پاکستان میں عام انتخابات کی کہانی

پاکستان میں عام انتخابات کی کہانی

پاکستان کے عام انتخابات کی تا ریخ پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ وطن عزیز میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے 10 عام انتخابات ہوئے ہیں۔جس میں 1962ئ، 1970ئ، 1977ئ، 1985ئ، 1990ئ، 1993ئ، 1997ء ، 2002ئ،2008ء اور 2013ء کے عام انتخابات شامل ہیں۔ 1970ء کے انتخابات میں مشرقی پاکستان سے عوامی لیگ اور مغربی پاکستان سے نو وارد پاکستان پیپلز پا رٹی اور دوسری کئی چھوٹی بڑی سیاسی پا رٹیاں میدان میں تھیں۔ مجیب الرحمان مشرقی پاکستان کے لئے زیادہ خود مختاری چاہتے تھے ۔ عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان میں قومی اسمبلی کی 162 نشستوں میں سے 160 اور مغربی پاکستان سے پاکستان پیپلز پا رٹی نے 138 نشستوں میںسے 81 نشستیں جیتیں ۔عوام ذوالفقار علی بھٹو کے نعرے سے اتنے متا ثر ہوئے کہ وہ سیاسی پا رٹیاں جو عرصہ دراز سے سیاست کرتی آرہی تھیں وہ ناکام ہوگئیں اور پی پی پی مغربی پاکستان میں ایک اکثریتی سیاسی پا رٹی کے طور پر اُبھری۔ دوسرے عام انتخابات 1977ء میں ہوئے۔ پیپلزپا رٹی کا خیال تھا کہ وہ اپنی سابقہ کار کر دگی کی بنا پر انتخابات جیتے گی۔اس نے الیکشن مہم میں مختلف اداروں کی نیشنلائزشین، زرعی شعبہ جات اور مز دوروں کے لئے اصلا حات ، بھارت سے پاکستان کے ایک لاکھ قیدیوں کی رہائی ، لاہور میں اسلامی سربراہ کانفرنس منعقد کرنے اور مسلمان ممالک کے ساتھ بہتر روابط کانعرہ لگایا۔ اسکے بر عکس 9 جماعتوں کے اتحاد پاکستان جمہو ری اتحاد نے بھٹو کی پالیسیوں کو رد کیا اور کہا کہ انکے دور میں قومی تحویل میں لی گئی صنعتوں اور تعلیمی اداروں کی حالت ابتر تھی۔اس کا موقف تھا کہ بھٹو نے اپنے دور حکومت میں مخالفین اور عام لوگوں کے ا ظہار رائے اور پریس پر پابندی لگائی۔ 1977 کے الیکشن میں پی پی پی نے قومی اسمبلی میں 151 نشستیں اور قومی اتحاد نے 38 نشستیں جیتیں۔ اپوزیشن نے الیکشن نتائج کو رد کیا اور بھٹو کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیاجس نے بعد میںتحریک نظام مصطفی کی شکل اختیار کی۔دونوں پا رٹیوں میں کشیدگی بڑھی ۔ 5 جولائی 1977 کو جنرل ضیاء الحق نے آئین معطل کرکے ما شل لاء نافذ کردیا۔ بھٹو کو ایک قتل کیس میں پھانسی دی گئی۔ تیسرا الیکشن 1985ء میں ہوا جس میںجنرل ضیاء الحق نے سیاسی پا رٹیوں پر انتخا بات میں حصہ لینے پر پابندی لگا دی تھی۔1985ء کے عام انتخابات میں سندھ سے جا گیر دار محمد خان جو نیجو کو وزیر اعظم بنا دیا گیا۔مگر ضیاء الحق نے جونیجو کی حکومت جنوری 1988 ء کواس بنا پر ختم کر دی کہ جونیجو نے اسلامی نظام نافذ کرنے کا ایجنڈا جا ری نہ رکھا۔