ٹرمپ کا امریکہ…بدلتی ہوئی دنیا میں پاکستان کا مقام

ٹرمپ کا امریکہ…بدلتی ہوئی دنیا میں پاکستان کا مقام

امریکی سفارت خانے کی طرف سے سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین مولانا عبدالغفور حیدری کو اقوام متحدہ کی ایک تقریب میں شرکت کے لیے ویزا جاری کرنے میں نامناسب تاخیر (جسے ٹیکنیکل انکار ہی سمجھا جا سکتا ہے) پر چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے جس سخت ردِعمل کا اظہار کیا ہے سارے پاکستان میں اسے سراہا جائے گا۔ میاں رضا ربانی نے اقوام متحدہ کو خط لکھ دیا ہے کہ جب تک ٹرمپ انتظامیہ اس رویے کی وضاحت نہیں کرتی پاکستانی سینیٹ کا کوئی وفد امریکہ نہیں جائے گا۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جب تک امریکی انتظامیہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری اور سینئر ریٹائرڈلیفٹیننٹ جنرل صلاح الدین کو ویزا کے اجراء میں نامناسب تاخیر کی قابل اطمینان وضاحت نہیں کرتی امریکی کانگریس کے کسی وفد ، کسی رکن یا سفارت کار کا پاکستان کی سینیٹ میں خیر مقدم کیاجائے گا نہ سینیٹ کی کوئی مجلس قائمہ نہ سینیٹ کے رکن کی حیثیت سے کوئی سینیٹر امریکہ کی کانگریس کے کسی وفد یا کسی سفارت کار کا خیر مقدم کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام نیویارک میں اجلاس میں جانے والے وفد کا دورہ منسوخ کردیا ہے۔ امریکی سفارت خانے کے تاخیری حربے استعمال کرنے پر چیئرمین سینیٹ نے اگرچہ سختی سے نوٹس لیا ہے تاہم اس ردِ عمل کو اعتدال پر مبنی ہی سمجھا جانا چاہیے کیوں کہ انہوں نے یہ گنجائش رکھی ہے کہ اگر امریکی سفارت خانہ اپنے رویے کی کوئی وضاحت کرنا چاہے تو کر دے۔امریکی سفارت خانے نے عملًا جس رویے کا اظہار کیا ہے وہ امریکہ کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کی نفی کرتا ہے کہ جن سات مسلمان اکثریت والے ملکوں کے باشندوں کے امریکہ میں داخلے پر انہوں نے صدارتی حکم نامے کے ذریعے پابندی لگائی تھی ان میں پاکستان شامل نہیں۔ امریکی عدالت نے ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارتی فرمان کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے پابندیوں کو مستردبھی کر دیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ان ملکوں کے افراد آزادانہ امریکہ کا سفر اختیار کریں لیکن عملاً مسلمان ملکوں کے باشندوں کے امریکہ میں داخل ہونے کی پابندی جاری ہے جو پاکستان میں امریکی سفارت خانے کے رویے سے ظاہر ہے۔ جب متذکرہ بالا سات ملکوںکے باشندوں کے امریکہ جانے پر پابندی کااعلان کیا گیا تھا تو وہائٹ ہاؤس کے چیف آف سٹاف نے کہا تھا کہ پاکستان کو بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم بعد ازاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے یہ وضاحت آئی کہ پاکستان کے باشندوں پرامریکہ جانے پر پابندی نہیںلگائی جا رہی۔ اس وضاحت کے باوجود پاکستان کی دو قابل احترام شخصیات کو امریکی سفارت خانے کی طرف سے ویزے کے اجراء میں تاخیر جو عملاً انکارکا درجہ رکھتی ہے اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلمان مخالف پالیسی عدالتوں کی طرف سے مسترد کیے جانے کے باوجود امریکہ کی سرکاری پالیسی ہے۔ عدالت میں ٹرمپ کے مسلمان مخالف صدارتی فرمان کے مسترد ہونے کے بعد انہوں نے کہا ہے کہ وہ اس کی جگہ ایک نیا صدارتی فرمان جاری کرنے والے ہیں جس کا مقصد ظاہر ہے یہ ہے کہ عدالتوں کے احکامات کو بائی پاس کرتے ہوئے ٹرمپ کی مسلمان مخالف پالیسی امریکہ کی پالیسی رہے۔ اس نئے صدارتی فرمان کے جاری ہونے سے پہلے ہی نیو یارک سمیت امریکہ کی چھ ریاستوں میں تارکین وطن کی پکڑ دھکڑ شروع ہو گئی ہے اور وہاں مقیم تارکین وطن کو ان کے گھروں میں گھس کر گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ مہم جاری ہے اور صدر ٹرمپ کا اعلان ہے کہ تیس لاکھ تارکین وطن کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ان حقائق سے پاکستان کے حکمرانوں پر واضح ہو جانا چاہیے کہ امریکہ کے نزدیک پاکستان کی حیثیت مسلمان اکثریت کے دوسرے ممالک سے مختلف نہیں۔ ایسی امیدوں اور ایسے بیانات کی کوئی حیثیت نہیں کہ پاکستان اور امریکہ مل کر بین الاقوامی معاملات میں کردار ادا کر سکیں گے۔ اگر امریکہ کی طرف سے کوئی ایسے اشارات آ رہے ہیں تو محض زبانی کلامی کارروائی ہے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اس کی ایک مثال امریکہ کے وزیر دفاع کی پاکستان کے آرمی چیف کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو میں دہشت گردی کے خلاف باہمی تعاون کے عزائم کا اظہار اور دوسری طرف افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر کی سینیٹ میں بریفنگ کے دوران پاکستان میں حقانی نیٹ ورک کی موجودگی پر اصرار اور پاک امریکہ ''پیچیدہ تعلقات پر کلی نظر ثانی'' کی تجویز ہے۔ وزیر دفاع کی آرمی چیف سے گفتگو محض ایک ٹیلی فونی گفتگو تھی جب کہ افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر کا سینیٹ میں بیان ایک باقاعدہ بریفنگ تھی جو پوری ذمہ داری سے تیار کی جاتی ہے۔ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے بھاری اکثریت کے ساتھ برسراقتدار آنے کے بعد دنیا بھر میں جہاں ان کی پالیسیوں کو ناپسند کیا جارہا ہے وہاں دنیا کی سیاسی صورت حال کے پیش نظر سیاسی رویے بھی تبدیل ہو رہے ہیں۔ میڈیا کے توسط سے پاکستانی عوام جانتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکہ اس سے قبل کے امریکہ سے مختلف ہے۔ اگرچہ اوباما کا امریکہ بھی پاکستان کے نقطۂ نظر سے متفق نہیں تھا۔ اس میں بھی بھارت کے نریندر مودی پر مسلمانوں کے قتل عام کا ذمہ دار ہونے کی بنا پر امریکہ میں داخلے کی جو پابندی تھی وہ اٹھائی گئی تھی اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں بھاری بھر کم معاہدے کیے گئے تھے تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکہ کے نزدیک پاکستان مسلم اکثریت کا ملک ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان دنیا کو ''مسلم انتہا پسندی'' سے پاک کرنا ہے۔ سینیٹ پاکستان کا بڑا ادارہ ہے ۔ صدر مملکت کی عدم موجودگی میں یہ منصب سینیٹ کے چیئرمین کے سپرد ہوتا ہے۔ کوئی قانون اس کی منظوری کے بغیر نافذ العمل نہیں ہو سکتا۔ اس ادارے کی توہین مملکت پاکستان کی توہین ہے۔ ایک پارلیمانی فورم کے سربراہ کی حیثیت سے چیئرمین رضا ربانی نے اقوام متحدہ کو خط لکھ دیا ہے کہ جب تک ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کی سینیٹ کے ارکان کے ساتھ نامناسب سلوک کی وضاحت نہیں کرے گی پارلیمنٹ کا کوئی وفد نیو یارک نہیں جائے گا جہاں اقوام متحدہ کا صدر دفتر ہے۔ لیکن یہ فرض حکومت پاکستان کا ہے کہ وہ امریکہ کے رویے کے خلاف فوری طور پر احتجاج کرے اور بدلتی ہوئی دنیا میں پاکستان کے مقام کا تعین کرے ۔ نئی دنیا میں پرانے رویوں کے حامل دماغوں کو اگرچہ خدشات بہت نظر آ سکتے ہیں لیکن خدشات سے خوف زدہ ہونے سے یہ ٹل نہیں جاتے۔ اس لیے پاکستان کے حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ واضح خارجہ پالیسی مرتب کریں جو پاکستان کے عوام کی امنگوں کی آئینہ دار ہو تاکہ عوام اور حکمران یک جا یک سمت اور یک رخ ہوں۔

متعلقہ خبریں