اچھی طر ح سوچ لینا چاہیے

اچھی طر ح سوچ لینا چاہیے

پاکستان کی دوہمسایہ اور عالمی طا قتوں روس اور چین نے طالبان کی سیا سی اور ان کے وجو د کی حقیقت کو تسلیم کرلیا ہے جو امر یکا میں انتظامی تبدیلیو ں کے ساتھ ایک اہم اور مثبت پیش رفت ہے ، گزشتہ سال ما ہ دسمبر میں ما سکو میں پا کستان ، رو س ، اور طالبان کے ما بین مذاکر ات ہو ئے تھے ، جس کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ بہت بہتر پیشرفت ہے اگر چہ پاکستان میں بھی اور پا کستان سے باہر بھی اس مثبت پیش رفت کو کھوٹاکر نے کے لیے کہا گیا کہ جس ملک کا مسئلہ ہے اس کو مذاکرات میں شریک کیے بغیر مذاکرات بے تکی سی بات ہے۔ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ جب بھی طالبان کے ساتھ مذاکر ات کا ڈول ڈالا گیا ہمیشہ اس کو سبو تا ژ کر دیا گیا ۔ پاکستا ن اور طالبان کے درمیان جب مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو اتھا وہ بھی بھارتی چالو ں کی وجہ سے سبو تا ژہو ا تھا ، طالبان نے مذاکر ات کے لیے دو شرائط عا ئد کی تھیںکہ طالبان کو دہشت گردی کی فہرست سے خارج کیا جائے اور طالبان کے لیڈروں کو پا سپورٹس جا ری کیے جا ئیں تاکہ وہ سفر کی سہولت میسر ہو نے کے بعد نا راض طالبان جو مذاکرا ت کے مخالف ہیں ان کو راضی کر سکیں اور آپس میں صلا ح مشورے کی سہولت بھی ملے ۔ حکومت پاکستان ان شرائط پر رضامند تھی مگر بات آگے نہیں بڑھ سکی کیو ں کہ بھارت نہیں چاہتا کہ افغانستان میں پاکستان کوئی کردار ادا کرے جس کے لیے اس نے اربوں کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ اگر افغانستان میںامن پاکستان کے ذریعے قائم ہو جا ئے تو یہ بات واضح ہے کہ پھر افغانستان میں پاکستان کا اثرو رسوخ ہی بڑھے گا ۔ امریکا بھی پاکستان کے اثر کے خلاف ہے اور وہ اس میںبھارت کو کر دار دینا چاہتا ہے جب کہ پاکستان کے علا وہ خطے کا کوئی ملک اس پوزیشن میں نہیں ہے ۔ اب رواں ما ہ کے آخر میں ماسکو ہی میںافغان مسئلے کے لیے چھ فریقی کا نفرنس متوقع ہے جس میں پا کستان ، چین ، طالبان ،افغانستان ، ایر ان اور اس خطے سے متعلق کسی ملک کو مدعو کیا جا ئے گا ، ابتدائی اجلا س میں اس امر کا جائزہ لیا گیا تھا کہ کیا طالبان افغانستان امن قائم کرنے کے لیے سنجید ہ ہیں ، اس بار ے میں جو اب مثبت رہا ہے ، کیو ں کہ اگر افغانستان میں جلد امن کے لیے کا وشیں نہ کی گئیں تو اس امر کا امکا ن ہے کہ وہا ں ہو لنا ک خونریزی ہوسکتی ہے کیو ں کہ افغانستان میں داعش زور پکڑ تی جا رہی ہے اور داعش نے آگے کی طرف قدم بڑھا ئے ہیں ، روس یہ سمجھتا ہے کہ طالبان صرف افغانستان میں مصیبت ہیں جو وہا ں غیر ملکی فوجوں کے خلا ف بر سرپیکار ہیں جبکہ داعش ساری دنیا کے لیے خطر ہ ہے ، چنانچہ داعش نے اگر افغانستان میں قدم جما لیے تو علاقے کا امن خطر ات سے دوچا ر ہو جائے گا ۔