داعش یا 'را'

داعش یا 'را'

اس خبرکی اشاعت کے بعد کہ گزشتہ ماہ کے اواخر میں جناح روڈ کوئٹہ سے چینی زبان کے ایک مرد اور ایک خاتون ٹیچر کو ''داعش'' نے قتل کردیا ہے ، اس دعوے کے بارے میں تفتیش زیادہ سرگرم ہو جانی چاہیے تھی کہ آیا یہ قتل اسی دولت اسلامیہ کے عناصر نے کیا ہے جو عراق اور شام میںمصروف پیکار ہے یا کسی اور عنصر کی کارروائی ہے جواپنی شناخت گم رکھنے کے لیے اور تفتیش کرنے والوں کوغلط راستے پر لگانے کے لیے داعش کا نام استعمال کر رہاہے۔اس حوالے سے تفتیش کا زیادہ فعال ہونا اس لیے ضروری ہے کہ جوںجوں پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے آگے بڑھیںگے مزید چینی پاکستان آئیںگے جن کی پہچان آسان ہے اور ان کے اغواء یا ان پرحملوں کی وارداتوں میںاضافہ کے امکان بڑھیںگے۔ اس سے پہلے پہلے اگر تفتیشی ادارے کسی ایسے نتیجے پر پہنچ جائیںکہ چینی باشندوں کے اغواء اور قتل کی واردات میںکونسا عنصر ملوث ہے ۔ زیرِ زمین دہشت گرد تنظیموں کے اس عنصر سے تعلقات کس قدر وسیع ہیں۔بیرون پاکستان اس کے رابطے کس کے ساتھ ہیں تو یقینا چین سے آنے والے سرمایہ کاروںاوراہلکاروں کی مستقبل قریب میںبڑھتی ہوئی تعداد کی حفاظت کے لیے بہتر منصوبہ بندی کی جاسکے گی اور بہتر طریقہ کار اختیار کیا جاسکے گا۔لہٰذا حال ہی میںچینی زبان کے دو ٹیچروں کے اغواء اور اس کے بعد قتل کے دعوے کی تحقیقات نہایت سنجیدگی سے کی جانی چاہئیں۔ اس کا دائرہ کار وسیع کیا جاناچاہیے اور اس میںمزید تجربہ کار تفتیشی ماہرین کی خدمات حاصل کی جانی چاہئیں۔ تاآنکہ اس دعوے کی واضح طور پر تصدیق ہو جائے کہ اس چینی جوڑے کو دولت اسلامیہ عراق وشام نے اغوا کیا اور پھر چنددن بعدکسی وجہ سے قتل کردیایایہ کسی اور عنصر کی کارروائی ہے جس نے اپنی شناخت خفیہ رکھنے کے لیے داعش کا نام استعمال کیا ہے۔ سیکورٹی کے اقدامات پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے ۔چین کی سرحد سے گوادر کی بندرگاہ چھ ساڑھے چھ سو میل لمبی شاہراہ کی سیکورٹی کے لیے پندرہ ہزار کی نفری پر مشتمل پاک فوج کاایک ڈویژن مامور کیاجارہاہے ۔ کہاجاتا ہے کہ اس فوج کے پاس فضائی نگرانی کا بندوبست بھی ہوگا اور فوری ردِعمل کے وسائل بھی ہوںگے۔ اس کے ساتھ ساتھ امکان ہے کہ کچھ مقامی آبادیوں کی بنیاد بھی پڑ جائے گی۔ اس لیے اس ایک ڈویژن فوج کے فرائض دن رات نگرانی اور متحرک رہنے کے ہوں گے کیونکہ اس نے نہ صرف سڑک پر آنے جانے والے ٹرکوں کی حفاظت کرنی ہے بلکہ خود شاہراہ کو نقصان پہنچانے کی کارروائیوں سے بھی محفوظ رکھنا ہوگا۔ پنجاب میںچینی فرموںکے تعاون سے متعدد منصوبے کام کریںگے اور چینی سرمایہ کار بھی آئیںگے۔ اس کے لیے کہا جارہاہے حکومت پنجاب نے ایک خصوصی حفاظتی دستہ تشکیل دیا ہے جس میںفی الحال 6000اہل کار ہیںجن کی تعداد دس ہزار تک بڑھائی جا سکے گی۔ اس یونٹ کا کام چینی اہل کاروں اور سرمایہ کاروں کا تحفظ ہوگا۔ پنجاب میں اوسطاً کتنے چینی متوقع ہوںگے جن کے لیے یہ دستہ قائم کیاجا رہاہے اسکے بارے میںابھی کوئی اندازہ نہیںہے۔تاہم ایک بات طے ہے کہ پاکستان میںآنے والے چینی باشندوں کواپنے کوائف اور اپنی نقل وحرکت کااندراج کروانا ہوگا۔اس طرح ایک انگریزی معاصر کی یہ خبر بے بنیاد ہوجاتی ہے کہ چین سے بغیر ویزہ' پاسپورٹ کے بھاری تعداد میںچینیوںکو پاکستان آنے کی اجازت ہوگی۔سندھ اور خیبر پختونخوا میںبھی ایسے ہی حفاظتی دستے قائم کیے جارہے ہیں۔لیکن ان دستوںکی افادیت اسی صورت میںہوگی جب تمام آنے والے چینیوں کے کوائف کااندراج ہوجائے اور ان کے قیام کاانتظام مخصوص مقامات پر کیاجائے اور ان کی ٹرانسپورٹ کا خصوصی بندوبست ہو۔اگر یہ سب کچھ ممکن بھی بنا لیا جائے توایسا انتظام مختصر مدت تک تو چلتاہے اس کے بعد انسانوںکی میل جول کی فطرت ہی ایسے انتظام کو کمزور کر دیتی ہے۔کسی ملک کو سیکورٹی سٹیٹ کے طور پر نہیں چلایاجاسکتا۔اس لیے ضروری ہے کہ مجرموںکے مقاصد تک رسائی کے ذریعے ان کی شناخت قائم کی جائے۔چینی جوڑے کے اغواء کے حوالے سے عام معلومات میںصرف اتنا ہے کہ وہ پرائیویٹ شہریوںکے طور پر کوئٹہ میںچینی زبان کی تعلیم دیتے تھے۔ان کے اغوااور مبینہ قتل کے دعوے کی بنیاد محض اتنی ہے کہ ان کے اغواء میں استعمال ہونے والی گاڑی سپلنجی کی ان پہاڑیوں کے پاس ملی ہے جہاں پاک فوج نے ان کی تلاش میںانٹیلی جنس کی بنیاد پرآپریشن کیا۔ جس میں دس سے زیادہ جنگجو ہلاک ہو گئے جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان کا تعلق داعش سے تھا۔یہ معلومات یقینا اس ایک جنگجو نے دی ہوں گی جس کے بارے میں بتایا جا رہاہے کہ زندہ گرفتار کر لیا گیا۔اگر یہ داعش کے عناصر تھے جو سپلنجی کے غاروںمیںکانفرنس کے لیے آئے تھے توپہلے یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ ان کا ایک دوسرے سے رابطہ کیسے ہوا۔ اور اس رابطے پر یقین کی وجوہ کیا تھیں۔کچھ قابلِ غور باتیں اور بھی ہیں۔ مثال کے طورپر اُنہیںکیاپڑی تھی کہ وہ چینی باشندوںکے اغواء میں استعمال ہونے والی کار خفیہ ملاقات کے مقام تک لے جاتے۔جب کہ اس کار کی سی سی ٹی وی فوٹیج نشر ہو چکی تھی۔یقینا اغوا کاروں کامقصد تھا کہ غاروں میں ملا قا ت کے لیے آنے والوں پر اغواء کاالزام لگے۔ خواہ ان کے مارے جانے کے بعد خواہ ان کے فرار ہوجانے کے بعد ۔ یعنی اغوا کاروں کوسن گن تھی کہ کچھ لوگ سپلنجی کے غاروں میںملاقات کرنے والے ہیں۔اگر یہ ملاقات کرنے والے داعش کے عناصر تھے تو چینی باشندوں کااغوا ان کی کارروائی نہیں ہو سکتی۔یہ کسی اور عنصر کی کارروائی ہے جو اپنی شناخت پوشیدہ رکھنے کے لیے ان پر اغوا کاالزام چسپاں کرنا چاہتاتھا۔یہ عنصر بھارتی خفیہ ایجنسی 'را' ہی ہوسکتاہے۔اور داعش سے کہیںزیادہ سی پیک کو ناکام بنانا' پاکستان اور چین کے تعلقات کوخراب کرنا بھارت کی دلچسپی ہے۔

متعلقہ خبریں