نقل کا بڑھتا رجحان ،محرکات اور سدِباب

نقل کا بڑھتا رجحان ،محرکات اور سدِباب

ایک پروفیسرنے ڈاکٹریٹ ' ماسٹرز اور بیچلرز کے طلباء کے لیے ایک معنی خیز پیغام لکھا اور اسے یونیورسٹی کے داخلی راستے پر لگا دیا۔ پیغام کچھ یوں تھا کہ قوم کی بربادی کے لیے ایٹم بم ، میزائل کی ضرورت نہیں ہوتی' اس کے لیے صرف تعلیم کا خراب معیار اور امتحانات میں طلباء کو نقل کی اجازت دینا ہی کافی ہے۔ اس عمل سے ایسے ڈاکٹرز وجود میں آئیں گے جن کے ہاتھوں مریض انتقال کر جائیں گے۔ ایسے انجینئرز کی بنائی ہوئی عمارتیں زمین بوس ہو جائیں گی۔ایسے اکاؤننٹنٹس پیسوں کا درست استعمال نہیں کر سکیں گے۔ ایسے مذہبی اسکالرز انسانیت کا قتل کر دیں گے۔ اور ایسے جج انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہوں گے۔ غرض کہ ملک تمام تر شعبوں میں پستی میں چلا جائے گا یوں تعلیم کا خراب معیار قوموں کی بربادی کا باعث بنتا ہے۔ پاکستان میں بدقسمتی سے تعلیمی ترقی پر خاص توجہ نہیں دی گئی ہے، یوںہمارے ہاں رائج نظام تعلیم میں اتنی خرابیاں پیدا ہو گئی ہیں کہ نوجوانوں کے پاس بڑی بڑی ڈگریاں تو ہیں لیکن شعور نہیں، انہوں نے اعلیٰ تعلیم تو حاصل کی ہے لیکن آتا جاتا کچھ نہیں ۔نوجوانوں میں شعور کی کمی کی دیگر بے شمار وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ امتحانات کا شفاف نہ ہونا اور نقل کا بڑھتا رجحان ہے۔ ہمارے تعلیمی نظام کو کھوکھلا کرنے میں نقل نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔

سب سے پہلے کتابوں کے گائیڈز ' شیٹ پیپرز ' خلاصے وجود میں آئے، ان کا استعمال صلاحیت کو بڑھانے کے لیے نہیں بلکہ ان پر نقل کا دارومدار بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اصل کتاب طلباء شاذونادر ہی دیکھتے ہیں۔ چند سال قبل تک نقل کا رجحان عموماً میٹرک اور اس کے بعد کے امتحانات میں دیکھنے میں آتا تھا مگر اب یہ خطرناک رجحان بڑھتے بڑھتے مڈل لیول اور اسکول کے امتحانوں تک آ گیا ہے۔ا سکول میں پڑھنے کے بعد گھر میں پڑھنے کا تصور دھیرے دھیرے ختم ہوتا جا رہا ہے۔
ٹیوشن سنٹرز میں پڑھنے والے طلباء اپنے سنٹرز منتخب کرنے سے پہلے یہ ضرور دیکھتے ہیں کہ ان اساتذہ کی امتحانی مراکز تک رسائی کتنی ہے۔ نقل کے بڑھتے رجحان کی کئی وجوہات ہیں۔ اساتذہ کی کمی کے باعث کورس پڑھانے والا کوئی نہیں ہوتا۔ بعض اوقات استاد موجود ہوتا ہے مگر اس صلاحیت کا اہل نہیں ہوتا کہ اچھے طریقے سے طلباء کو پڑھا سکے۔ ایف ایس سی میں حاصل کردہ نمبروں کی بنیاد پر میڈیکل اور انجینئرنگ کالجز میں داخلہ ہوتا ہے۔ لہٰذا اس امتحان میں نقل کا تناسب زیادہ ہوتا ہے۔ اور اس میں طلباء باقاعدہ منصوبہ بندی سے نقل کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس مذموم کام میں ایسے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں جن کا گمان بھی نہیں ہوتا۔ یوں سارا امتحانی نظام مشکوک ہو جاتا ہے۔ انہی پس پردہ محرکات کے باعث اساتذہ میں وہ جوش نہیں رہتا جو کبھی اساتذہ کا خاصا ہوا کرتا تھا۔ اگر طلباء کو یقین ہو کہ امتحان شفاف ہوں گے تو وہ پڑھنے پر مجبور ہوں گے۔ کیوں کہ نہ پڑھنے کی صورت میں وہ ناکام ہو سکتے ہیں ۔نقل کے ذریعے پاس ہونے والے طلباء معاشرے پر بوجھ بن جاتے ہیں۔ ان کے پاس سند تو ہوتی ہے مگر کسی کام کے اہل نہیں ہوتے،ایسے طلباء میں احساس کمتری کا پایا جانا فطری امر ہے ۔ نقل کے نقصانات میں زیادہ نقصان ان غریب طلباء کا ہوتا ہے جو سارا سال اپنی محنت اور کوشش سے تیاری کرتے ہیں مگر نقل کے باعث نالائق طلباء زیادہ نمبر لے جاتے ہیں اور محنتی طلباء کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے،اس سے بھی بڑھ کر نقصان ملک و قوم اور سماج کا ہوتا ہے جو لاکھوں کے حساب سے ان طلباء پر پیسے خرچ کرکے اس سے امیدیں باندھ لیتے ہیں ۔ اس ضمن میں سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وجہ سے بھی کہ اس سے ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔ امتحانی نظام میں انفرادی سطح پر بورڈ ، یونیورسٹی میں کئی بار کوشش ہوئی ہے۔
اگر ان کوششوں کی پذیرائی عوامی سطح پر کی جائے تو مجموعی بہتری کی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔ حکومت اور خصوصی طور پر محکمہ تعلیم توجہ دے تو تعلیمی بہتری کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اساتذہ اپنے طلباء میں تعلیم کے ساتھ ساتھ نقل سے نفرت پیدا کریں، جب کہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو نقل کے نقصانات بتانے کے ساتھ ساتھ اس سے دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ اگر ہر طالب علم کو یقین ہو کہ مطلوبہ قابلیت و اہمیت کے بغیر ملازمت کا حصول کسی طرح ممکن نہیں تو یقینا وہ محنت کی طرف راغب ہو گا اور نقل سے دور رہے گا، اس کی ایک جیتی جاگتی مثال ہمارے سامنے میڈیکل ،انجینئرنگ کے طلباء ہیں انہوں اس بات کا پہلے سے احساس ہوتا ہے کہ کم نمبر کی صورت میں انہیں داخلہ نہیںملے گا اس لئے وہ طلباء خوب تیاری کرتے ہیں ،اگر میڈیکل اور انجینئرنگ کے طلباء محنت سے اچھے نمبر حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں تو دیگر طلباء کیوں نہیں کامیاب ہوسکتے ؟نقل کے سد باب کے لئے امتحانی سسٹم کو سخت سے سخت بنایا جائے ،کڑی نگرانی کے ساتھ ساتھ امتحانی مراکز میں سی سی ٹی وی کیمرے لگا کر اور کنٹرول روم بنا کر امتحانات کو مانیٹر کیا جا سکتا ہے۔ نقل کرنے اور کرانے والوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور ایسے لوگوں کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی کی جائے کیونکہ نقل کی روک تھام قومی ضرورت ہے جس کے لیے ہر فرد اور ہر ادارے کو اپنا فرض نبھانا ہے۔

متعلقہ خبریں