دو عالمی مسئلے اور برطانیہ کا کردار

دو عالمی مسئلے اور برطانیہ کا کردار

مغلیہ سلطنت کے زوال اور اس کی آخری علامت بہادر شاہ ظفر کی رنگون میں قید کے بعد بر صغیر پاک و ہند میں مسلمانوں پر یکے بعددیگرے آزمائشیں آنا شروع ہوئیں ، 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد برطانیہ نے مسلما نان ہند کو جن حالات سے دو چار کیا وہ آج کی نسلوں کے احساسات ، تصورات اور علم سے بہت دور ہیں ۔ لیکن یہ سب کچھ تاریخ کی کتابوں میں محفوظ ہے ۔ لیکن اس حوالے سے سب سے بڑا ظلم کشمیر یوں کے ساتھ کیا ۔ انگریز وں نے جب ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی تجارت کے ذریعے پورے ہندوستان پر قبضہ کیا تو اس میں کشمیر بھی قبضے میں آگیا ۔ اپنے آپ کو اصول پسند اور انصاف پسند کہنے والی قوم نے کشمیر یوں کو آزادی ہند وقیام پاکستان سے پہلے ایک ظالم ڈوگر راجہ گلاب سنگھ کے ہاتھ نانک شاہی روپوں میں بیچ کر اپنے دامن پر ایسا داغ لگا یا جو قیامت تک شاید نہ اُتر سکے ۔ آخری ڈوگر ہ مہاراج ہری سنگھ ( جس نے 1895ء سے 1961) تک کشمیر پر حکومت کرتے ہوئے کشمیر ی مسلمانوں پر ظلم وا ستبداد کے پہاڑ توڑے ۔ لیکن ستم بالائے ستم یہ کیا کہ 1947ء میں تقسیم ہند کے بنیادی اصول کہ ریاستوں کے حکمرانوں اور مہاراجو ں کو اپنے عوام کی اکثریت کے جذبات و احساسات اور خواہشات کا لحاظ رکھنا لازم ہوگا ۔ اُس زمانے میں 1901ء کے برٹش راج میں کی گئی مردم شماری کے مطابق 74فیصد آبادی مسلمان شہریوں کی تھی ۔ جبکہ آج وادی کشمیر میں تقریباً 96فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے ۔ اس کے بعد ہندو ہیں ۔لیکن ہندومہاراجہ نے مسلما ن عوام کے الحاق پاکستان کے جذبات و خواہشات کے برعکس لیت ولعل سے کام لیتے ہوئے پہلے مرحلے میں مقبوضہ جمو ں و کشمیر کو آزاد رکھنے کا بہانہ بنایا اور پھر ہندوستانی حکومت اور جواہر لال نہروکے سیاسی دبائو پر ہندوستانی حکومت کی ہاں میں ہاں ملانے لگے ۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کے ہندوستان کے ساتھ الحاق کے دستاویزپر مہاراجہ ہری سنگھ کے جو دستخط کرائے گئے ہیں وہ برٹش میوزیم انڈیا آفس لائبریری میں موجود تاریخی مواد کی روسے ایک انگریز محقق کے مطابق اصلی نہیں ہیں ۔ یہ وہ ظلم ہے جو مہاراجہ ، برطانیہ اور ہندوستا ن کے نام نہاد جمہوری اور کشمیر ہی سے تعلق رکھنے والے ہندوستان کے وزیرا عظم پنڈت جواہر لال نہرونے کیا ۔ برطانیہ پر تاریخ کا یہ قرض اُس وقت تک باقی رہے گا جب تک وہ آج کے جمہوری و انسانی حقوق کے حوالے سے انسانی تاریخ میں مشہور ترین دور میں بھی وہ کردار ادا نہ کرے جس سے کشمیر یوں کو حق خود ارادیت حاصل ہو سکے ۔ برطانیہ آج بھی ویٹوپاور رکھتا ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اُس کی مستقل رکن کی حیثیت سے ایک مقام ہے ۔ دوسرا بڑا عالمی مسئلہ جو کئی حوالوں سے کشمیر سے مشابہت رکھتا ہے ، مسئلہ فلسطین ہے جو برطانیہ کا پیدا کردہ ہے ۔ فلسطین میں پہلی جنگ عظیم کے نتیجے میں حکومت برطانوی وزیر خارجہ جیمزبالفور جس نے یورپ سے امیر یہودیوں کے سرمائے کے بل بوتے پر یہودیوں کو فلسطین میں بسایا اور پھر یہاں پر دو قومی نظریے کا پرچار اور آخر میں اعلان کیا دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ سپرپاور کی حیثیت سے تو معزول ہو رہا تھا لیکن جاتے جاتے بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے فلسطینی سرزمین میں اسرائیل کے قیام کی قرار داد منظور کروائی ۔ اسرائیل دنیا کا واحد ملک ہے جو اقوام متحدہ کی قرار دا د کے ذریعے قائم ہوا ہے ۔ وہ دن اور آج کا دن دنیا کے امن کے لئے سب سے خطرناک مسئلہ فلسطین ہے ،کیونکہ دینی و مذہبی معاملات کے حوالے سے یہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے اہمیت رکھتا ہے اور اس طرح دو ایٹمی طاقتو ں پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر ، عالمی امن کے لئے دوسرا خطرناک مسئلہ کے طور پر گزشتہ ستر برسوں سے چلا آرہا ہے ۔ اسرائیل نے گزشتہ ستر برسوں میں فلسطینی مسلمانوں پر جو جنگیں مسلط کرکے مظالم کی داستان رقم کی ہے اُس طرح بھارت نے کشمیر یوں کے ساتھ کیا ہے ۔ اسرائیل کے خلاف پچھلے دنوں فلسطینی سرزمین پر تعمیرات کے خلاف جو قرارداد منظور ہوئی ہے وہ اہل فلسطین کے موقف کے حق بہ جانب ہونے کی دلیل ہے لیکن اسرائیل امریکہ اور ٹرمپ کی شہ اور حمایت کی وجہ سے ایسی قرار دادوں کو جوتے کی نوک پر رکھ کر ستر ممالک کے مندوبین کی آراء کو ہوا میں اُڑاتا ہے اور مقبوضہ فلسطین کی سر زمین پر اسرائیلی تعمیرات جاری رکھنے پر مُصر ہے ۔ سینہ زوری کا اندازہ لگایئے کہ اس اجلاس میں اسرائیل اور ٹرمپ کے نمائندے موجود نہ تھے ۔ اس موقع پر امریکی ترجمان مارک ٹونر نے کہا کہ امریکہ نہیں چاہتا کہ اسرائیل پر کوئی حل نافذ کیا جائے جبکہ فرانسیسی وزیر خارجہ جین مارک نے حق کا ساتھ دیتے ہوئے دو ٹوک انداز میں کہاکہ '' دو قومی نظریے کے تحت فلسطین میں دو ملکوں (اسرائیل فلسطین ) کا قیام اس مسئلے کا واحد حل ہے ''۔اس طرح اقوام متحدہ کی مقبوضہ کشمیر کے متعلق قرارداد یں ہی مسئلہ کشمیر کا واحد حل ہے جس میں حق خود اردیت کو تسلیم کیا گیا ہے ۔ لیکن دنیا بھر کے امن کے لئے سب سے بڑا خطرہ بنے ہوئے بھارت اور اسرائیل جو ضد ، ہٹ دھرمی اور مذہبی تنگ نظری و تعصب کے لئے مشہور ہیں ، عقل دلیل اور منطق کی طرف متوجہ ہونے کا نام نہیں لیتے ۔ لہٰذا وقت آیا ہے کہ دنیا بھر کی حق پرست اقوام اور عوام امریکہ اور برطانیہ پر دبائو ڈالیں کہ وہ ان دو ظالم ملکوں کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیں ورنہ قدرت کے مکافات عمل سے بچ نہیں سکیں گے ۔

متعلقہ خبریں