پاکستانی بچوں کے دربدر ترک اساتذہ

پاکستانی بچوں کے دربدر ترک اساتذہ

ملک بھر میں پھیلے ہوئے 28سکولوں اور کالجوں کے سالہا سال تک پاکستانی بچوں کو معیاری تعلیم سے آراستہ کرنے والے 108ترک اساتذہ اور ان کے اہل خانہ آج پاکستان میں بے وطن ہیں کیوں کہ وہ واپس ترکی نہیں جانا چاہتے جہاں اردگان حکومت کی جانب سے انہیں نامناسب سلوک کا خدشہ ہے۔ وہ پاکستان میں آباد نہیں ہو سکتے کیوں کہ پاکستان کی حکومت نے نہ صرف انہیں قیام کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے بلکہ انہیں ملک بدر کیے جانے کے احکامات جاری کیے جا چکے ہیں اور وہ عدالت ہائے عالیہ کے حکم امتناعی کے باعث ملک میں مقیم ہیں۔ وہ پاکستان میں کوئی ملازمت نہیں کر سکتے اس لیے اپنے گھروں کے اثاثے بیچ کر گزر بسر کر رہے ہیں۔ ان کا قصور یہ ہے کہ وہ ان پاک ترک سکولوں اور کالجوں میں ملازمت کرتے تھے جوایک ترک لیڈر فتح اللہ گولن کی فاؤنڈیشن کے تھے۔ فتح اللہ گولن جو پہلے ترکی کے صدر طیب اردگان کے اتحادی تھے اب ترکی میں مسلح افواج کی ناکام بغاوت کے بعد راندہ درگاہ ہیں۔ترکی کی حکومت کا موقف ہے کہ ناکام بغاوت فتح اللہ گولن نے کروائی تھی۔ حکومت پاکستان نے ترکی کے صدر کے دورے کے دور روز پہلے انہیں ملک بدر کرکے ترکی پہنچانے کے احکامات جاری کیے تھے جس کے خلاف عدالتوں کے حکم امتناعی کے زور پر یہ لوگ پاکستان میں مقیم ہیں لیکن بے وطن مہاجرین کی حیثیت سے جو پاکستان میں کوئی منفعت بخش ملازمت نہیں کر سکتے۔ اس کسمپرسی کے عالم میں اقوام متحدہ کے کمیشن برائے مہاجرین نے نومبر 2017تک انہیں اپنی حفاظت میں لے لیا ہے اور اب وہ ترکی اور پاکستان کے سوا کسی تیسرے ملک میں بھیجے جانے کے انتظار میں ہیں۔ ان سب کو کسی ایک ملک میں بھیجا جائے گایا الگ الگ ملکوں میں اور جہاں انہیں بھیجا جائے گا وہاں ان کا ذریعہ معاش کیا ہو گا ان سوالوں کا جواب ابھی کسی کو معلوم نہیں۔ پاکستان اور ترکی کے قدیمی دوستانہ تعلقات ہیں لیکن یہ تعلقات دو مسلمان ریاستوں کے درمیان تعلقات ہیں ۔ اندرونی سیاست سے یہ تعلقات متاثر نہیںہونے چاہئیں۔ فتح اللہ گولن اگر ترک حکومت کے باغی ہیں تو ان کے ساتھ نمٹنا ترک حکومت کی صوابدید پر منحصر ہے ۔ تاہم یہ جو اساتذہ فتح اللہ گولن کی فاؤنڈیشن کے سکولوں میں پڑھا رہے تھے ان کا ترکی کی بغاوت میں کوئی کردار سامنے نہیں آیا، نہ انہوں نے کبھی ترکی کی سیاست کے بارے میںپاکستان میں کوئی کردار ادا کیا۔ یہ لوگ درس و تدریس کے پیشے سے منسلک تھے اور یہی ان کی پہچان ہے۔ انہیں مثالی اساتذہ سمجھا گیا ہو گا تبھی بیرون ملک تعینات کیا گیا ہوگا۔ یہ ٹھیک ہے کہ ویزہ کی مدت ختم ہونے کے بعد قانونی طور پرانہیں ملک بدر کیا جا سکتا ہے لیکن وطن واپس جانے میں ان کے نزدیک خطرہ ہے اس لیے اس حیثیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے کہ ان کا ترکی بغاوت یا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور نہ پاکستان میں وہ سیاسی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے ہیں انہیں بے روزگار کرنا اور اس حالت میں دھکیل دینا کہ وہ گھر کا سامان فروخت کرکے گزر بسر کرنے پر مجبور ہیں کوئی مستحسن رویہ شمار نہیں کیا جا سکتا جب کہ ایک اعتبار سے وہ پاکستانی بچوں کے معلم ہونے کے ناطے پاکستان کے محسن بھی ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہونا چاہیے کہ جب تک اقوام متحدہ کا ہائی کمیشن برائے مہاجرین ان کی کفالت اور نئے وطن کا کوئی بندوبست نہیں کرتا ان کے مناسب گزر بسر کا بندوبست سرکاری طور پر کیا جائے۔

متعلقہ خبریں