خود کار اسلحہ کے لائسنسوں کی معطلی

خود کار اسلحہ کے لائسنسوں کی معطلی

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے جب گزشتہ اگست میں اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تو اعلان کیا تھا کہ وہ خود کار اسلحہ اور ممنوعہ بور کے اسلحہ کے لائسنس منسوخ کر دیں گے اور انہوں نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے۔ خود کار اسلحہ کے تمام لائسنس ایک نوٹی فکیشن کے ذریعے معطل کر دیے گئے ہیں اور 15 جنوری کے بعد منسوخ سمجھے جائیں گے۔ وزیر اعظم نے تو اپنا وعدہ پورا کر دیا لیکن یہ سوال اپنی جگہ ہے کہ آیا اس اقدام سے ملک ممنوعہ بور کے اسلحہ یعنی خود کار اسلحہ سے پاک ہو سکے گا۔ جن لوگوں نے یہ لائسنس حاصل کیے ہیں وہ اپنی جان و مال کے خطرے سے حفاظت کے جواز پر لیے ہیں۔ ایسے اسلحہ ارکان اسمبلی سمیت بہت سے بااثر افراد کے پاس ہے ۔ چونکہ یہ لائسنس والا اسلحہ ہے اس لیے ایسے لائسنس ہولڈروں کی فہرست بھی حکومت کے پاس ہے۔ ان کو قانون کے زور پر اسلحہ واپس جمع کروانے کے لیے کہا جا سکے گا۔ لیکن ایسے اسلحہ ہولڈر اس حکم نامے سے مطمئن نہیں ہیں۔ یہ اسلحہ ظاہر ہے اس بنا پر حاصل کیا گیا ہے کہ انہیں ایسے عناصر سے خطرہ ہے جن کے پاس غیر قانونی خود کار اسلحہ ہوتا ہے۔ لائسنس ہولڈرز کو اسلحہ کے استعمال میں بہت سی احتیاطیں اختیار کرنا ہوتی ہیں۔ لیکن جو عناصر غیر قانونی طور پر اسلحہ رکھتے ہیں وہ اس کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ آج ملک میں غیر قانونی اسلحہ کی بھرمار ہے۔ تقریبات میں اور خوشی کے اظہار کے لیے بھی اکثر خود کار اسلحہ سے فائرنگ کرتے ہوئے لوگ ٹی وی کے مناظر میں نظر آتے ہیں ۔ جرائم پیشہ افراد‘ دہشت گرد اور قبضہ گروپ بھی غیر قانونی خود کار اسلحہ رکھتے ہیں۔ لائسنس کے تحت خود کار اسلحہ رکھنے والے اسلحہ سے محرومی کے بعد جرائم پیشہ افراد سے اپنے آپ کو خطرے میں محسوس کریںگے۔ یہ ٹھیک ہے کہ انہیں نیم خود کار اسلحہ کے لائسنس حاصل کرنے کا آپشن دیا گیا ہے تاہم اس سے ایسے لوگوں کو جن کے پاس خود کار اسلحہ رکھنے کے اجازت نامے تھے عدم تحفظ کا احساس تو رہے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کو ہر قسم کے غیر قانونی اسلحہ سے پاک کیا جائے۔ ایسی صورت میں جب آپریشن رد الفساد کے تحت جرائم پیشہ افراد کے اسلحے کے ذخیرے برآمد ہو رہے ہیں ملک کو ناجائز اسلحہ سے پاک کرنے کی مہم ایک بھرپور آپریشن کی متقاضی ہو گی۔ جب تک ملک کو ناجائز اسلحہ سے پاک نہیں کیا جاتا تو جو لوگ مختلف وجوہ کی بنا پر خود کار اسلحہ کے لائسنس حاصل کرتے ہیں ۔ وہ اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھیں گے اور اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ یا ان کے متعلقین ناجائز طور پر خود کار اسلحہ رکھیں۔
گرہ مٹ کی مظلومہ اور خاندان کو سیکورٹی فراہم کی جائے
سانحہ گرہ مٹ کی مظلومہ سولہ سالہ شریفاں نے عدالت میں دوبارہ بیان دیا ہے کہ بااثر ملزم اس پر دباؤ ڈال رہے ہیں اور ان کی مرضی کا بیان نہ دینے پر شریفاں کے خاندان والوں کو مقدمات میں گھسیٹنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ملزمان پولیس سے ساز باز کر کے اسے اور اس کے اہل خانہ کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ یہ ایسا شرمناک واقعہ ہے جس کے باعث نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ سارے ملک کے ہر شخص کا سر شرم سے جھک جانا چاہیے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جلد از جلد سارے ملزموں کو گرفتار کرکے مقدمے کی کارروائی شروع کی جاتی لیکن مرکزی ملزم تاحال مفرور بتایا جاتا ہے۔ مقدمہ کی کارروائی کے شروع ہونے میں اس تاخیر کی وجہ سے بااثر ملزموں کو مظلومہ اور اس کے خاندان پر دباؤ ڈالنے کا موقع مل رہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ شریفاں اور اس کے اہل خانہ اور گواہوں کو فوری طور پر مناسب سیکورٹی فراہم کی جائے اور مفرور ملزم کو گرفتار کرنے کے لیے گرفتار ملزموں سے یا اس کے اہل خانہ سے معلومات حاصل کی جائیں۔ بصورت دیگر مفرور ملزم کو اشتہاری قرار دے کر مقدمے کی کارروائی آگے بڑھائی جائے اور ملزموں کو عبرتناک سزا دی جائے۔ ملزم خواہ کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں انصاف کے تقاضے پورے کیے جانے چاہئیں بلکہ جلد پورے ہوتے ہوئے نظر بھی آنے چاہئیں۔

متعلقہ خبریں