جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں

جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں

ویسے تو اگلے ہی روز جب مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی سربراہی میں قائم مسجد قاسم علی خان کی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کے مطابق پشاور اور صوبے کے بعض دیگر شہروں اوردیہات میں اکثر لوگوں کا پہلا روزہ اور وفاقی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کے مطابق رمضان کے مہینے کے حوالے سے چاند رات تھی ، آسمان پر ہلال رمضان کے سائز اور آسمان پر بلندی کے علاوہ دیر تک اس کی جھلک دکھائی دے رہی تھی ، پشاور کے ان لوگوں کو مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی بے جا ہٹ دھرمی کا شدید احساس ہو گیا تھا جنہوں نے حسب عادت (صرف مخالفت برائے مخالفت کے جذبے سے مغلوب ہو کر ) روزہ نہیں رکھا تھا ،کہ اب کی بار (صرف اب کی بار ؟)واقعی انہوں نے ایک فرض روزہ چھوڑ دیا ہے ، اور بعض کر مفرمائوں نے رابطہ کر کے اس صورتحال کے بارے میں کالم لکھنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی ، اور کہا کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے ملک کے لگ بھگ دس بارہ کروڑ (بالغ افراد ) شرعی روزے سے محروم رکھ کر جو زیادتی کی ہے اس کا نوٹس لینے کے حوالے سے حکومت کی توجہ مبذول کرائی جائے ، تاہم ، میں نے پھر بھی صبر کا دامن تھامے رکھنے اور کچھ دن اور انتظار کر کے صورتحال کر مزید واضح ہونے تک کالم تحریر کرنے سے احتراز کیا ۔ حالانکہ اس دوران سینیٹ میں بھی اس حوالے سے تحفظات کا اظہا کیا گیا اور چیئر مین رویت ہلال کمیٹی کے رویئے پر لے دے ہوئی ۔

لیکن پھر بھی میں اپنے موقف پر قائم رہا کہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے اور بالآخر وہ گھڑی آہی گئی کہ مسجد قاسم علی خان رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کی تصدیق خود بدررمضان یعنی چودھویں کے چاند نے کی اور مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کے مطابق کا چاند آسمان پر جگمگ جگمگ کرتے ہوئے ضو پاشیاں کر رہا تھا ، یہ جمعرات کا دن گزار کر جمعتہ المبارک کی رات تھی اور یوں پورے چاند کی کرنیں پشاور کے علمائے دین کے فیصلے کی حقانیت پر روشنی ڈال رہی تھیں ۔ اس طرح تھوڑے سے انتظار کے بعد نہ صرف مسجد قاسم علی خان رویت کمیٹی کا فیصلہ درست ثابت ہوا بلکہ مجھے بھی جلد بازی میں کالم لکھنے کی بجائے ٹھوس ثبوت کے ساتھ موضوع پردرست انداز میں تبصرہ کرنے کا موقع ملا ۔
جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں
میں اپنے شہر کا سب سے بڑا فسادی ہوں
مجھے یاد ہے کہ گزشتہ برس بھی اس قسم کی صورتحال تھی اور وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے ملک بھر میں ایک ہی روز عید اور رمضان کے آغاز کیلئے کوششیں کی تھیں ، مفتی شہاب الدین پوپلزئی کو (مبینہ طور پر ) عمرے پر بھجوا دیا گیا تھا ، مگر شاید اب کی بار ایسی تگڑم بازی نہ چل سکتی ، اور باوجود یہ کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ پر صرف خیبر پختونخواہی سے نہیں بلکہ ملک کے دیگر حصوں سے بھی جید علمائے کرام اعتر ا ضا ت اٹھائے جارہے ہیں کہ وہ اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس جلد ی ختم کر دیتے ہیں بلکہ خیبر پختونخوا کی شہادتوں کو پر کاہ کے برابر اہمیت نہ دیتے ہوئے انہیں ر د کر تے ہیں اور ایسا گزشتہ کئی برس سے ہو رہا ہے ، لیکن دوسروں کا قبلہ درست کرنے کے زعم میں مبتلا مفتی منیب الرحمن کا رویہ بتا رہا ہے کہ رویت ہلال رمضان اور عید کے حوالے سے ان کا اپنا قبلہ سوالیہ نشان کی زد میں ہے ، گزشتہ مہینے سینیٹ میں رویت ہلال کمیٹی کی تشکیل نو کے حوالے سے واضح فیصلے کے باوجود وفاقی وزیر مذہبی امور صرف اسی لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی تشکیل نو کرنے کو تیار دکھائی نہیں دیتے کہ چیئر مین ان کے اپنے علاقے سے تعلق رکھتا ہے ، اور وفاقی وزیر کی پشت پناہی کی وجہ سے وہ ملک بھر کے لوگوں کے روزے اور عید کو متنازعہ بنانے کی کامیاب کوشش کر رہا ہے ، حالانکہ مجھے یاد ہے کہ اسی حوالے سے گزشتہ برس بھی وفاقی وزیر مذہبی امور نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ چیئر مین کو اس بات پر آمادہ کریں گے کہ وہ اجلاس جلدی ختم کرنے کے بجائے خیبر پختونخوا کی شہادتوں کا انتظار کریں ، مگر اس برس ایسا نہیں ہو سکا اس حوالے سے گزشتہ برس چھپنے والے بعض کالموں کے اقتباسات سے صورتحال مزید واضح ہو کر سامنے آجائے گی ۔اپنے کالم مطبوعہ 3جون 2016ء بہ عنوان ''رویت ہلال کا مقدمہ '' میں موضوع کے حوالے سے میں نے لکھا تھا کہ بات رویوں کی ہے ، اگر ایک علاقے کے ساتھ ہمیشہ منفی رویہ اختیار کیا جائے گا تو نتیجہ بالکل یہی نکلے گا جیسا کہ گزشتہ روز پشاور کے اس اجلاس کا نکلا جس میں ایک ہی دن روزہ اور عید کرنے کے لیے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف کی سربراہی میں جید علمائے کرام اکٹھے ہو کر روزہ اور عید کو کسی کروٹ بٹھانے کی کوشش کرتے رہے مگر اونٹ کے بارے میں تو ویسے بھی ضرب المثل مشہور ہے کہ اونٹ رے اونٹ تیری کونسی کل سیدھی ؟ اس لیے اونٹ نے کسی بھی کروٹ بیٹھنے سے انکار کر دیا یوں محولہ اجلاس بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا ، ایک جانب علمائے کرام نے رویت ہلال کمیٹی کے چیئر مین پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں اس منصب سے فوری طور پر ہٹانے پر زور دیا ، تاہم وزیر موصوف نے چیئر مین موصوف کو '' اپنا گرائیں '' سمجھتے ہوئے بات کو قانون سازی کی جانب موڑ دیا ۔سوال بہت ہی شدت سے بار بار ابھرا بھی ہے اور اب مزید شدت سے ابھررہا ہے کہ جس شخص پر پورے ملک کے عوام کو تو ایک طرف چھوڑیئے سینیٹ جیسے ادارے میں اعتراضات کئے جارہے ہیں ، اسے حکومت نے کیوں قوم کے سروں پر مسلط کر رکھا ہے ، بلکہ اس کوتو خود اس منصب سے الگ ہو جانا چاہیئے ۔ مگر ہمارے ہاں یہ کم بخت کرسی اس قدر چپکو ہے کہ جو اس پر بیٹھ جائے وہ اس سے چپک کر رہ جاتا ہے ۔

متعلقہ خبریں