احتساب کے مستقل عمل کی ضرورت

احتساب کے مستقل عمل کی ضرورت

وزیر اعظم محمد نواز شریف کے صاحبزادوں کے بالترتیب پانچ اور دو بار پیش ہونے کے بعد مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سمن پر اب وزیر اعظم تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوں گے۔ وزیر اعظم کی جانب سے تحقیقاتی ٹیم کے رو برو پیش ہو کر سوالوں کاجواب دینے کے بعد تحقیقات میں کیا پیش رفت ہوتی ہے اور اس کا کیا رخ متعین ہوتا ہے وہ اپنی جگہ لیکن اس غیر سیاسی عمل کا سیاسی اور اخلاقی طور پر مسلم لیگ(ن) کو بہر حال فائدہ ضرور ملے گا اور مسلم لیگ (ن) کا اخلاقی گراف اس وقت تک بلند رہے گا جب تک جے آئی ٹی کی رپورٹ کی روشنی میں عدالت عظمیٰ میں مزید قانونی کارروائی اور ضابطے کی تکمیل کے بعد کوئی فیصلہ سامنے نہیںآتا۔ اس اونٹ کے کسی کروٹ بیٹھنے کا اندازہ بھی لگانا مشکل ہے۔ چونکہ دو صورتوں میں ایک صورت تو بہر حال یقینی ہے ایک یہ کہ الزامات ثابت ہوں جو کافی مشکل لگتا ہے یا پھر سپریم کورٹ کا فیصلہ وزیر اعظم اور اس کے خاندان کے لئے تطہیر یا ''دباغت'' کا باعث بنے۔ بلا شبہ وزیر اعظم اور اس کے خاندان کا وقار اور مسلم لیگ(ن) کی سیاست کا بڑی حد تک دار و مدار اس اونٹ کے کسی کروٹ بیٹھنے پر ہے جس کے لئے یقینا بڑی تیاری کی گئی ہوگی۔ جس طرح شروع شروع میں صورتحال محولہ عناصر کے لئے مشکل لگ رہی تھی یا مشکل بتائی جا رہی تھی وقت کے گزرتے گزرتے ایسا لگ رہا ہے کہ پیشی بھگتنے والوں کی مشکلات کچھ کم ہوئی ہیں۔ اس دوران مسلم لیگ(ن) کے ایک مبینہ طور پر عاق کئے جانے والے سینیٹر کی جانب سے کچھ واضح اور کچھ مبہم دھمکیاں دی گئیں جس کا عدالت عظمیٰ نے نوٹس لے لیا۔ دوسری جانب وزیر اعظم کے صاحبزادے کی بے چارگی کے عالم کی جو تصویر لیک ہوئی اس سے تحقیقاتی ٹیم کو خفت کا سامنا ہوا جبکہ تحقیقاتی ٹیم کے ارکان کو ملنے والی مبینہ دھمکیوں کے معاملات بھی عدالت آگئے ۔ اگر دیکھا جائے تو یہ سارا عمل محض توجہ ہٹانے والے معاملات ہی نظر آتے ہیں لیکن بہر حال اپنی جگہ ان کے سنجیدہ اور سنگین ہونے سے بھی انکار ممکن نہیں۔ جے آئی ٹی کے ممبران کی نیشنل بنک کے صدر سے دوران تفتیش مبینہ بد تمیزی کی شکایت بھی سامنے آئی۔ ان سارے معاملات میں اصل معاملہ قدرے پس منظر میں چلا گیا ۔ کیا یہ سارے معاملات منصوبہ بندی کے تحت کئے گئے کوئی غلطی اور سہو ہوگئی یا پھر طے شدہ تھے اس حوالے سے اصل صورتحال عدالت ہی سے آئے گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بہتر یہی تھا کہ ماحول کو مکدر نہ کیاجاتا اور یکسوئی کے ساتھ مناسب فضا میں تحقیقاتی رپورٹ مرتب کرنے کا عمل جاری رہتا تو بہتر تھا۔ ہمارے تئیں اس سارے معاملے سے میڈیا کو دور رکھنے کے انتظامات اور اقدامات ہی سے ماحول کو گرمائش کا شکار ہونے سے روکا جاسکتا تھا۔ مگر میڈیا کو پابند نہ کئے جانے کے باعث یہاں بھی فریق اول و فریق دوم کے الزامات و جوابی الزامات وضاحتوں اور تاویلات جاری رہیں اور جاری ہیں۔ اصولی طور پر یہ ایک عدالتی معاملہ ہے اور اس ضمن میں عدالت کے فیصلے کا انتظار کرنا ہی مناسب امر تھا۔ اب بھی میڈیا کی سجائی گئی دکان کے باوجود بہر حال معاملات قانونی فورم پر ہی طے ہونے ہیں۔ ابتداً میں جے آئی ٹی کی مخالفت کی گئی اور پھر مخالفین ہی اس کے سب سے بڑے مجاور بن گئے۔ آگے چل کے معاملات کیا رخ اختیار کرتے ہیں اور عدالتی فیصلہ آنے پر اس کو عدالت کے باہر کیا موڑ موڑا جاتا ہے اگر سیاسی تناظرمیں دیکھا جائے تو ہر ایک اس کے لئے اپنی حکمت عملی اختیار کرسکتا ہے ۔ اگر ہر اہم موقع پر بیچ میں اچانک کودنے والے پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ کے بیرون ملک طویل قیام کے بعد مختصر عرصے کے لئے پاکستان آمد کے بیان کی روشنی میں دیکھا جائے تو شریف خاندان اس معاملے سے سرخرو ہو کر نکلے گا لیکن یہ بہر حال ڈاکٹر طاہر القادری کا خیال ہوسکتا ہے کیونکہ ابھی تحقیقاتی عمل کی تکمیل کے بعد عدالت عظمیٰ میں اس رپورٹ کی روشنی میں مزید عدالتی کارروائی ہونی ہے جس کے بعد ہی کوئی نتیجہ سامنے آئے گا۔ بہر حال اگر ڈاکٹر طاہرالقادری کا اندازہ درست نکلتا ہے تو اس کے آئندہ انتخابات سمیت ملکی سیاست پر بڑے اثرات سامنے آئیں گے اس بارے کوئی اندازہ لگانا قبل از وقت ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ ماحول کو مکدر بنانے کے محولہ معاملات کے باوجود اس معاملے کی تحقیقات اور بعد ازاں کے مراحل ماحول سے متاثرہ ہوئے بغیر شفاف طریقے سے طے ہو نے چاہیئے۔ اسے ملک میں وزیر اعظم اور اس کے خاندان سے احتساب کا عمل شروع کر نے کے مترادف گردانتے ہوئے دیگر ادوار کے حکمرانوں پر لگنے والے الزامات کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیں ۔ ایک مستقل جے آئی ٹی ہونی چاہیے جو ہر شعبے اور طبقے کے ان افراد سے ان کی دولت اور ذرائع آمدن کی تحقیقات کرکے عدالت کو رپورٹ پیش کرتی جائے اور عدالتیں اس پر کارروائی کریں تاکہ اس ملک میں ہونے والی بد عنوانی نہ صرف سامنے آئے بلکہ آئندہ کیلئے اس کا تدارک بھی ہوسکے۔ اس ملک میں ایسے اقدامات یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ کسی حکمران پر الزامات لگانے اوران کو اپنا دفاع کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے ۔

متعلقہ خبریں