اس کا روان کامیاں صاحب کو نقصان ہے

اس کا روان کامیاں صاحب کو نقصان ہے

ایک سابق وزیرا عظم ، اپنے حواریوں کا قافلہ لیے گزشتہ تین دنوں سے لاہور کی جانب رواں دواں ہیں ، اس وزیراعظم کو اس ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے نااہل قرار دیا ہے لیکن وہ مسلسل کئی دنوں سے لوگوں سے پوچھ رہے ہیں کہ ان کا قصور کیا ہے ، لوگوں کو اکسارہے ہیں کہ وہ عدالت سے سوال کریں کہ آخر عدالت عظمیٰ نے انہیں کیوں نااہل قراردیا ہے ؟ یہ سوال جواب سیاست کا حصہ تو ہو سکتے ہیں ۔ ان کے لہجے میں جو نادانی اور معصومیت اس سوال کے ساتھ ہی جھلکنے لگتی ہے وہ بھی بہت بھلی معلوم ہوتی ہے لیکن ایک سوال ہے جو کس طور نچلا بیٹھنے کو تیار ہی نہیں ۔ جو ذہن میںمسلسل یوں پھدک رہا ہے جیسے تیز آنچ پر مکئی کے دانے پھدکنے لگتے ہیں ۔ سوال اس اضطراب میں مبتلا ہے کہ اسے کوئی جواب مل جائے اور سوال یہ ہے کہ میاں صاحب کو اس کارواں کا مشورہ کس نے دیا ۔ ہم سب تو اور باتوں کی جانب متوجہ ہیں ۔کوئی کہتا ہے کہ چوہدری نثار اس قافلے میں موجود نہیں ، کوئی کہتا ہے کہ شرکاء کی تعداد ہی قابل ذکر نہیں ۔ ہمارے ایک جاننے والے سرکاری افسرذکر کر رہے تھے کہ گاڑیاں اس قافلے میں آپس میں ٹکرا رہی ہیں ۔ خراب ہوتی ہیں تو سرکاری اداروں کی ذمہ داری لگائی جارہی ہے کہ انہیں ٹھیک کروائیں ۔اور لوگ کروا بھی رہے ہیں ۔ ان گاڑیوں کی تعداد بھی کچھ زیادہ نہیں ۔ کہیں سے تہمینہ درانی کی ٹویٹ کا ذکر آجاتا ہے کہ اس ٹویٹ میں یقینا شہباز شریف کی مرضی بھی شامل رہی ہوگی ۔ اور یہ بات بھی غلط نہیں کہ میاں صاحب نے اپنے بھائی کو ایک مشکل کا شکار کر رکھا ہے ۔ لیکن میں مسلسل اس بات میں اُلجھی ہوئی ہوں کہ اس مظاہرے ، اس لانگ مارچ ، اس کارواں کا مشورہ میاں صاحب کو کس نے دیا کیونکہ میرے نزدیک یہ جس کسی نے بھی کیا ہے وہ میاں صاحب کا خیر خواہ محسوس نہیں ہوتا ۔ ایک طویل عرصہ میاںنواز شریف اور ان کے حواری کہتے رہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ انہیں قبول ہوگا شاید انہیں یقین ہوگا کہ وہ سپریم کورٹ کو اپنی مرضی کے فیصلے پر منالیں گے لیکن اس ملک میں یہ کایا پلٹ چکی ہے ۔ چھوٹی عدالتوں میں معاملات کو اپنی مرضی کا رُخ دینا ممکن سہی لیکن عدالت عالیہ میں ایسا ناممکن ہوا کرتا ہے ۔ میاں صاحب کو اپنی مرضی کا رُخ خرید لینے کی اتنی عادت ہو چکی ہے کہ انہیں یہ بھول ہی گیا کہ ان کا سامنا اب کس سے ہے۔ عدالت عالیہ کے اس فیصلے کے بعد ، میاں صاحب کو چاہیئے تھا کہ چپ چاپ اپنا سامان اکٹھا کرتے اور جاتی عمرہ میں جاکر اپنی زندگی کے دن بسر کرتے ۔ بھائی کو اس کا وہ حصہ دینے کی کوشش کرتے جو ایک عرصے سے میاں شہباز شریف کو چبھ رہا ہے ۔ لیکن جانے کس نے مشورہ دیا ہوگا کہ میاں صاحب کو ایک کارواں کی صورت میں لاہور چلناچاہیئے ۔ راستے میں لوگوں کومہمیز کرنا چاہئے کہ وہ عدالت عالیہ سے جواب طلب کریں ۔ انہوں نے میاںنواز شریف کو یہ یقین دلایا ہوگا کہ اس کاوش میں لوگ خواب غفلت سے جاگ اٹھیں گے ان کا محبوب لیڈر جب ان کے درمیان یہ فریاد لے کر جائے گا تو لوگ جوق در جوق ان کے ساتھ ہولیں گے ۔ عوام کی طاقت کا ایسا مظاہرہ ہوگا کہ عدالت کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنا پڑے گی ۔ ایک ایسے شخص کے لیے جس کے سامنے سے مستقبل کی امیدہی مٹا دی گئی ہو یہ منظر یقینا دلفریب ہوگا ۔ یقین کرنے کو دل بھی چاہا ہوگا ۔ کوئی سچ بولنے والا کبھی اپنے ارد گرد بیٹھنے دینے کی ہمت کی ہوتی تو وہ انہیں سمجھا تا کہ ایسا نہ کریں ۔ ایسا کرنے سے آپ عوام کی جانب سے کسی قسم کی ہمدردی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے ۔ اس ملک کے عوام کا ایک مزاج ہے ، یہ گرنے والوں کو اٹھانے کے لئے بے تاب ہو جاتے ہیں ۔
اس قدر بے تاب کہ انہیں یہ تک بھول جاتا ہے کہ اس شخص کے ہاتھ میں جو خنجر ہے وہ اسے انہیں کے سینے میں اتاردے گا ۔ اس سب کے برعکس میاں صاحب کومشورہ دیاگیاکہ وہ ایک کارواں لے کر لاہور چلیں ۔ جگہ جگہ قیام کریں تاکہ عوام کے مسائل میں اضافہ نہ ہو ۔ تھوڑی بہت ہمدردی جوان کے دلوں میں میاں صاحب کے لئے جنم لے سکتی ہے اسکی بھی کوئی گنجائش باقی نہ رہے ۔ لوگ مشکلات کا شکار ہو ں گے تو ایک نااہل وزیرا عظم کو اور بھی کوسیں گے اور جان چھڑا نے کی کوششیں کریں گے ۔ یہ کارواں میاں صاحب کی سیاست کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو ۔ اب ہم دیکھ رہے ہیںیہی ہورہا ہے ۔ میاں صاحب لوگوں سے خطاب کررہے ہیں اور جو باتیں کر رہے ہیں و ہ سننے والوں کو ایک نئی کوفت میں مبتلا کر رہی ہیں ۔ تہمینہ درانی کی باتیں اپنی جگہ ایک نئے منظر کی جانب اشارہ کر رہی ہیں ۔ میاں صاحب کی سیاست یوں بھی اب ختم ہو چکی ہے ۔ انہیں ان ریفرنسز کی فکر کرنی چاہیے جو نیب کی جانب سے ان کے اور ان کے بچوں کے خلا ف دائر کئے جانے ہیں وہ اور ہی کاموں میں اُلجھے ہیں اور اس کارواں کا انہیں کوئی فائدہ بھی ہونے والا نہیں ۔ ان کے وہی وزراء جو ابھی اپنے دلوں پر جبر کر کے ان کے آ س پاس دکھائی دیتے ہیں ۔ سب کچھ جانتے بوجھتے بھی وہ اپنے پرانے تعلق کی خاطر ان کے ساتھ تو دکھائی دیتے ہیں لیکن میاں صاحب کو اس تعلق کو بھی اس حدتک دبائو کے زیر اثر نہیں لانا چاہیے یہ قافلہ جب تک لاہور پہنچے گا میاں صاحب کی سیاست کو ناقابل تلافی نقصان ہو چکا ہوگا ۔

متعلقہ خبریں