رمضان اور شکرگزاری

رمضان اور شکرگزاری

رمضان کا مہینہ اپنی پوری رفتار کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے ۔گرمی اور وہ بھی جون کے مہینے کی، اللہ کی پناہ ،لیکن اللہ کی رضاکے لیے ہم سب روزے جیسی مشکل عبادت میں مشغول ہیں ۔تبھی رب عرش عظیم پر اپنے روزہ داروں پر فخر کرتا ہے کہ روزہ دار کیسے کھاناپینا اور اپنی نفسانی خواہشوں کو اس کے لیے معطل کردیتا ہے ۔روزہ دار کا مقصد بھی یقینا اللہ کی خوشنودی ہے ،دعا ہے کہ یہ مقصد پورا بھی ہواور جو اجر روزہ داروں کے لیے طے کیا جاچکا ہے وہی اجر ہمیں اور آپ کو مل جائے ۔ برکتیں بھی تو اللہ نے بے انتہارکھ دی ہیں اپنے روزہ داروں کے لیے ۔ ہر دسترخوان سجا ہی رہتا ہے ، اور کیا کیا نعمتیں نہیں کہ جو کام و دہن کولذتیں فراہم کرتی ہیں ۔ لوگوں کے دل بھی اس مہینے میں بڑے ہوجاتے ہیں ۔جہاں کوئی حاجت مند دیکھا اپنے مقدور کچھ دے دیا ۔ یہ الگ بات کہ بازاروں میں قدم قدم پر پروفیشنل گداگر ہاتھ پھیلائے کھڑے رہتے ہیں ۔دل میں کھٹکا سا رہتا ہے کہ کہیںضرورت مندکا حق کسی اور کو نہ مل جائے ۔مگراللہ کے نام پر مانگنے والے کو دھتکارہ بھی تو نہیں جاسکتا کیا خبر کہ واقعی کوئی حاجت مند ہی ہو ۔دلوں کے حال بھی تو وہی جانتا ہے ۔ہمارا کام تو بس یہی ہے کہ اللہ کانام جو لے اسے دے دو۔اللہ نے ہمیں کان آنکھیں اور شعور بخشا ہے جس سے ہم اپنے ارد گر د کے لوگوں کو دیکھ سکتے ہیں اور ان کے حالات کو پرکھ سکتے ہیں کہ کون حاجتیں رکھتا ہے ۔ جب ہم اپنے اردگرد کے لوگوں کی دیگر حوالوں سے خبر رکھ سکتے ہیں تو کسی کی معاشی حالت کوکیسے ہم معلوم نہیں کرسکتے ۔افسوس کی بات ہوگی کہ ہمارا کوئی عزیز رشتہ دار ، ہمسایہ ہماری نظروں سے اوجھل رہے اور ہم اس کا حق ادا نہ کرپائیں ۔ مال کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ انسان اسے دوسروں کو دینے میں تامل برتا ہے اور یہ بات فطری بھی ہے کہ بھلا کمایامیں نے اور دوں دوسروں کو۔لیکن جب ہم اللہ کی خوشنودی کے لیے ، اس کے حکم کو مانتے ہوئے روزہ جیسی عبادت کے لیے اپنے آپ کو تیار کرلیتے ہیں تو اسی اللہ کے وعدے کو کیوں بھول جاتے ہیں کہ اس کے کے راستے میں جتنا خرچ کروگے اس سے کئی گناواپس ملے گا۔ یہاں مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو کچھ ہمارے پاس ہوتا ہے اسے ہم اپنا سمجھتے ہیں یا اپنا کمایا ہوا سمجھتے ہیں جبکہ ہمارا ایمان تو یہی کہتا ہے کہ جو کچھ ہمارے پاس ہے وہ اسی رب کی دین ہے ۔ہمیں اپنا وہ ہاتھ تو دکھائی دیتا ہے کہ جس سے ہم دے رہے ہوتے ہیں لیکن اللہ جو ہمیں دکھائی نہیں دیتا اور نہ ہی اس کی نعمتیں اور اس کے انعام ہمیں دکھائی دیتے سو ہم سمجھتے ہیں کہ جیسے یہ سب کچھ ہم نے اپنی تدبیر سے کمایا ہے ۔جس دن انسان اللہ کی نعمتوںکی وصولی کو سمجھ جاتا ہے پھر اس کا ہاتھ کسی کو دینے میں نہیں رکتا ۔ پھر اس انسان کو دینے میں ایک سکون ملتا ہے ۔ اس بات پر اگر سوچا جائے کہ اللہ نے ہمیں دینے والا بنایا ہے اگر وہ چاہے تو ہمیں لینے والا بھی تو بناسکتا تھا۔ ہمارے حالات سب اسی کی دین تو ہیں ۔جب اس نے ہمیںصاحب نصاب بنادیا ہے تو ہم پر یہ لازم بھی کردیا ہے کہ ہم اس کا شکر ادا کریں اور شکرگزاری کا اس سے بڑھ کر اور کیا عمل ہوسکتا ہے کہ ہم اسی کا دیا ہوا مال اس کی مخلوق پر خرچ کردیں ۔اپنے مال سے دوسروں کی مددکرنا بخدا خود انسان کے لیے بہت مفید ہوتا ہے ۔ انسان کے اندر ایک توکل کی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور یہ توکل ایسی صفت ہے کہ جو انسان کو میسر آجائے تو اس سے بڑ اغنی کوئی نہیں ہوتا ۔ دوسرا فائدہ انسان کو یہ ہوتا ہے کہ انسان کا ایمان مزید پختہ ہوجاتا ہے ۔پھر ایک مسلمان کو ایمان کی دولت سے زیادہ اور کیا بڑھ کر چاہیئے ۔ جب ہم اپنے والدین پر ڈیپنڈ کررہے ہوتے ہیں تو والدین ہی کی دی ہوئی پاکٹ منی سے والدین کے لئے کوئی چیز خرید کر لاتے ہیں تو والدین کتنے خوش ہوتے ۔ وہ اس لیے خوش نہیں ہوتے کہ ہم اپنے مال سے ان کے لیے کچھ لائے ہیں بلکہ انہیں یہ جذبہ اچھا لگتا ہے کہ بیٹے کے دل میں ان کے لیے کتنی محبت ہے ۔ اب خدا کو تو کچھ چاہیئے نہیں کہ وہ بے نیاز ذات ہے ۔سو وہ اپنی مخلوق پر خرچ کرنے سے خوش ہوجاتا ہے ۔ سوچئے تو سہی کتنا آسان ہے اتنی بڑی ذات کو کہ انسان کے عقل و شعور کی پہنچ سے بھی آگے ہے ۔بات اتنی سی ہے کہ اس یوم حساب سے زیادہ ہمیں اس دنیا کا غم زیادہ رہتا ہے ۔ یہ خوف کہ کہیں ہمارا مال ختم نہ ہوجائے ۔ مگرمال کہاں ختم ہوتا ہے ، ہاں اس کی مرضی ہوگی تو ہوجائے گا ورنہ ترقیاں ہی ترقیاں ہیں ۔ کبھی کسی نے سنا ہے کہ حاتم طائی کا مال ختم ہوگیا تھا ۔ یا کسی نے پڑھا ہے کہ عثمان غنی کا مال ختم ہوگیا تھا۔ غنی ہونا یقیناایک بہت بڑی صفت ہے ، ایک انعام ہے ،ایک خوشگوار احساس ہے ۔ ضروری یہ بھی نہیں کہ ہم بہت مالدار ہوں تبھی کسی کو کچھ دیں ۔ یار ہم اپنی پوری روٹی آدھی تو کرسکتے ہیں ۔ چاہے کسی کی استطاعت ایک روپے کی ہو، ایک نان کی ہو، ایک پرانے لباس کی ہواللہ اسے ضرور قبول فرمائے گا کیونکہ وہ تو دلوں کے حال جاننے والا ہے ۔نیکی کی بہت سی صورتیں ہوسکتی ہیں لیکن یہ صورت سب سے شاندار ہے جب انسان اپنی ذات سے بالاتر ہوجاتا ہے ۔اپنا رزق کسی کے ساتھ شیئر کرتا ہے ۔یہ مہینہ نیکی کمانے کا مہینہ ہے ، یہ مہینہ درس ہے جوانسانیت کے مکتب لے جاتا ہے ۔کسی کواپنا مال دے کر انسان اس انسان کے احساس سے آشنا ہوجاتا ہے کہ وہ کیسی زندگی گزاررہا ہے اور ساتھ اپنی ذات کے حوالے سے اس میں شکرگزاری اور عاجزی پیدا ہوجاتی ہے ۔ اللہ کی شکر گزاری اور عاجزی سے بڑھ کر اور کیا اوصاف ہوں گے جو انسان اس مہینے میں سیکھ سکتا ہے ۔ اللہ ہم سب روزہ داروں کو عاجزی اور اللہ کی شکرگزاری نصیب فرمائے ۔آمین ۔

متعلقہ خبریں