ڈاکٹر رتھ فائو

ڈاکٹر رتھ فائو

ڈاکٹر رتھ فائو 9 ستمبر 1929ء کو جرمنی میں پیدا ہوئیں اور 10اگست 2017ء کو کراچی میں انتقال کرگئیں یہ پاکستان میں جذام کے مریضوں کے لیے فرشتہ رحمت تھیں ان کی ساری زندگی جذام کے خلاف جنگ کرتے ہوئے گزری ان کی چار بہنیں اور ایک بھائی تھا۔ زندگی میں پہلا صدمہ انہیں اس وقت برداشت کرنا پڑا جب دوسری جنگ عظیم میں اس کا گھر بمباری سے مکمل طور پر تباہ ہو گیاجنگ کے بعد جب روس نے مشرقی جرمنی پر قبضہ کر لیا تو اس نے اپنے خاندان کے ساتھ مغربی جرمنی میں رہائش اختیار کرلی۔ اس نے Mainesیونیورسٹی مغربی جرمنی میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کی جنگ کی ہولناکیوں کی وہ چشم دید گواہ تھیں انہوں نے ہزاروں لوگوں کو دوسری جنگ عظیم میں اپنی آنکھوں کے سامنے مرتے ہوئے دیکھا تھا۔شاید وہ زندگی کی حقیقت کو پاگئی تھیں وہ ساری زندگی دکھی انسانیت کی خدمت کرتی رہیں یوں کہیے انہوں نے دکھی انسانیت کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنالیا تھا۔ وہ رنگ ،نسل ،زبان ، مذہب سے بالاتر ہو کر صرف اور صرف دکھی انسانوں کی خدمت کرتی رہیں اس کی زندگی کا ایک ہی مقصد تھا کہ انسان کے دکھ درد کو اس کی تکالیف کو کم کیا جائے۔ وہ ایک فلاحی ادارے Daughters of the Heart of Mary میں شامل ہوگئیں اس ادارے نے انہیں جنوبی ہندوستان بھجوایا تاکہ وہاں رہ کر وہ مریضوں کا علاج کریں۔ لیکن قدرت کو کچھ اور منظور تھا وہ ویزے کے مسائل کی وجہ سے کراچی میں آکر پھنس گئیں دراصل اللہ جل شانہ نے پاکستان میں جذام کے ہزاروں کی تعداد میں موجود سسکتے بلکتے مریضوں کی فریاد سن لی تھی۔ ڈاکٹر رتھ فائو نے کراچی اور پاکستان کے دوسرے بہت سے علاقوں میں جاکر کوڑھ کے مریضوں کی ابتر حالت دیکھی ۔یہ وہ بدقسمت مریض تھے جنہیں ان کے خاندان چھوڑ چکے تھے۔ بہت سے مریض ایک بڑے سے احاطے میں معاشرے سے الگ تھلگ زندگی گزارتے تھے لوگ احاطے کے باہر کھڑے ہوکر ان کے لیے کھانے پینے کی اشیاء پھینک دیا کرتے تھے۔ وہ ایسے مریض تھے جن کا آخری وقت چوہوں کی خوراک بنتے گزرتا تھاان کے بہن بھائی اس خوف سے ان کے قریب نہیں پھٹکتے تھے کہ کہیں وہ بھی جذام جیسے موذی مرض کا شکار نہ ہوجائیں۔اللہ پاک رحیم ذات ہے وہ اپنے بندوں کے حال سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔ اس نے ڈاکٹر رتھ فائو کی صورت میں ایک فرشتہ پاکستان کو عطا کردیا! پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں جذام کے مریضوں کی یہ عبرت ناک حالت دیکھ کر ڈاکٹر رتھ نے اپنی ساری زندگی ان مریضوں کے لیے وقف کرنے کا عہدکیا۔ اس نے اپنے خوبصورت وطن مغربی جرمنی اور اس کی آرام دہ زندگی کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ کر اپنی بقیہ زندگی پاکستان میں ان مریضوں کا علاج کرتے ہوئے گزاردی ! ڈاکٹر رتھ فائو کی زندگی کا مقصد ان کے اس چھوٹے سے جملے میں پوشیدہ ہے ایک مرتبہ انہوں نے کہا: ہم سب مل کر بھی جنگ کو نہیں روک سکتے لیکن ہم میں سے بہت سے لوگ جسم اور روح کی تکالیف کو کم تو کرسکتے ہیں!