حلالہ اور پھرطلا ق

حلالہ اور پھرطلا ق

ایم کیو ایم اور پی ایس پی کا حلالہ ٹھیک سے چوبیس گھنٹے بھی نہ چل سکا اور طلا ق پر نوبت آگئی بانی ایم کیو ایم الطاف کے پا کستان کے خلاف نعرے با زی سے اب تک خود کو مہاجر قوم کہنے والے تذبذ ب کا شکار ہیں۔ اس نظریہ کے حامل افر اد گومگو ں میں ہیں کہ ان کو اب خود اپنے سیا سی مستقبل کا پتہ نہیں ہے کہ وہ کیا ہوگا۔ اس حوالے سے عجب کھیل جاری ہے۔ فاروق ستار نے الطا ف حسین کے پاکستان کے بارے میں طرزعمل سے اپنی پٹڑی بدلی جبکہ مصطفی کمال پہلے سے پٹڑی بدل چکے ہیں، جس وقت مصطفی کمال نے سگنل پاتے ہی اپنی سیاسی سواری کا رخ موڑا تھا اسی وقت یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ پرویز مشرف ایم کیو ایم پر شب خون مارنے کی تیاری کر رہے ہیں چونکہ وہ الطاف حسین یا کسی دوسری شخصیت کی موجودگی میں ایم کیو ایم کی قیادت سنبھال نہ سکتے تھے تو مصطفی کمال آگے بڑھے۔ مصطفی کمال کر اچی میں صف اول کے سیاستدان نہ تھے اور مشر ف کے لیے اچھا زینہ ثابت ہو سکتے تھے، جب مصطفی کمال کراچی کے میئر تھے اس وقت جنرل پرویزمشرف نے ان کو خوب سپورٹ کیا۔ مصطفی کمال کے میئر بن جا نے پر ان پر فنڈزکی برسات چھوڑ دی گئی۔ اس طرح مصطفی کمال کو ایک شہرت حاصل ہو ئی چنانچہ مصطفی کمال اپنے مربی پرویزمشرف کی کتاب نستعلیق میں حرف ان مٹ رہے۔ پاکستان میں2008 کے عام انتخابات کے نتائج نے پی پی کی صورت میں ایک نئی سیاسی جہت دی تھی مگر پی پی جس نے خود کو ایک سیکولر اور کسی حد تک قوم پرست جماعت کے طور پر متعارف کرا رکھا ہے حالا نکہ وہ جماعت نہ تو کبھی سیکولر اور نہ کبھی قوم پرست رہی البتہ سندھ میں اس کی اوڑھ اجر ک کی طرح نمایاں ہوئی اس بنا پر بعض عالمی طاقتیں پی پی کو قابل قبول رہیں مگر جو دکھ امریکا اور برطانیہ کے علاوہ بعض دوسری مغربی طاقتوں کے چہیتے پرویزمشرف کو ہوا اس کی وجہ سے پی پی کے بارے میں ا ن عالمی طاقتوں کا رویہ روکھا سا ہوگیا تھا لیکن مسلم لیگ ن کے برسر اقتدار آنے سے تو ان قوتوں کے رویوں پر تو اوس ہی پڑ گئی۔ بڑی طاقتیں ہوں یا کوئی اہلکار ہوں اب ان کے لیے ممکن نہیں رہا ہے کہ وہ پاکستان میں طور طریقوں کی طرح تبدیلی لائیں وہ راستے مسدود ہو چکے ہیں۔ ماضی میں تو ری پبلکن پارٹی کی طرح ایک رات میں دونمبر پارٹیاں کھڑی کی جا تی رہی ہیں جیسا کہ ماضی قریب میں ق لیگ کا وجود آچکا ہے مگر یہ سب تجربے ناکا م ہو چکے ہیں۔ 2013ء کے انتخابات کے نتائج نے پی پی کی غیر تسلی بخش کارکردگی کی بناء پر جو نتائج دیئے اورجس انداز میں مسلم لیگ ن نے آغاز کیا اس خطرے کے پیش نظریہ حکمت عملی اپنائی گئی کہ مسلم لیگ ن کو کام کر نے نہ دیا جائے اور ایک تیسر ی سیا سی قوت کو ابھا رہ جائے یہ ہی عالمی طاقتیں چاہتی ہیں۔ اس بارے میں جس سیاسی قوت کو ابھارنے کی سعی کی اس کی قیادت کی ناتجربہ کاری، سیاسی ہٹ دھرمی اور ضد بازی نے مایوس کیا ہے چنانچہ آج بھی پرویزمشر ف ان قوتوں کے ہردلعزیز شخصیت ہیں۔ ان کو سلامتی کے ساتھ ملک سے مفر ہونے کا راستہ فراہم کر دیا گیا تاکہ وہ اپنی واپسی کا سامان کر سکیں مگر اس میں ابھی تک جھول ہیں۔ وہ ق لیگ کی بے وفائی سے رنجیدہ ہیں ان کی اپنی مسلم لیگ کی بھی وہ اٹھان نہیں ہے جس کی توقع وہ خود کر رہے تھے چنانچہ تئیس جماعتوں کا اتحاد تشکیل دے کر پرویزمشرف کو قیادت سونپنے کی سعی کی جا رہی ہے۔ ایم کیو ایم اور پی ایس پی کا حلالہ اس امر کا پیش خیمہ تھا سمجھنے والے یہ سمجھ رہے ہیں کہ حلالے کے پروان چڑھنے سے پہلے دلہن ایک رات کا قصہ کیوں بن گئی، اس کی وجہ یہ ہے کہ قیادت کا تنازعہ فاروق ستار یا مصطفی کمال کے بیچ نہیں ہے بلکہ الطا ف حسین اور پرویز مشرف کے بیچ ہے جبھی تو اس حلالے کی پول پٹی کھل گئی۔ سوال رہبری کا نہیں ہے مہاجر قوم اب اس شش وپنج میں مبتلا ہو کر رہ گئی ہے کہ ملاپ کے لیے رینجرز کے ہیڈ کوارٹر کا انتخاب کیوں ہوا تھا اس میں رینجرز کا کیا کردار ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ الطاف حسین جو کبھی اسٹیبلشمنٹ کے گن گاتے تھے یکایک گھن کیوں گننے لگے۔ اس کی ایک ہی وجہ تھی کہ پرویزمشر ف کو سہولت ملتے ہی الطا ف حسین پر واضح ہوگیا کہ پرویزمشرف کا آئندہ کردار ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم پر کیا ہوگا۔آئندہ سال انتخابات کا سال ہے چنانچہ ٹیکنوکریٹ حکومت کا شوشا دھندلا گیا ہے کیوں کہ اس کے قیام کی کوئی صورت نہیں بن رہی ہے۔ ملک میں ابھی ایسی افرا تفری بھی نہیں مچ رہی ہے کہ یہ کہا جاسکے کہ پاکستان کی سیاسی حکومتیں حالات کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہو چکی ہیں لہٰذا ٹیکنوکریٹ حکومت کا تجربہ دھرایا جائے لیکن ایک فارمولے پر عمل ضرور کیا جائے جو ماضی میں بھی ہوتا رہا کہ مختلف طبقات اور سیاسی سوچ کے ووٹوں کی تقسیم کر دی جائے تاکہ کسی ایک سیاسی قوت کو آئندہ انتخابات میں کلی کامیابی نہ مل سکے بلکہ اقتدار بٹ جائے، سنگل پارٹی حکومت کسی صوبے اور وفاق میں تشکیل نہ پائے مگر یہ تجربے ماضی میں کیے گئے ہیں جو کامیاب نہیں رہے ہیں۔ پرویز مشرف کے دور میں سندھ، کے پی کے میں سیکولر قوتوں، بلوچستان میں حکومت کے حامی سرداروں اور پنجاب میں اسٹیبلشمنٹ کی جماعتوں کو کامیاب کر انے کے منصوبے پر کام ہو چکا ہے مگر اس کے نتائج مختلف رہے ہیں۔ دوبارہ 2008 میں بھی یہ ہی تجربہ آزمایا گیا مگر ناکام ہوا کیوں کہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کامیاب ہوگئی پھر 2013 میںتو یہ تجربہ بالکل اُلٹ گیا۔حال ہی میں جو ضمنی انتخابات ہوئے ہیں اس میں مختلف قوتوں نے مختلف تجربات کیے ہیں اور مذہبی ووٹ کو تقسیم کرنے کا بھی تجربہ کیا، ایسی جماعتوں کا قیام عمل میں آیا جس کے بارے میں ابھی تک عوام کو ان کا صحیح رنگ ڈھنگ بھی معلوم نہیں، گو ان ضمنی انتخابات میں ان پارٹیوں کو کامیابی نہیں ملی مگر نومولود جماعتوںکو جو ووٹ پڑے وہ ان جماعتوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے جن کے ووٹ بینک میں خسارہ ہوا ہے اور یہ خسارہ انتخابات کے انعقاد تک بڑھ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں