ذمہ دار کون؟

ذمہ دار کون؟

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی نااہلی کے بعد مسلم لیگ ن کی طرف سے نکالی جانے والی ریلی لالہ موسیٰ میں ''قاتل ریلی'' کے نام سے اس وقت مشہور ہوئی جب میاں نواز شریف کے قافلے میں شامل بی ایم ڈبلیو گاڑی کی ٹکر سے 12سالہ حامد جان کی بازی ہار گیا۔ وہ معصوم جو اور سابق وزیر اعظم پر پھول نچھاور کرنے آیا تھا، وہ معصوم پھول جو اپنے نااہل وزیر اعظم کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب تھا، وہ خوبصورت کمسن بچہ جسے یہ تک معلوم نہ تھا کہ جس شخص کو ملک کی سب سے بڑی عدالت نے نااہل قرار دے کر گھر بھیجا ہے لوگ اس پر پھول کیوں نچھاور کر رہے ہیں، لوگ بڑی تعداد میں اس کے استقبال کے لیے اپنے کام کاج چھوڑ کر کیوں آئے ہیں؟ وہ بچہ تو بس دوسرے لوگوں کی دیکھا دیکھی ہجوم کو دیکھنے چلا آیا تھا۔ کیوں کہ حامد جیسے کمسن بچوں کو گاڑیاں دیکھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔ میرا بڑابیٹا 6سال کا ہے۔ ہمارے گھر کے قریب سے جی ٹی روڈ گزر رہا ہے، ساتھ ہی ایئرپورٹ بھی ہے جہاں پر اکثر و بیشتر وی آئی پی شخصیات کے قافلے گزرتے ہیں، ان قافلوںکے گزرنے کے لیے روٹ لگا ہوتا ہے، میرا بچہ جب چمکتی اور ہوٹر بجاتی گاڑیوں کو دیکھتا ہے تو بہت اچھلتاہے اور مجھے متوجہ کرکے کہتاہے بابا! وہ دیکھوپولیس کی گاڑیاں جا رہی ہیں۔ حامد بھی شاید ان چمکتی اور ہوٹر بجاتی گاڑیوں کودیکھنے آیا تھا ورنہ ایک 12سال کے بچے کو کیا معلوم کہ وزیر اعظم کا استقبال کیا ہوتا ہے؟ ٹی وی چینلز پر جو ویڈیوز دکھائی گئی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ میاں نواز شریف کے قافلے میں شامل گاڑیاں اور ان کے ڈرائیور کس طرح بدمست تھے۔ جس گاڑی نے حامد کو ٹکر ماری تھی اگر اس گاڑی کا ڈرائیور بریک لگا کر گاڑی روک لیتا تو حامد کی قیمتی جان بچنے کے قوی امکانات تھے کیونکہ پہلی گاڑی حامد کی ٹانگ کے اوپر سے گزری تھی جب کہ دوسری اور تیسری گاڑی حامد کے پیٹ پر سے گزری تھیں۔وزیر اعظم کے قافلے میں شامل گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو کیا یہ معلوم نہیں تھا کہ آبادی والے علاقے میں رفتار آہستہ رکھی جاتی ہے؟ ستم بالائے ستم تو یہ کہ معصوم جان کو کچلنے کے باوجود قافلے میں سے کوئی نہیں رکا ،کسی کو بھی انسانیت کے کچلے جانے کا دکھ نہیں ہوا،سابق وزیر اعظم کے قافلے میں کم ازکم چار ایمبولینسز اور ایک موبائل کنٹینر ہسپتال تھا۔ ان میں سے کسی نے بھی بچے کو طبی امداد نہیں دی۔ کیا گاڑیوں میں بیٹھے لوگوں کو بچے کے گاڑی کے نیچے آ جانے کا علم نہیں ہوا؟ ایسا ہر گز نہیں بلکہ چار گاڑیاں گزرنے کے بعد ایک بڑی گاڑی رکی' آس پاس کے لوگوں نے بچے کو اُٹھایا تو انہیں اندازہ ہو گیا ہو گا لیکن ویڈیو میں صاف دکھائی دے رہا ہے کہ میاں نواز شریف کا قافلہ رکا نہیں ،یوں جو قیمتی جان بروقت طبی امداد سے بچ سکتی تھی وہ نہ بچ سکی۔گجرات میں ہی فوری طور پریہ خبریںچلنا شروع ہو گئی تھیں کہ سابق وزیر اعظم کے قافلے نے ایک کمسن بچے کو کچل دیا ہے لیکن سابق وزیر اعظم نے گجرات میں اپنی تقریر میں اس سانحہ کا ذکر تک نہ کیا۔ جب میڈیا نے اس بات کو مسلسل نشر کیا تو گوجرانوالہ میں اس کا ذکر کیااور کہا وہ بچے کے گھر جائیں گیااور انہیں اس بات کاافسوس ہے۔ جب کہ لیگی رہنماؤں خواجہ سعد رفیق اور کیپٹن صفدر نے انوکھی منطق پیش کی کہ کمسن بچے نے ان کے مشن کے لیے جان کی قربانی دی ہے۔ جس طرح تحریک پاکستان میں لوگوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا اسی طرح جمہوریت کے لیے بچے نے اپنی جان کی قربانی دی ہے۔ ایسی منطق پیش کرتے ہوئے انہیں شرم آنی چاہیے۔ بچے کے والدین زندہ ہیں جنہیں اپنے بچے کی وفات کا سن کر غشی کے دورے پڑ رہے ہیں۔ حامد کے والد نے جب یہ سنا تو اسے دل کا دورہ پڑا ، وہ اب بھی ہسپتال میں ہے۔ بچے کی جان نواز شریف کے مشن کے لیے نہیں گئی بلکہ سچ تویہ ہے کہ بچے کے قتل کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے۔ مجھے بعض نکات میں عمران خان سے اتفاق کرنا پڑتا ہے کہ پورا سسٹم نواز شریف کو سپورٹ کر رہا ہے وہ اس طرح کہ حامد کے قتل کی ایف آئی آر نامعلوم افراد کے خلاف کاٹی گئی ہے ۔ وہ قافلہ جو 4دنوں سے رواں دواں ہے، جس کی ایک ایک گاڑی کی بے شمار فوٹیج موجود ہیں ' جس جگہ اور جس گاڑی نے حامدکو ٹکر ماری اس کی نمبر پلیٹ اور مکمل فوٹیج موجود ہے'ان تمام تر شواہد کے باوجود کیا اس گاڑی میںبیٹھے افراد نامعلوم ہیں؟ ۔حامد معصوم پھول تھا' گناہوں سے پاک۔ اپنے والدین کے لیے بھی بخشش کا ذریعہ بنے گا لیکن جنہوں نے بدمستی میں ایک جیتی جاگتی جان کو کچل دیاوہ اس گناہ کے ساتھ زندہ رہ پائیں گے؟ وہ میڈیا پر آکر عوام کو خواہ کتنی ہی تسلیاں کیوں نہ دیں لیکن کیا وہ اپنے ضمیر کو مطمئن کر پائیں گے؟ تسلیم کہ نواز شریف کی جان کو خطرہ تھالیکن جس طرح نوازشریف کی سیکورٹی پر مامور کمانڈوز استقبال کے لیے آئے ہوئے لوگوں کو دھکے مار رہے تھے ،کیا اپنے شہریوں کے ساتھ اسی طرح کا سلوک روا رکھا جاتا ہے؟سکیورٹی اہلکاروں کی بے رخی کو دیکھتے ہوئے میں نے اندازہ لگا لیا تھا کہ جس طرح سیکورٹی اہلکار بدمستی کامظاہرہ کر رہے ہیں اس سے کوئی انہونی ضرورہو کر رہے گی۔ ان کمانڈوز کو شایدیہ علم نہیںتھاکہ جس شخص کے لیے وہ پاکستان کے شہریوں کو چیونٹیوں کی طرح کچل رہے ہیں ' اسے بھی زوال ہے ' اس کے اقتدار کو بھی زوال ہے۔ لیکن لیگی اس واضح پیغام اور نوشتہ دیوار کو سمجھنے کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیںہیں۔

متعلقہ خبریں