مشرقیات

مشرقیات


یہ تم نے لعنت کس پر بھیجی ؟ ایک مسلمان پر ! کیا یہ سچ ہے ؟ حضرت اُم دردا نے عبدالملک بن مروان سے پوچھا ۔ وہ اُن دنوں مہمان بن کر دمشق گئی تھیں جو بنو اُمیہ کاپائے تخت تھا ۔ نوکر اور پھر گھر کے نوکر کی کوئی عزت نہیں ہوتی ۔اُسے گھڑکتے ہیں جھڑکتے ہیں ، مارتے ہیں پیٹتے ہیں ۔ نکال دیتے ہیں ۔ کچھ ظالم آقا اور بھی ظلم کرتے ہیں نہ جانے کیا کیا ۔ اسلام نے بتا یا ، نہیں یہ بات غلط ہے ۔ وہ بھی اللہ کے بندے ہیں ان کا بھی اسی طرح خیال رکھو جس طرح تم اپنا خیال رکھتے ہو ۔ خود جو کھائیں انہیں کھلائو خود جو پہنو انہیں پہنائو ۔ ان کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر انہیں حقیر اور ذلیل نہ کرو ! اسلام سے پہلے عہد جاہلیت میں جزیرہ نمائے عرب میں خادم یا نوکر جانور وں سے بدتر سمجھے جاتے تھے ۔ یونان اپنی ترقی کے اعلیٰ ترین دور میں بھی خادموں کو کیڑے مکوڑوں سے زیادہ نہیں سمجھتا تھا ۔اور ان سے بڑاا نسانیت سوز سلوک کیا جاتا تھا ۔ ہندوستان کی تاریخ گواہ ہے وہاں عوام کو شدر قرار دیا گیا ۔ حضرت ام درد ا بڑھاپے کے زمانے میں ایک بار عبدالملک بن مروان کی مہمان بنی ۔ راتیں عبادت میں گزرتی تھیں ۔
ایک رات انہوں نے سنا کہ عبدالملک زور زور سے کسی کو آواز دے رہا ہے ۔ شاید وہ نیند سے جاگا تھا ۔ حکمران وقت کی حیثیت سے عبدالملک بڑا سخت مزاج اورا کھڑ واقع ہوا تھا ۔ ویسے تھا وہ بڑا علم والا۔ نہ جانے کیا ضرورت پڑی کہ اس نے اپنے ملازم کو آواز دی اس کے آنے میں دیر ہوئی تو عبدالملک نے غصے میں اپنے خادم پر لعنت بھیجی ، وہ حکمران وقت تھا ، اس کے غصہ کو کون روک سکتا تھا ۔ غصہ آتا ہے تو ہم لوگ بھی بڑی آسانی سے ایک دوسرے پر لعنت بھیجتے ہیں کبھی زبان سے کبھی ہاتھ کے اشارے سے ۔ بعض اسے مذاق سمجھتے ہیں اور اسکی ممانعت کا صحیح اندازہ نہیں رکھتے ۔ حکم ہے کہ ایک مسلمان دوسرے پر کبھی لعنت نہ بھیجے ۔ صحیح مسلم کی فصل آداب میں ہے کہ صبح ہوئی تو حضرت اُم دردا نے عبدالملک سے پوچھا تم نے رات کو کس پر لعنت بھیجی تھی ؟ عبدالملک نے کہا میں اپنے ملازم خاص پر خفا ہورہا تھا ۔ حضرت اُم دردا نے فرمایا کیا وہ مسلمان نہیں ! عبدالملک نے کہا جی ! وہ مسلمان ہے ، حضرت ام دردا بڑی عابد وزاہد صحابیہ تھیں ۔
حضرت ابو دردا ان کے شوہر قرآن اور حدیث کے بہت بڑے عالم تھے ۔ یہی حال حضرت اُم دردا کا بھی تھا ۔ مسلمانوں کو حکم ہے کہ اگر کسی کو غلطی پر دیکھو تو اسے صحیح بات بتائو ۔ یہ حکم عام ہے بڑے چھوٹے کی اس میں کوئی تمیز نہیں ۔ بس اصلاح کی یہ کوشش حکمت و دانائی کے ساتھ ہونا چاہیئے ۔ چنانچہ حضرت اُم دردا نے عبدالملک کو ٹوکا ۔ ذرا بھی اس بات کی پروا نہ کی کہ وہ حکمران وقت ہے ۔ فرمایا کہ شاید تمہیں یا دنہیں رہا کہ حضورۖ نے ہمیں اس بات سے روکا ہے ۔ آپ ۖ کے ارشاد مبار ک کا مطلب ہے کہ کسی مسلمان پر لعنت بھیجنے والا قیامت کے دن میری شفاعت کا مستحق نہ ہوگا ۔ (روشنی)

متعلقہ خبریں