ضیاء الحق کے جہاز حادثہ میں وفات ہونے کے بعدسینیٹ کے چیئر مین غلام اسحق خان نے قائم مقام صدر کے عہدے کا حلف اُٹھاتے ہی 1988 کے عام انتخا بات کا اعلان کیا۔اس الیکشن میں دو بڑی سیاسی پا رٹیوں یعنی پی پی پی اور 9 جماعتوں پر مشتمل اسلامی جمہو ری اتحاد نے حصہ لیا۔ 1988 کے انتخابات میں پی پی پی نے قومی اسمبلی میں 93 اور اسلامی جمہو ری اتحاد نے 54 نشستیں جیتیں۔ اُس وقت پی پی پی نے جنرل اسلم بیگ کے ساتھ وعدہ کیا کہ صدر غلام اسحق خان اور وزیر خا رجہ صا حب زادہ یعقوب خان رہیں گے اور فوجی بجٹ میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔مگر اگست 1990 ء کو محترمہ بینظیربھٹو حکومت کرپشن بد عنوانی اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر ختم کر دی گئی اور نگران وزیر اعظم مصطفی جتوئی بنا ئے گئے ۔ 1990ء کے عام انتخابات کرائے گئے۔اس الیکشن میں اسلامی جمہو ری اتحادنے 107 نشستیں اور پی ڈی ایف نے 44 نشستیں جیتیں۔ میاں اعظم نواز شریف وزیراعظم بن گئے۔1992ء میں نواز شریف اور غلام اسحق خان میں اختیارات کی تقسیم پر اختلافات بڑھ گئے ۔ غلا م اسحق خان نے کرپشن بد عنوانی کی بنا پر میاں نواز شریف کی حکومت ختم کر دی۔پھر اسکے بعد 1993ء کے انتخابات کا اعلان کر دیا گیا۔ اس میں تین بڑی سیاسی پا رٹیوں نے شرکت کی اس میں پی پی پی ، پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پاکستان اسلامک فرنٹ۔ اس الیکشن میں پی پی پی نے 86 اور پاکستان مسلم لیگ نے 73نشستیں جیتیں جسکے نتیجے میں وزیر اعظم بے نظیر بھٹو بن گئیں۔ اسکے بعد 1997ء کو انتخابات ہوئے۔ اس میں بھی پی پی پی، پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پی ٹی آئی نے حصہ لیا اور جماعت اسلامی نے اس الیکشن میں حصہ نہیں لیا۔ اس میں مسلم لیگ(ن) نے 207 نشستوں میں سے136، پی پی پی نے 18جیتیں اور نواز شریف دو تہائی اکثریت کے ساتھ وزیر اعظم منتخب ہوئے۔2002 ء کا ا لیکشن مشرف دور میں ہوا۔جب نواز شریف جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ اس میں دو بڑی سیاسی پا رٹیاں تھیں ایک پا رٹی پاکستان مسلم لیگ(ق) اور دوسری سیاسی پا رٹی متحدہ مجلس عمل اور پی پی پی تھی۔2008 کے الیکشن میں پی پی پی، پی ایم ایل(ن) و (ق) نے حصہ لیا۔تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے اس الیکشن میں حصہ نہیں لیا۔ پی پی پی کے یو سف رضا گیلانی اور بعد میںراجہ پر ویز اشرف وزیر اعظم بن گئے۔2013 کے عام انتخابا ت میں پاکستان مسلم لیگ نے ایک کروڑ 14لاکھ، تحریک انصاف نے 77 لاکھ اور پی پی پی نے 66لاکھ ووٹ لئے جسکے نتیجے میں نواز شریف وزیر اعظم بن گئے۔ اور اب دیکھتے ہیں اگر نواز شریف پانامہ کیس سے بچ گئے تو اگلے الیکشن 2018 میں کرائے جائیں گے۔

متعلقہ خبریں