ایم کیو ایم اور پی ایس پی کی چپقلش

ایم کیو ایم اور پی ایس پی کی چپقلش

ٹی وی ناظرین نے متحدہ قومی موومنٹ کے لیڈر فاروق ستار کو یہ کہتے بھی دیکھا کہ ان کی پارٹی اور انہی کے ماضی کے ساتھیوں کی قائم کی ہوئی پاک سرزمین پارٹی ایک نام ‘ ایک منشور اور ایک انتخابی نشان کے ساتھ میدان میں اُتریں گی اور چند گھنٹے بعد اس اعلان سے پھرتے ہوئے بھی دیکھا۔ انہوں نے پاک سرزمین پارٹی والوں پر اسٹیبلشمنٹ کا مرہونِ منت ہونے کے الزام بھی لگائے ۔ اس کے جواب میں ناظرین نے پاک سرزمین کے مصطفی کمال کو یہ کہتے بھی سنا کہ باہم مل جانے کی بات چیت آٹھ ماہ سے چل رہی تھی اور ان ملاقاتوں کا اہتمام اسٹیبلشمنٹ نے فاروق ستار کی فرمائش پر کیا تھا۔ الزام در الزام کی اس سیاست بازی نے کئی سوال کھڑے کر دیے ۔ الطاف حسین کی ایم کیو ایم کے دونوں دھڑوں نے ایک دوسرے پر الزام تراشی کرکے اپنا ہی نقصان کیا ہے۔ کراچی کے اردو بولنے والے ووٹروں کو تقسیم ہی کیا ہے۔ دونوں لیڈروں کے بیانات سے دونوں لیڈروں کی یہ خواہش عیاں ہے کہ کراچی کے خاص طور پر اردو بولنے والوں کا ووٹ تقسیم نہ ہو۔ اسی خواہش کے تحت دونوں میں گزشتہ کئی ماہ سے بات چیت چلتی رہی۔ جیسا کہ مصطفی کمال اس واقعہ سے پہلے کے بیانات سے یہ ظاہر ہے کہ نئے نام کے ساتھ انضمام کی تجویز پاک سرزمین کی طرف ہی سے آئی ہو گی۔ مصطفی کمال ایک عرصہ سے یہ کہہ رہے ہیں کہ ایم کیو ایم الطاف حسین کی تھی‘ ہے اور رہے گی۔ گمان غالب ہے کہ فاروق ستار نے کراچی کے ووٹ بنک کو مجتمع رکھنے کے لیے یہ تجویز مان لی ہو گی۔ فاروق ستار نے 28اگست کو اعلان تو کیا کہ ہمارا الطاف حسین سے مکمل قطع تعلق ہے۔ لیکن متحدہ قومی موومنٹ کو برقرار رکھا اور اسے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کا نام دے دیا جب کہ متحدہ قومی موومنٹ لندن الطاف حسین کی سربراہی میں اب بھی موجود ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ شروع میں مہاجر قومی موومنٹ تھی جسے بعد میں متحدہ کا نام دیا گیا۔ فاروق ستار کے اپنے بیان سے پھر جانے میں غالباً یہ سوچ کارفرما ہے کہ نئے نام ‘ نئے منشور اور نئے انتخابی نشان کے ساتھ اگرچہ پاک سرزمین پارٹی کے ساتھ اتحاد کی طرف جانے والے ایک پارٹی تو بن جائیں گے تاہم یہ نئی پارٹی ایم کیو ایم کے طور پر شناخت سے محروم ہو جائے گی۔ ممکن ہے ان کا خیال یہ ہو کہ کراچی کا ووٹ بنک ایم کیو ایم کی شناخت کی وجہ ہی سے ایک ووٹ بینک ہے۔ متحدہ کے نام کے ساتھ اس کا سیاسی ماضی بھی شامل ہے ، جب الطاف حسین کی سرپرستی میں یہ ایک مضبوط پارٹی تھی۔ الطاف حسین سے قطع تعلق کے اعلان کے بعد اس پارٹی نے اپنے قائد کو الگ کر دیا لیکن پارٹی مہاجر اور اردو بولنے والوں کی سیاست کی امین کے طور پر جوں کی توں باقی رہی۔ تاہم مصطفی کمال کی پاک سرزمین پارٹی نے یہ ثابت کیا کہ متحدہ جوں کی توں برقرار نہیں رہی۔ ایم کیو ایم کے متعدد منتخب ارکان اس میں شامل ہوئے اور فاروق ستار اپنے ارکان کے پی ایس پی میں جانے کی وجہ سے پریشان بھی رہے۔ فاروق ستار کا الزام رہا ہے کہ ان کے ارکان کو پی ایس پی میں شامل ہونے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ یہ مجبوریاں شامل ہونے والوں کی بھی ہوں گی اور بہت سے نہ شامل ہونے والوں کی بھی ہوں گی جس کی بنا پر فاروق ستار نے یہ دھمکی دی کہ اب اگر ان کے مزید ارکان پی ایس پی میں گئے تو ان کی پارٹی کے تمام ارکان اسمبلیوں کی رکنیت سے مستعفی ہو جائیں گے۔ پی ایس پی کے اکثر لیڈر اگر چہ وہی ہیں جو الطاف حسین کی متحدہ میں ایم کیو ایم پاکستان کے لیڈروں کے شانہ بشانہ تھے لیکن پی ایس پی سارے پاکستان کی سبھی زبانیں بولنے والوں اور سبھی صوبوں میں رہنے والوں کی سیاست میں داخل ہونے کا دعویٰ رکھتی ہے۔ حالانکہ اس کے باوجود کہ اس نے دوسرے صوبوں میں دفاتر کھولے ہیں تاہم اس کا اگر کوئی ووٹ بنک ہے تو کراچی میں ہے۔ البتہ اس نے الطاف حسین اور اس کے دیئے ہوئے نام ایم کیو ایم سے مکمل علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ جب کہ فاروق ستار نے الطاف حسین کی پارٹی پر قبضہ کیا ہے اور الطاف حسین کو پارٹی سے بے دخل کیا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو اسٹیبلشمنٹ کی واشنگ مشین سے دھلنے کا طعنہ دے رہے ہیں۔ یہ صورت حال اگر برقرار رہی تو یہ الزام تراشی اس سے آگے بھی بڑھ سکتی ہے۔ یہ صورت حال کراچی کے ووٹروں کی خاموش اکثریت کے لیے کنفیوژن کا سبب ہو گی۔ اس لیے دونوں کے لیے یہ ضروری ہونا چاہیے کہ وہ اپنے اپنے قائدین کی صف میں کراچی کی خاموش اکثریت کے نمائندوں خاص طور پر بزرگوں کو بھی شامل کریں تاکہ ان کی الطاف حسین سے آزاد سیاست اور سارے پاکستان کی سیاست کرنے کے دعوئوں پر کراچی کی خاموش اکثریت قائل ہو سکے۔ ایک دوسرے پر اسٹیبلشمنٹ سے دھلنے کے الزامات سے جہاں ایم کیو ایم اور پاک سرزمین پارٹی کی قدر میں کمی آنے کے امکان پیدا ہوئے ہیں وہاں ملک کی دونوں بڑی پارٹیوں نے اس صورت حال کا فائدہ اٹھانے کی بھی کوشش کی ہے۔ ن لیگ کے خواجہ سعد رفیق اور پیپلز پارٹی کے قمر الزمان کائرہ نے فاروق ستار اور مصطفی کمال کے الزامات کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت اور سیاسی انجینئرنگ کا مؤقف اختیار کیا ہے۔ اس طرح فاروق ستار اور مصطفی کمال کے ایک دوسرے پر الزامات کو تقویت دی ہے۔ یہ الزامات متحدہ اور پی ایس پی دونوں کے لیے سبکی کا باعث ہوں گے اور کراچی کی خاموش اکثریت کے لیے قیادت کے فقدان کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔ جب کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ دونوں کا کراچی کے سیاسی منظرنامے میں واضح وجود نظر نہیں آتا۔ جب ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادتیں کراچی کی صورت حال پر غور کریں گی تو ممکن ہے وہ کراچی کی سیاست کے بارے میں نیا مؤقف اختیار کریں۔ ایک سوال البتہ قابلِ غور ہے کہ جسے اسٹیبلشمنٹ کہا جا رہا ہے وہ کون ہے۔ بعض افراد یا کوئی اور۔

متعلقہ خبریں