میگا پراجیکٹس اور ترقی کے سراب

میگا پراجیکٹس اور ترقی کے سراب

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کشمیر وگلگت بلتستان کے چیئرمین ملک ابرار اور دیگر ارکان نے وادی نیلم میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزادخطہ کی تعمیر وترقی کے لئے وفاق فنڈز کی کمی نہیں ہونے دے گا ۔قومی نوعیت کے منصوبوں سے خطہ میں ترقی اور خوش حالی کی راہیں کھلیں گی اورعوام کو روزگار ملے گا۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے ارکان کادورہ اس لحاظ سے خوش آئند ہے کہ اس سے ملک کے اہم فورم کے نمائندوں کو اس خطے کے مسائل سے براہ راست آگاہی حاصل ہوئی ہوگی۔یہ منتخب ارکان اگر وادی نیلم کے سیاحتی دورے سے آگے بڑھ کر عوام سے بھی ملاقاتوں کا اہتمام کرتے تو انہیں زمینی حقائق سے زیادہ بہتر آگاہی ہو سکتی تھی ۔آزادکشمیر اور گلگت بلتستان قومی منظر کا وہ بارہواں کھلاڑی ہیں جو میدان سے باہر ایک تماشائی کی حیثیت کا حامل ہے ۔ملک کے اعلیٰ ایوانوں اور اداروں میں ان علاقوں کی نمائندگی نہیں اسی لئے یہ علاقے بیوروکریسی کے رحم وکرم پر پڑے پڑے بہت سے جائز حقوق سے بھی محروم رہتے ہیں۔ اس خطے میں اس وقت نیلم جہلم جیسا میگا پراجیکٹ تکمیل کے مراحل میں ہے ۔یہ منصوبہ ملک میں اندھیروں کو بھگانے اور روشنیوں کا پھیلانے میں اہم کردار ادا کرے گا ۔اس منصوبے سے آزادکشمیر کا دارالحکومت مظفر آباد اور اس کے گردونواح کا وسیع عریض علاقہ بہت سے حوالوں سے متاثر ہورہا ہے ۔کچھ مضر اثرات تو شروع ہوگئے اور کچھ وقت کے ساتھ ساتھ پیدا ہوتے چلے جائیں گے۔اس قدر بڑے پراجیکٹ کا جو مثبت اثر عوام کی زندگی پر پڑنا چاہئے تاحال نظر نہیں آتا ۔نیلم جہلم پراجیکٹ سے سب سے زیادہ متاثر مظفر آباد شہر ہورہا ہے ۔دریائے نیلم کا رخ موڑنے سے جس کا ماحول تباہ ہو کر رہ جائے گا ۔اس خطرے کا مقابلہ کرنے کی کوئی ٹھوس تدبیر تاحال نہیں کی گئی ۔اگر منگلا ڈیم کے متاثرین کی آبادکاری کا سٹائل ہی یہاں اپنایا جائے تو عوام کی شکایات کا کسی حد تک ازالہ ہو سکتا ہے ۔مظفر آباد کے عوام کوملازمتوں میں ترجیح دینے کے ساتھ ساتھ متبادل زمینوں کی فراہمی اور کچھ دوست ملکوں میں روزگار کی سہولت فراہم کی جا سکتی ہے۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے ارکان نے وادی نیلم کو ماتھے کا جھومر تو کہا مگر انہیں شاید یہ کسی نے نہیں بتایا کہ اس جھومر کو شونٹھر ٹنل کا منصوبہ ختم کرکے سی پیک کے فوائد سے محروم کر دیا گیا اور حد تو یہ اب دارالحکومت مظفر آباد کو بھی مانسہرہ بھمبر شاہراہ میں بائی پاس کرکے سی پیک سے کاٹ دیا گیا ہے ۔آزادکشمیر کے عوام کو مٹی کے گھروندوں سے بہلانے کی بجائے ترقی کی دوڑ میں عملی طور پر شریک کرنے سے ہی مسائل حل ہو سکتے ہیں ۔اس دوران ایک خوش کن خبر ملی کہ وفاقی اور آزادکشمیر حکومت کے درمیان واٹر یوز چارجز میںاضافے پر اصولی اتفاق ہوگیا ہے اور اس کی باقاعدہ سمری منظوری کے لئے وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کو بھیجی جا رہی ہے۔واٹر یوز چارجز کو پندرہ پیسے سے بڑھا کر ایک روپے دس پیسے کیا جا رہا ہے۔اس طرح 2022تک آزادکشمیر کا اسی ارب کا بجٹ دو سوارب تک پہنچ جائے گا ۔واٹر یوز چارجز میں اضافہ آزادکشمیر کے عوام کا ایک دیرینہ مطالبہ تھا ۔پن بجلی کے منصوبوں میں استعمال ہونے والے پانی کی مد میں یہ رقم وفاق متعلقہ صوبوں اور یونٹس کو ادا کرنے کا پابند ہے۔اب دونوں حکومتوں کے درمیان واٹر یوز چارجز میں اضافے پر اصولی اتفاق کی خبر سامنے آئی ہے ۔اتفاق تو خوش آئند ہے مگر انتظار اس بات کا ہے کہ یہ اتفاق عمل کی شکل کب اختیار کرتا ہے اور جب یہ اضافہ آزادکشمیر کے بجٹ کا حصہ بنتا ہے تو اس کا مصرف کیا ہوتا ہے۔؟اس وقت مرکز میں مسلم لیگ ن کی ڈولتی ہی سہی مگر حکومت اپنے دن پورے کررہی ہے آزادکشمیر میں مسلم لیگ ن کی حکومت اپنے دوسرے سال میں داخل ہو چکی ہے ۔ 

اس لئے آزادکشمیر کے بڑے مسائل کے حل کے لئے یہ ماحول غنیمت ہے اورشاید آگے چل کر یہ ماحول بھی باقی نہ رہے ۔شاہد خاقان عباسی آزادکشمیر کے متصلہ اور ملحقہ علاقے کے رہائشی ہیں ان کی زمینوں اور گھر کی دہلیز سے روزانہ آزادکشمیر کے ہزاروں باشندے گزرتے ہیں ۔ان کی آزادکشمیر میں بہت سے لوگوں اور گھرانوں سے قریبی سماجی تعلقات ہیں اس لئے وہ آزادکشمیر کے مسائل کو بڑی حد تک سمجھتے ہیں ۔اس لئے ان کے دور اقتدار کے چند مہینوں میں آزادکشمیر کے کئی دیرینہ اور بڑے مسائل کے حل کی امید بے سبب بھی نہیں۔یہ ماحول اور منظر بدل گیا تو آزادکشمیر حکومت کی سپیس مزید تنگ ہو جائے گی اور وہ مطالبات کے لئے شاید مزاحمانہ سٹائل تو اپنائے گی مگرجواب میں شاید زیادہ ہمدردانہ سلوک نہ ہو۔اس لئے شاہد خاقان عباسی اور راجہ فاروق حیدر خان کو باہم مل کر واٹر یوز چارجز کی طرح آزاد کشمیر کے حل طلب مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔آزادکشمیر حکومت کو بھی وسائل میں اضافے کے ساتھ ساتھ وسائل کے درست استعمال اور دیانت داری اور احتساب وجوابدہی کے نظام کو موثر بنانے کے لئے سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات اُٹھانے چاہئے ۔یہ کہنا کہ آزادکشمیر کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن نہیں بلکہ نااہلی ہے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے کی روش ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ آزادکشمیر کا مسئلہ اول ہی کرپشن ہے ۔آزادکشمیر کے لوگ قطعی نااہل نہیں بلکہ کرپٹ عناصر نااہلی کے دستانے چڑھا کر قومی خزانے اور وسائل کا قتل کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں