ میدان میں آیا تو برا مان گئے
اس کے جواب میں ہم یہی عرض کرسکتے ہیں کہ اگر آپ نے اپنے قائد کو جہالت کی پوٹلی میں لپیٹ کر مرحب کے خطاب سے نوازا ہے۔ تو ہم آپ کے مبلغ علم پر ماتم ہی کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں