کے پی کی مثالی پولیس کے کارنامے

کے پی کی مثالی پولیس کے کارنامے

خیبر پختونخوا پولیس کی اصلاح اور تبدیلی کیلئے جو مہم چلائی گئی ایک روز پیش آنے والے چارواقعات نے امیج کی اس عمارت کو دھڑام سے زمین بوس کر دیا جس کیلئے وزیر اعلیٰ اورآئی جی کے پی ایک عرصے سے مصروف کار تھے ۔ تحریک انصاف کے قائد کو اب صوبے کی پولیس کو مثالی قرار دیتے ہوئے سوچنا ہوگا کہ کے پی پولیس بد ل چکی ہے یا پھر فطرت پر لوٹ آئی ہے ۔ سی سی پی او پشاور فارم ہائوس سے بھینسوں کی چوری کے بعد علاقے کے عوام کو پولیس کی جانب سے مسلسل درگت بنا دینا اور دبائو کے سامنے علاقہ پولیس کی بے بسی کا اظہا ر پر کسی تبصرے کی ضرورت نہیں سوائے اس کے کہ پولیس کا اب اتنا بھی خوف نہیں رہا کہ چو رکم از کم سی سی پی او کی بھینسوں کو کھول کر لیجانے سے قبل سوچتا کہ وہ کس درجے کے افسر کو چیلنج دے رہا ہے چوری کی ایک سادہ واردات کو علاقے کے عوام کیلئے پولیس گردی کا ذریعہ نہیں بنا نا چاہیئے۔ دیگر واقعات میں پشاور میں گاڑی کی معمولی ٹکر پر ٹیکسی ڈرائیور پر بہیمانہ تشدد ٹریفک وارڈن کا پھل فروش پر تشدد کر کے ناک کی ہڈی توڑ دینا اور ایل آر ایچ میں الٹراسائونڈ کے معاملے پر پولیس اہلکار کی گالم گلوچ جیسے واقعات اس امر پر دال ہیں کہ پولیس پولیس ہوتی ہے اس کی فطرت کوئی بھی حکومت یا سربراہ تبدیل نہیں کر سکتی ۔ آئی جی نے ایک آدھ واقعے کا نوٹس ضرور لیا ہے انہیں دیگر واقعات کا بھی نوٹس لینا چاہیئے اور بڑے افسران کو بھی سمجھناچاہیئے کہ وہ اپنے اختیارات کو اپنے مفاد کے وقت ایک طرح سے بروئے کار لانے اور عوامی شکایات دیگر طرح سے بروئے کار لانے کا وتیرہ چھوڑ دیں ۔ پولیس آئی جی کی بکری تو دو تین گھنٹے میں برآمد کرنے کا ریکارڈ رکھتی ہے سی سی پی او کی بھینسوں کی چوری پر پورے علاقے کے عوام کے گھروں پر بار بار چھاپے مارتی ہے مگر اس سے آگے جہاں عوام کی حد شروع ہوتی ہے وہاں پر پولیس کو اونگھ آنے لگتی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کے پی پولیس کو یہ دوہرا معیار ترک کئے بغیر تبدیلی اور مثالی ہونے کا دعویٰ نہیںکرنا چاہیئے ۔ پولیس کو اس رمضان المبارک میں عوام سے خاص طور پر نرم رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے کجا کہ عوام پر غصہ اتارا جائے ۔
چوہوں کے بعد اب کچرے کا مسئلہ لاینحل !
سندھ حکومت پر کراچی کا کچرا اٹھانے میں ناکامی کی پھبتی نے خاصی شہرت حاصل کر لی تھی جبکہ خیبرپختونخوا میں چوہوں سے نمٹنے میں ناکامی کا شہرہ تھا اب کے پی کے دارالحکومت پشاور میں کچرا اٹھا نا اور اسے ٹھکانے لگانا اس قدر مشکل کام بن گیا ہے کہ صوبے کی حکومت اور ڈبلیو ایس ایس پی اور کسی حد تک پی ڈی اے تو کیا چینی کمپنیوں کی بھی ہمت جواب دے گئی ۔ صوبائی دارالحکومت پشاور کو پھولوں اور باغات کا شہر بناتے بناتے اس طرح کی صورتحال سے دو چار ہونا سنیئر وزیر بلدیات اور اس کے محکمے کی کار کردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔ موجودہ حکومت نے کروڑوں کے مصرف سے ہونے والے کام کو اربوں روپے دے کر جس کمپنی کا قیام عمل میں لایا تھا اس کا آدھا دھڑتو صوبائی حکومت نے خود ہی کاٹ کر علیحدہ کر دیا ۔ صوبائی دارالحکومت میں کچرا ٹھکانے لگانے گلیوں کی صفائی اور نالیوں کی صفائی اس قدرمشکل کیوں ہوگئی ہے کہ حکومت کے بس میں نہ رہا ہمارے تئیں اس کی سب سے بڑی وجہ بلدیاتی ملازمین کی کام چوری وغیر حاضری اور اعلیٰ حکام کی غفلت اور ملازمین سے سرکاری کام لینے کی بجائے اپنی خدمت میں لگانا ہے کتنے گھوسٹ ملازمین کا صرف تنخواہ کے دن انکشاف ہوتا ہے ۔ شہر کے کوڑے کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کی جگہیں بھر چکی ہیں حیات آباد کے کچہرے کو فیز سات کے پل سے خشک ندی میں گرا کر آگ لگا کر آلودگی کی دوسری قسم میں تبدیل کر کے شہریوں کی طرف مراجعت کا تماشا ہر روز لگتا ہے لیکن احتجاج کرتے کرتے تنگ آجاتے ہیں مگر سی ڈی ایم ڈی ڈی ، ڈبلیو ایس ایس پی اور پی ڈی اے خواہ جس نام کا بھی ادارہ آتا ہے پر نالہ وہیں کاوہیں گرتاہے ۔تن آسانی کیلئے چینی کمپنیوں کو متوجہ کرنے کی بڑی سعی کی گئی مگر ناکامی کی شنید ہے۔ اگر صوبائی حکومت کا ایک پورا محکمہ شہر کے کوڑے کو ٹھکانے لگانے کی سکت نہیں رکھتا اور اس کیلئے بین الاقوامی فرم کی خدمت کی ضرورت پیش آتی ہے تو پھر ہمیں سوچنا چاہیئے کہ خزانے سے بھاری وسائل کے ضیاع کی بھلا ضرورت ہی کیا ہے ۔ شہر کے عوام کا رویہ اور صفائی کی سمجھ بوجھ اور تعاون و عدم تعاون کی کیفیت بھی حکومتی اداروں سے مختلف نہیں ۔ بہتر ہوگا کہ ڈبلیو ایس ایس پی کی قیادت اور بالائی عملے کو تبدیل کر کے ایسے افراد کو آگے لایا جائے جو کم از کم کوڑا کرکٹ کو ٹھکانا لگانے کی اہلیت اور استعداد کے تو حامل ہوں ۔ حکومت کو چاہیئے کہ ڈبلیو ایس ایس پی اورپی ڈی اے کو اس ضمن میں ضروری وسائل کی فراہمی میں سنجیدہ اقدامات کا مظاہرہ کرے اور متعلقہ عملہ گھروں اور حجروں کی بجائے گلی محلے کی صفائی میں مصروف نظر آنا چاہیئے ۔

متعلقہ خبریں