مشرقیات

مشرقیات

حضرت عمرو بن عاص فرماتے ہیں مسلمانوں کا ایک لشکر روانہ ہوا میں ان کا امیر تھا چلتے چلتے ہم اسکندریہ پہنچے تو وہاں کے بادشاہ نے پیغام بھیجا کہ اپنا ایک آدمی میرے پاس بھیجو تاکہ میں اس سے با ت کروں اور وہ مجھ سے بات کرے۔ میں نے ساتھیوں سے کہا میں خود ہی اس کے پاس جائوں گا۔ چنانچہ میں ترجمان لے کر گیا اس کے پاس بھی ترجمان تھا ہمارے لئے دو منبر رکھے گئے۔ اس نے پوچھا آپ لوگ کون ہیں ؟ میں نے کہا ہم عرب ہیں ہمارے ہاں کانٹے دار درخت اور کیکر ہوتے ہیں (کھیتیا اور باغات نہیں ہوتے )البتہ ہمارے ہاں بیت اللہ ہے۔ ہمارا علاقہ سب سے زیادہ تنگ تھا اور ہمارے معاشی حالات سب سے زیادہ سخت تھے ہم مردار کھالیتے تھے اور ایک دوسرے کا مال لوٹ لیتے تھے غرضیکہ ہماری زندگی سب سے زیادہ بری تھی۔ پھر ایک آدمی ہمارے اندر ظاہر ہوا جو ہمارے سب سے بڑے سردار نہیں تھے اور ہم میں سب سے زیادہ مالدار نہیں تھے انہوں نے کہا میں اللہ کا رسول ہوں۔ وہ ہمیں ان کاموں کا حکم کرتے جنہیں ہم جانتے نہیں تھے اور جن کاموں پر ہم اور ہمارے آبائو اجداد پڑے ہوئے تھے ان سے ہمیں روکتے تھے۔ ہم نے ان کی مخالفت کی اور انہیں جھٹلایا اور ان کی بات کو رد کر دیا یہاں تک کہ ان کے پاس دوسری قوم کے لوگ آئے اور انہوں نے کہا ہم آپ کی تصدیق کرتے ہیں۔ آپ پر ایمان لاتے ہیں آپ کا اتباع کرتے ہیں اور جو آپ سے جنگ کرے گا ہم اس سے جنگ کریں گے۔ وہ ہمیں چھوڑ کر ان کے پاس چلے گئے ہم نے وہاں جا کر ان سے کئی مرتبہ جنگ کی انہوں نے ہمارے بہت سے آدمی قتل کر دیئے اور ہم پر غالب آگئے پھر وہ آس پاس کے عربوں کی طرف متوجہ ہوئے اور جنگ کر کے ان پر بھی غالب آگئے۔ اب جو لوگ میرے پیچھے ہیں اگر ان کو آپ لوگوں کی اس عیش و عشرت کا پتہ چل جائے تو وہ سب آکر اس عیش و عشرت میں آپ کے شریک ہو جائیں۔ یہ بات سن کر وہ بادشا ہ ہنسا اور اس نے کہا آپ کے رسول نے سچ کہا ہے اور ہمارے پاس ہمارے رسول بھی وہی چیزیں لاتے رہے ہیں جو آپ کے رسول آپ کے پاس لائے ہیں۔ ہم ان رسولوں کی باتوں پر عمل کرتے رہے پھر ہم میں کچھ بادشاہ ظاہر ہوئے جو ان نبیوں کی باتوں کو چھوڑ کر ہمیں اپنی خواہشات پر چلاتے۔ اگر آپ لوگ اپنے نبی کی بات کو مضبوطی سے پکڑے رہیں گے تو جو بھی آپ لوگوں سے لڑے گا آپ لوگ اس پر ضرور غالب آجائیں گے پھر جب آپ لوگ اس طرح کریں گے جس طرح ہم نے کیا اور نبیوں کی بات چھوڑ کر ہمارے بادشاہوں کی طرح خواہشات پر عمل کریں گے تو پھر آپ اور ہم برابر ہو جائیں گے یعنی آپ لوگ بھی ہماری طرح اللہ کی مدد سے محروم ہو جائیں گے۔ پھر نہ آپ کی تعداد ہم سے زیادہ ہوگی اور نہ طاقت (لہٰذا ہم آپ پر غالب آئیں گے ) حضرت عمر وبن عاص فرماتے ہیں میں نے کبھی ایسے آدمی سے بات نہیں کی جو اس سے زیادہ نصیحت کرنے والا ہو۔
(حیاةالصحابہ حصہ سوم)

متعلقہ خبریں