اسی بات کے پیش نظر رو س نے طالبان کو ہتھیا ر فراہم کر نا شروع کر دیئے ہیں جس کا فائد ہ طالبان کو پہنچ رہا ہے ، کیو ں کہ طالبا ن کو ہتھیا ر وں کی فراہمی میںیہ بات شامل نہیںہے کہ یہی ہتھیار کس کے خلا ف استعمال ہوںگے یا کس کے خلا ف استعمال نہیں کیے جا سکتے ہیں ، جبکہ روس کامو قف ہے کہ طالبان کو ہتھیا ر افغانستان میں داعش سے نمٹنے کے لیے دئیے جا رہے ہیں ، بہر حال اس سے طالبان کی عسکر ی قوت میں اضافہ ہو گا اور امریکا کے لیے مشکلات کا سبب بھی بن جائے گا ۔ جہا ں تک امریکا کی نئی انتظامیہ کا تعلق ہے تو اس کی جا نب سے حقانی نیٹ ورک کے بارے میں مزید مطالبات آئے ہیں ، کیا امریکا یہ سمجھتا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کو ملیا میٹ کر دینے سے افغانستان میں امن قائم ہو جائے گا ، یہ ممکن نہیں ہے کیو ں کہ طالبان کا اصل گڑھ افغانستان ہے اور سب سے مضبوط مر کز بھی افغانستان ہی ہے ، جس کو سولہ سال سے امریکا ختم نہیںکر سکا ہے ، طالبان کی قوت کو افغانستان میں کچل دیا جائے تو شاید امر یکا کی خواہش پو ری ہو جائے مگر یہ امر یکا کے بس کی با ت نہیں ہے ۔جب گلبدین حکمت یار سے با ت کی جا سکتی ہے تو طالبان سے بات کر نے میں کوئی حر ج نہیں ہے چنا نچہ پاکستان ، رو س اور چین کی طالبان اور افغان حکومت کے ساتھ بات چیت کا یہ سلسلہ یقینی طو رپر مثبت رہے گا۔ اگر کوئی بیر ونی طاقت اس میں مداخلت کر کے اس کو سبوتا ژ نہ کر ے ۔ پچھلی مرتبہ پاکستان میں طالبان سے مذاکر ات کی ناکا میں کہا جا تا ہے کہ امر یکا کا ہا تھ تھا جو دراصل امریکا پر بھارت کا دباؤ تھا۔ اس کے علا وہ افغانستان کے منتظم اعلیٰ عبداللہ عبداللہ بھی شریک تھے کیو ں کہ شمالی اتحاد پر افغانستان میں بھارتی لا بی کا اثر رسوخ ہے ، چنا نچہ ملا اختر منصور کو قتل کر کے معاملہ ا لٹ دیا گیا ۔ ما سکو میں پہلے اجلا س کے بعد رو س نے اعلا ن کیا تھا کہ اقوام متحد ہ میں وہ طالبان پر سے پابندیا ں ہٹانے کی حما یت کر ے گا اور اس کے علا وہ دوسری کو ششیں بھی کی جائیں گی ، اس کے باوجو د اندیشے یہ ہیں کہ امریکا جو ایسی کا وشو ں کو ماضی میںسبوتا ژ کر چکا ہے اس کا ایک نفسیا تی مسئلہ یہ ہے کہ افغانستان میں بری طر ح شکست کھا نے کے باوجود وہ اپنی شکست کا اقرار نہیں کر نا چاہتا ،بیشک وہ اپنی شکست تسلیم نہ کر ے ، ایک اندیشہ یہ بھی ہے کہ امریکا ما ضی والا رویہ ہی اپنا ئے ، مگر اس مرتبہ گلبدین کے افغانستان حکومت سے تعلقات قائم ہو نے کے بعد صورت حال میں یہ تبدیلی رونما ہوئی ہے کہ گلبدین کا بھی افغان حکومت پر دبا ؤ ہے کہ افغانستان سے غیر ملکی فوجو ں کو نکا لا جا ئے۔ چنا نچہ اشرف غنی جو افغانستان میں غیر ملکی فوجو ں کو فارغ کرنے کے خواہش مند ہیں اورعبداللہ عبداللہ کی مخالفت کو قبول کر نے پر تیا ر نہیں ہیں اس با ت کے امکانات ہیں کہ وہ مذاکر ات میں بلا جھجک شرکت کریں گے ۔لیکن اس سے قبل ان کو پاکستان کے بارے میںاپنی سو چ کو مثبت ٹریک پرلا نا ہو گا کیو ں کہ وہ اس بات کو اچھی طر ح جا نتے ہیں کہ پاکستان کے کر دار کے بغیر خود ان کے لیے افغانستان کے حالا ت کو بدلنا ممکن نہیں ہے ۔بہر حال چین ، پاکستان اور رو س نے علاقے کے معاملا ت کو اپنے ہا تھ میںلے کر دنیاکو ایک نیا پیغام دیا ہے جس کی وجہ سے حالا ت کو سنوارنے میں ایک نیا پہلو اجا گر ہو جائے گا ۔

متعلقہ خبریں