کیا یہ ہم سب کے لیے ایک روشن جملہ نہیں ہے ؟خاص طور پر ڈاکٹر رتھ فائو کی زندگی ہمارے ڈاکٹروں کے لیے مشعل راہ ہے۔ وہ اس روشن شمع سے روشنی حاصل کرکے اپنی زندگی کوایک مقصد دے سکتے ہیں۔ کارآمد بنا سکتے ہیں!1960ئمیںجب اس کی عمر صرف اکتیس برس تھی اس نے پاکستان میں جذام کے مریضوں کے لیے اپنی زندگی کے شب و روز وقف کردیے ڈاکٹر رتھ فائو نے کراچی میں اتفاقاًکوڑھیوں کا ایک احاطہ (lepers colony) دیکھ لیا۔ یہ احاطہ اس وقت کے میکلوڈ روڈ اور آج کے چندریگر روڈ کی پشت پر سٹی ریلوے سٹیشن کے قریب واقع تھا جس میں جذام کے مریض زندگی اورکی کشمکش میں مبتلا عبرت ناک زندگی گزار رہے تھے۔ ان کے ماں باپ بہن بھائی انہیں عرصہ ہوا خیر باد کہہ چکے تھے۔ ڈاکٹر رتھ فائو نے اسی جگہ ایک چھوٹے سے جھونپڑے میں بیٹھ کر اپنا کام شروع کردیا ۔ 1963ء میں ایک لپرسی سنٹر خریدا گیا جہاں پورے پاکستان بلکہ افغانستا ن سے بھی کوڑھ کے مریض آنے لگے میری ایڈیلیڈ لپرسی سنٹر اس وقت آٹھ منزلہ عمارت ہے جب 56 برس پہلے یہاں ڈاکٹر رتھ فائو نے کام شروع کیا تو یہ ایک چھوٹا سا کلینک ہوا کرتا تھا لیکن ان کی کوششوں کی وجہ سے آج اس لپرسی سنٹر کے 157لپرسی کنٹرول سنٹر ہیںجس میں آٹھ سو افراد شب و روز مریضوں کی خدمت کرتے دیکھے جاسکتے ہیں۔ ڈاکٹر رتھ فائو کی بے لوث خدمت ، شوق اور لگن کو دیکھتے ہوئے حکومت پاکستان نے اسے منسٹری آف ہیلتھ اور سوشل ویلفیئر میں وفاقی مشیر کے عہدے پر تعینات کردیا مگر ڈاکٹر رتھ فائو جیسی شخصیات عہدوں اور اعزازات سے بے نیاز ہوتی ہیں۔ان کے اعزازات پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے: آرڈر آف میرٹ جرمنی 1969 ،ستارہ قائداعظم 1969، ہلال امتیاز 1979، ہلال پاکستان 1989،رومن میگ سیسے ایوارڈ 2002،جناح ایوارڈ فار 2002،ڈاکٹر آف سائنس آغا خان یونیورسٹی کراچی 2004،نشان قائداعظم 2010!وہ ساری زندگی لپرسی کے مریضوں کی خدمت کرتی رہیں۔ ان کے پرانے رفیق کار ڈاکٹر منظور کا کہنا ہے کہ وہ مریضوں کا علاج کرتے وقت ایک ڈاکٹر سے زیادہ ان کی کوئی قریبی رشتہ دار نظر آتی تھیں اسے اپنے مریضوں کا بہت زیادہ خیال تھا ان کے ساتھ اتنی محبت تھی کہ ان کے پیشاب کے بیگ بھی خود تبدیل کیا کرتی تھیں کوہاٹ کے رہنے والے ایک مریض سید قاسم کہتے ہیں کہ ان کی موت کی خبر سننے کے بعد وارڈ کے سارے مریض خاموش ہوگئے ہیں۔ ڈاکٹر اور نرسنگ سٹاف بہت زیادہ اداس ہے۔ ہم اپنے آپ کو یہ کہہ کر تسلی دے رہے ہیں کہ اللہ پاک نے ڈاکٹر رتھ فائو کے روپ میں دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے ایک فرشتہ بھیجا تھا جسے اس نے واپس بلا لیا ہے !۔

متعلقہ خبریں