ماضی کی روشنی میں کتابوں کی باتیں

ماضی کی روشنی میں کتابوں کی باتیں

ہم نے جب ایک سو بیس صفحات کی کتاب پر اس کی قیمت ایک ہزار روپے دیکھی تو خواہش کے باوجود نہ خرید سکے۔ جیسے کہ ہم بعض اوقات بیش قیمت فروٹ نہیں خرید سکتے۔ مہنگی کتابوں کا بھی ذکر کریں گے پہلے تمہید باندھ لیں۔ ہم نے جب ہوش سنبھالا تو گھر میں کتابوں کاکچھ زیادہ چرچا نہ تھا۔ ایک روز ہماری اماں کمرے میں کوئی چیز تلاش کر رہی تھیں تو ان کے ہاتھ دو کتابیں لگیں۔ آواز دے کر کہا' بیٹا آئو یہ تمہارے کام کی ہوں گی۔ جا کر دیکھا تو ایک پطرس کے مضامین کے نام سے چھوٹی سی کتاب تھی اور ایک پر ضرب کلیم لکھا تھا۔ یہ دونوں کتابوں کے یہ پہلے ایڈیشن تھے جو آج بھی ہمارے پاس محفوظ ہیں۔ ہمارے ابا جو پیشے کے لحاظ سے آٹو موبیل انجینئر تھے وہ کتابوں کے باقاعدہ قاری نہ تھے۔ ہمیں آج تک معلوم نہ ہو سکا کہ یہ دونوں کتابیں ہمارے گھر میں کیسے پہنچ گئیں۔ ہم نے اپنے ابا کو رحمان بابا اور علی خان کے اشعار گنگناتے ضرور سنا تھا' زندگی کے آخری چند سالوں میں حضرت داتا گن ج بخش کی کتاب کشف المحجوب بھی انہیں پڑھتے دیکھا۔ ہائی سکول پہنچے تو مشرقی زبانوں کے ایک ماہر استاد میاں خیر الحق گوہر کا کا خیل سے کتابیں پڑھنے کا شوق پیدا ہوا۔ تعلیم و تربیت اور بچوں کی دنیا بکٹ گنج بازار میں واقع کتابوں کی ایک دکان صادق نیوز ایجنسی سے باقاعدہ خرید کر پڑھنے لگے۔ اب سوچ کر حیرت ہوتی ہے آج وسائل کے باوجود ہمیں کتابوں کی مہنگائی کی وجہ سے انہیں خریدنے میں تردد رہتا ہے۔ اس وقت کے دو آنے کے روزینے میں بچوں کی یہ کتابیں کیسے خرید لیتے تھے۔ سکول کی آخری کلاسوں میں پہنچے تو نہایت ہی علم د وست اور مہربان ہیڈ ماسٹر حاجی ہدایت اللہ خان نے سکول کی تین الماریوں پر مشتمل لائبریری کی کتابوں سے استفادہ کرنے کی اجازت دے دی۔ لائبریری کے انچارج ماسٹر عبدالخلیل جو خود بھی بڑی محبت کرنے والے استاد تھے حاجی صاحب نے ان کو ہمارے بارے میں بطور خاص کہا کہ اس کو کتابوں تک رسائی میں کوئی روک ٹوک نہیں ہونی چاہئے۔ ہمیں یاد پڑتا ہے کہ ابراہیم جلیس کی کتاب تلخ ' ترش' شیریں اور امتیاز علی تاج کی چچا چھکن سکول کی لائبریری سے لے کر ہی پڑھی تھیں۔ ہم پورے وثوق سے کہتے ہیں کہ سکول میں اگر ہمیں حاجی ہدایت اللہ خان' میاں خیر الحق گوہر کاکا خیل اور ماسٹر عبدالجلیل جیسے مہربان اور علم دوست اساتذہ کی سرپرستی حاصل نہ ہوتی تو ہم کتابوں کی دنیا سے بالکل محروم رہتے اور یہ ہماری زندگی کاایک بہت بڑا المیہ ہوتا۔ ان کو یاد کرکے حیرت ہوتی ہے کہ کیا عظیم اساتذہ تھے۔ حاجی ہدایت اللہ خان کے بارے میں مزید بتاتے چلیں کہ وہ بی ایس سی ایگریکلچر تھے۔ اپنے گائوں مایار سے اپنے ذاتی تانگے میں آتے۔ کچھ عرصہ آل انڈیا ریڈیو سے بھی وابستہ رہے۔ طلباء کی صلاحیتوں کو جاننے میں انہیں خاص مہارت حاصل تھی۔ منتخب طلباء کو سٹار کا نام دے کر انہیں مختلف شعبوں میں ہم نصابی سرگرمیوں کی ذمہ داری دے رکھی تھی۔ ہم کو انہوں نے ہمارے ذوق کو دیکھتے ہوئے نیوز سٹار بنا دیا تھا۔ ہم صبح کی اسمبلی میں اخبار سے سرخیاں پڑھتے اور پھر ان کو گیٹ کے اندر دیوار پر لگے بلیک بورڈ پر لکھنے کی بھی ہماری ذمہ داری تھی۔ ہم ایسے اساتذہ کو کیسے بھول سکتے ہیں جو اپنے شاگردوں کے ذہنی رجحان کا اندازہ لگا کر مستقبل میں ان کی زندگی کی راہیں متعین کرنے میں رہنمائی کرتے۔ بات ہم نے کتابوں سے اپنے ابتدائی تعارف سے شروع کی تھی۔ بتانا یہ مقصود تھا کہ آج کے طالب علم کا کتاب سے براہ راست تعلق ختم ہوگیا ہے۔ چار پائی پر پائوں پسار اونچے سرہانے کا ٹیک لگا کر کتاب پڑھنے کا جو لطف تھا وہ کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ سے پڑھنے میں نہیں رہا۔ اس لئے تو کتاب کلچر کے خاتمے کا شکوہ کچھ زیادہ بے جا بھی نہیں۔ دور دراز کے قصبات میں جہاں بجلی بھی نا پید ہے وہاں کے کسی طالب علم کو لیپ ٹاپ کا انعام ہماری سمجھ میں نہیں آتا۔ اگر قصبوں میں انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہیں تو کتابوں کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔ اخبار جو ہمارے بچپن میں صرف دو آنے میں خریدا جاسکتا تھا اب اس کی قیمت پندرہ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اتوار کے روز انگریزی اخباروں کی قیمت 25روپے ہوتی ہے۔ ہم تعلیم و تربیت اور بچوں کی دنیا چار آنے میں خریدتے تھے۔ اب اس سائز کا رسالہ پچاس روپے سے کم قیمت پر نہیں ملتا۔ ہم نے پطرس کے مضامین کے نام سے جس کتاب کا ذکر کیا اس پر چار آنے قیمت درج تھی۔ ہم ابتداء سے ہی شفیق الرحمن کی کتابوں کے رسیا تھے۔ مکتبہ جدید لاہور جو اب ختم ہوچکا ہے ہم نے اس ادارے کی ہر کتاب ایک یا ڈیڑھ روپے میں خریدی ہے۔ کاغذ' چھپائی اور کمپوزنگ کے اخراجات میں بے تحاشا اضافہ ضرور ہوگیا ہے لیکن اتنی قیامت بھی نہیں کہ 120صفحات کی کتاب کی قیمت ایک ہزار روپے رکھ دی جائے۔ لاہور کے ایک اشاعتی ادارے نے کتابوں کی قیمت میں جو ہوش ربا اضافے کی رسم قائم کر رکھی ہے حکومت کو اس کا نوٹس لینا ضروری ہے۔ جب اشیاء صرف کے نرخوں کی نگرانی کے لئے محکمے قائم ہیں سرکار کو اشاعتی اداروں کے کاروبار پر بھی نظر رکھنی چاہئے۔ بڑے اشاعتی اداروں سے سرکاری لائبریر یوں کے لئے کتابیں خریدی جاتی ہیں۔ کتابوں پر من مانی قیمتوں کے اندراج کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ سرکاری فنڈز کی بہتی گنگا سے سب لوگ اپنی بساط کے مطابق استفادہ کرسکیں۔ ہم بھی کتابیں لکھتے اور اپنے خرچ سے چھاپتے رہتے ہیں ۔ اب ان پر قیمت نہیں لکھتے جب کوئی قیمتاً خریدتا ہی نہیں تو اس تکلف کی کیا ضرورت ہے۔ چنانچہ اب ہم کتاب چھاپ کر یہ نعرہ بھی لگاتے ہیں۔

پیو کہ مفت لگا دی ہے خون دل کی کشید
سنا ہے اب کے مئے لالہ فام کہتے ہیں

متعلقہ خبریں