مسئلہ قطر اور عالم اسلام کی زبوں حالی

مسئلہ قطر اور عالم اسلام کی زبوں حالی

امریکی صدر کے پہلے بیرونی دورے نے عالم اسلام پر جو دور رس اثرات مرتب کئے اس کے نتائج بہت گمبھیر اور پیچیدہ صورت میں ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ وہ شخص جس کے بارے میں اس کے اپنے ملک میں اس کے صدر ہونے کے پہلے دن سے مظاہرے اور بحث مباحثے شروع ہیں اور اس وقت اس کے بیٹے' داماد اور اس کے اپنے خلاف ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کو ہٹانے کے حوالے سے سینٹ میں تحقیقات اور سیاستدانوں میں بیان بازیاں جاری ہیں اور وہاںکے میڈیا میں اب یہ بحث سامنے آئی ہے کہ امریکی صدر کی ذہنی صحت اور نفسیاتی پس منظر تسلی بخش نہیں ہے۔ عالم اسلام کے اہم ترین ملک سعودی عرب کے دارالحکو مت میں اپنے دورے کے دوران ایک کانفرنس میں کی نوٹ سپیکر کی حیثیت سے ایسی باتیں کیں کہ عالم اسلام کو ظاہراً ایک بڑے انتشار و خلفشار سے دو چار کردیا۔ ایران کے خلاف کھلم کھلا عالم اسلام کے کند ھے پر بندوق رکھ کر اعلان جنگ کرایاگیا جس سے یقینا پاکستان اور ترکی جیسے ممالک کو ایک ایسے مخمصے میں مبتلا کردیا کہ '' نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن'' پاکستان بے چارے کی تو معاشی مجبوریاں ہیں (جو ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں کے ہاتھوں ہیں ورنہ فی نفسہ پاکستان غریب نہیں ہے) ابھی ایران کا معاملہ گرم ہی تھا کہ قطر نے جرأت کا اظہار کرتے ہوئے بین السطور ہی سہی عندیہ دیا کہ ہم ٹرمپ کے کہنے پر ایران کے خلاف جاکر اپنے ملک و عوام کے لئے خواہ مخواہ کے مخالف پیدا نہیں کرسکتے۔ بس قطر کا یہ گناہ اتنا بڑا ہو ا کہ سعودی عرب کو گویا بہانہ مل گیا۔ آئو دیکھا نہ تائو اپنے حواری خلیجی ملکوں کو فوراً حکم دیا کہ قطر کے ساتھ سفارتی ' معاشی' تجارتی اور یہاں تک زمینی وجغرافیائی بحری و بری اور فضائی راستوں تک کو بند کرنے اور ختم کرنے کا اعلان کیا۔قطر کا گناہ اور قصور یہ بتایا گیا کہ یہ دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کی مد د کرتا رہا ہے۔ بس کافی ہوگیا۔ ہم نے بہت برداشت کیا اب مزیدکوئی اور رعایت نہیں برتی جائے گی کیونکہ بڑے صاحب (صدر ٹرمپ) نے حکم دیا ہے کہ قطر کو لگام دے کر دن میں تارے دکھائیں۔ ٹرمپ نے بغیر کسی لگی لپٹی کے بیان داغ دیا کہ سعودی عرب سے ریاض کانفرنس کے دوران ہم نے کہا تھا کہ قطر کو ذرا اس کی ''اوقات'' بتا دیں۔ اب قطر اگرچہ معاشی لحاظ سے ایک مضبوط ملک ہے لیکن چاروں طرف سے سعودی عرب اور اس کے حواریوں میں گھرا ہوا ہے۔ لہٰذا آناً فاناً قطر پر پابندیاں لگوا دیں اور اسے کروڑوں ریال کا نقصان ہونے لگا جو پورے عالم اسلام کا نقصان ہے۔ اب قطر پر دہشت گردوں اور انتہا پسندو ں کی امداد کا جو الزام ہے اس کی تحقیق کرنے والا کوئی نہیں ہے۔

پاکستان پھر اپنی بے چارگی کاشکار ہے اور کہتا پھر رہا ہے کہ ''قطر کے معاملے میں پاکستان غیر جانبدار رہے گا'' واہ! کیا شاندار پالیسی ہے اور معلوم نہیں کہ ترکی کے طیب اردوان کو کیا ہوگیا ہے کہ اپنے لئے خواہ مخواہ کی مصیبتیں ڈھونڈ رہا ہے۔ کبھی غزہ کے محصورین کے لئے فریڈم فلو ٹیلا بھیج کر اپنے افراد کو شہید کروا کر اسرائیل جیسے طاقتور کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرلیتا ہے اور کبھی سعودی عرب اور امریکہ کی پرواہ کئے بغیر قطر کی حمایت کا نہ صرف اعلان کرتا ہے بلکہ فوری طور پر اپنی افواج بھی روانہ کرتا ہے تاکہ قطر کی مدد کی جاسکے۔ قطر پر الزام ہے کہ وہ اخوان المسلمون اور حماس کی مدد اور سرپرستی کرتا ہے۔ شیخ یوسف القرضاوی کو قطر میں سہولیات فراہم کی ہیں جہاں سے وقتاً فوقتاً عالم اسلام اور عالم عرب کے حالات و معالات پر قرآن و سنت کی روشنی رہنمائی کرتا ہے۔ اخوان المسلمون عالم اسلام کی واحد مذہبی سیاسی جماعت ہے جو مصر کے انتخابات میں حصہ لیتی رہی ہے اور گزشتہ برسوں میں انتخابات جیت کر محمد مرسی کی صدارت میں ایک سال تک مصر پر حکمران رہی۔ لیکن ان کا بھی گناہ اور جرم یہ ہے کہ وہ القدس الشریف پر اسرائیل کے قبضے کو غاصبانہ سمجھتے ہیں۔ اپنے دور حکومت میں فلسطینیوں کے لئے رفاہ کراسنگ کھول دیا تھا جس کے ذریعے اہل فلسطین کو معاشی سانس لینے کا موقع ملا لیکن اسرائیل نے الزام لگایا کہ حماس کے ''دہشت گرد'' اس کو استعمال کرتے ہیں۔ امریکہ' سعودی عرب اور بعض دیگر ممالک نے مرسی حکومت کو ختم کرنے میں کردار ادا کرتے ہوئے جنرل السیسی کی آمریت کو پروان چڑھایا۔ اے عالم اسلام کے حکمرانو! ہوش کے ناخن لو! اخوان اور حماس کے دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کو ہم نے اسی طرح ختم کیا۔ تو اندلس کی تاریخ کاغور سے مطالعہ کرلو۔ یہ انتہا پسند ختم ہوگئے تو اسرائیل اپنے پارلیمنٹ کی پیشانی پر لکھے ہوئے عزم کو پورا کرنے میں دیر نہیں لگائے گا۔'' اے عظیم تر اسرائیل! تیری سرحدیں نیل کے ساحل سے لے کر دجلہ و فرات تک ہیں'' کوئی غور کرے کہ اس میں کون کون سے ملک و علاقے شامل ہیں'' خدارا آپس میں اتفاق سے رہو۔ قطر یا کسی اور اسلامی ملک کو کنارے نہ لگائو ورنہ بھیڑیا تمہیں ایک ایک کرکے ہڑپ کرے گا اور اس دن سے الامان والحفیظ!

متعلقہ خبریں