کسی بھی شہر میں جائوں غریب شہر نہیں

کسی بھی شہر میں جائوں غریب شہر نہیں

ہمارے حکیم صاحب کو اللہ غریق رحمت کرے بڑے مزے کی باتیں کیا کرتے تھے۔ ایک دن کہنے لگے کہ جب لوگ آپ کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے تو جواباً آپ کا رویہ بھی ان کے ساتھ برا ہوجاتا ہے۔ کیا کبھی آپ نے یہ سوچنے کی زحمت گوارا کی ہے کہ کسی کے غلط رویے کی وجہ سے آپ نے اپنا اچھا رویہ بدل ڈالا! آپ نے فریق مخالف کی برائی کی وجہ سے اپنے اچھے اخلاق کو خیر باد کہہ ڈالا! اس سے تو یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ برائی اچھائی کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ہے۔ برائی اچھائی کو مجبور کرکے اپنے راستے پر ڈال دینے کی قدرت رکھتی ہے ۔یاد رکھو برائی کو برائی سے نہیں مٹایا جاسکتا برائی اچھائی سے مٹ سکتی ہے۔ اگر برائی کا بدلہ برائی ہے تو پھر معاشرے میں برائی کو ضرب ملتی رہے گی اس کی شرح بڑھتی ہی رہے گی۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمیں اپنے چاروں طرف برائیاں ہی برائیاں نظر آرہی ہیں۔دنیا میں بڑے لوگوں نے ہمیشہ اپنے دل میں اپنے دشمنوں کے لیے رحم محسوس کیا ہے۔ انہوں نے برائی کا جواب اچھائی سے دیا ہے اسے ہم مثبت سوچ کہتے ہیں ۔ ہمارا غلط رویہ یا زندگی کو سمجھنے کا غلط انداز ہمیں اپنے مقاصد حیات سے بہت دور لے جاتا ہے نشیب وفراز زندگی کا حصہ ہیں اس میں پھول بھی ہیں اور کانٹے بھی کبھی ہم پر پھول برسائے جاتے ہیںاور کبھی پتھر مارے جاتے ہیںجوابی پتھر مارنے میں سب سے بڑی خرابی یہی ہے کہ آپ کی کامیابیوںکا سفر رک جاتا ہے۔ آپ اپنے دل میں نفرت کے پودے کی نشو ونما کرتے رہتے ہیں یہ پودا آپ کے دل کی دھڑکن کو بے ترتیب کردیتا ہے۔ آپ کا بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے اپنے حریف پر جوابی حملہ کرنے کے لیے آپ کا وقت بھی ضائع ہوتا ہے اور پھر اس بات کا قوی امکان بھی ہوتا ہے کہ آپ کا نشانہ خطا چلا جائے سیانے کہتے ہیں کہ دشمن کو مارنے کے لیے اٹھایا جانے والا کیچڑ آپ کے ہاتھ بھی گندے کردیتا ہے اور وقت بھی ضائع ہوتا ہے جو مثبت سوچ کے مالک ہوتے ہیں وہ اپنے مخالفین کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے مقصد کی طرف سفر جاری رکھتے ہیں ان کے سامنے اپنی منزل ہوتی ہے کسی پر غصہ کرنے یا اس کے ساتھ جنگ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ دوسروں کی غلطیوں کا انتقام اپنی ذات سے لے رہے ہیں۔اس قسم کے رویے سے بچنے کی اشد ضرورت ہے کہنے والے نے کتنی اچھی بات کہی ہے ''اپنے خراب موڈ کے ساتھ برے الفاظ کو مت ملائو کیونکہ آپ کو اپنا برا موڈ اچھے موڈ میں بدلنے کے بہت سے مواقع ملیں گے لیکن یہ موقع کبھی نہیں ملے گا کہ آپ اپنے بولے ہوئے برے الفاظ کو اچھے الفاظ سے بدل ڈالو'' ۔اچھی سوچ زندگی کی خوبصورتی ہے جب بد دعا کے بدلے دعا دی جائے تو زندگی محبت کی معطر فضائوں سے مہک اٹھتی ہے پروفیسر سید شاہ سعود پشتو کے میٹھے لب و لہجے کے خوبصورت شاعر ہیں دا مہ گورہ چی قیس دی کہ منصور دی کہ سعود چی ھر سوک پہ دعاویی پہ دعا شہ ورپسی ۔ ان سب باتوں کا تعلق تہذیب کے ساتھ ہے اگر خاندان مضبوط ہے گھر میں محبت بھری فضا ہے تو پھر معاشرے میں بھی یہی فضا پروان چڑھتی ہے اخلاقی اقدار مضبوط ہوتی ہیں ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا کلچر عام ہوتا ہے ہمارے یہاں تو اب یہ صورتحال پیدا ہوگئی ہے کہ اختلاف رائے کو برداشت ہی نہیں کیا جاتا اپنی رائے کو دوسروں پر زبردستی مسلط کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ول ڈیورانٹ کا کہنا ہے کہ خاندان تہذیب کا مرکزی نکتہ ہے انسانی تہذیب کا وجود خاندان کے بغیر ممکن ہی نہیں! پہلی درس گاہ ماں کی گود ہے آ پ یاد کریں کبھی آپ بیٹے تھے آج باپ کا کردار ادا کررہے ہیںاپنے والد صاحب کا رویہ ذہن میں لائیںان کی تربیت کے انداز یاد کریں اگر کسی جگہ کوئی کمزوری نظر آتی ہے تو آپ ان کمزوریوں سے بچنے کی کوشش کریں اگر کوئی بچپن کی محرومیاں ہیں تو کوشش کریں کہ آپ کے بچے ان محرومیوں کا شکار نہ ہوںیہی وہ محرومیاں ہوتی ہیں جن کی وجہ سے بچے بڑے ہو کر معاشرے میں اپنے تلخ رویوں سے دوسروں کا جینا دوبھر کردیتے ہیں ہمارے مہربان شاہ جی کی بات بھی اس حوالے سے سن لیں''یار ہم نے بھی بڑا عجیب بچپن گزارا ہے ہم نے ہمیشہ یہی دیکھا کہ جب والد صاحب گھر آتے تو ان کی تیوری چڑھی ہوتی سب بچے انہیں دیکھ کر سہم جاتے ہم بہن بھائی ایک کونے میں دبک جاتے یہی بچے جنہیں بچپن میں بولنے نہیں دیا چھوٹی چھوٹی باتوں پر دبایا جاتا ہے بے عزت کیا جاتا ہے بڑے ہوکر معاشرے سے انتقام لیتے ہیں چیخ چیخ کر بولتے ہیں اختلاف رائے برداشت نہیں کرتے ہر بات میں اپنی مرضی چاہتے ہیں یہ حقیقت ہے کہ گھر ہی وہ درسگاہ ہے جہاںسے ہم اچھے یا برے اخلاق لے کر معاشرے کا حصہ بنتے ہیں۔ شاہ جی کہتے ہیں کہ اب ان کی اپنے بچوں کے ساتھ دوستی ہے بچے بھی گھر میں خوش رہتے ہیںاور پھر گھر سے باہر کا ماحول بھی اچھا نہیں ہے جن بچوں کو گھر میں محبت ملتی ہے بات چیت کرنے کا موقع دیا جاتا ہے وہی بچے بڑے ہو کر معاشرے کو خوبصورت بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں