ایم ایم اے کی بحالی ، پھر وہی آبلہ پائی

ایم ایم اے کی بحالی ، پھر وہی آبلہ پائی

ہم جیسے طالب علموں کی ہمیشہ دعا اور خواہش رہی ہے کہ ساری دنیا کے مسلمانوں کے درمیان محبت و اُخوت اور یکجہتی و یگانگت کے پائیدار تعلقات اُستوار ہوں ۔ اور کسی زمانے میں جب یہ تعلقات اسلامی اُخوت کی بنیاد پر اُستوار تھے تو دنیا نے عالم ، اسلام کو ایک سپر پاور کی صورت میں دیکھا تھا لیکن پھر عثمانی خلافت کے انہدام کے بعد تو جو تیوں میں وہ دال بٹی کہ ایک ہی امت کے بمصداق قول شاعر ۔

اس دل کے ٹکڑے ہزار ہوئے
کوئی یہاں گرا کوئی وہا ں گرا
استعمار نے جس مقصد کے لئے امت کو پارہ پارہ کیا تھا ، اُس کی تکمیل کے لئے ان کو خوب خوب بھنبھوڑا اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ 1980ء کے عشرے میں مکمل ایک عشرے تک عراق ، ایران جنگ نے امت مسلمہ کے درمیان اسلامی بنیادوں پر اتفاق کی تعلیمات کا منہ چڑاتے ہوئے دنیا بھر کو دکھایا کہ مسلمان اندر سے کتنے پھٹے ہوئے ہیں ۔ آج بھی عرب دنیا کا بالخصوص مصر ، سعودی عرب ، شام ، یمن اور لیبیا و لبنان کا جو حال ہے وہ اہل نظر سے پوشیدہ نہیں ۔ اور ہر صاحب ایمان کی یہ دعا اور خواہش ہے کہ امت مسلمہ اس آزمائش و ابتلاسے نجات پائے ۔آج بھی مسلمانوں نے بالعموم اور پاکستانیوں نے بالخصوص تاریخ میں مسلمانوں کے درمیان اختلافات کے سبب ناقابل تلافی نقصانات کے باوجود سبق نہیں سیکھا ، یہی وجہ ہے کہ آج بھی عالم اسلام اور پاکستان میں مسلمانوں کی صفوں میں انتشار موجود ہے ۔ پاکستان میں سیاست کا ذبہ نے تو ملک کو نسلی ، لسانی اور مفاداتی جماعتوں ، پارٹیوں اور گروپوں میں تقسیم کر رکھا ہے ۔ آج پاکستان میں ملکی سطح کی کوئی بھی مضبوط جماعت نظرنہیں آتی ۔ پاکستان کی دوبڑی سیاسی جماعتیں اپنے اپنے صوبوں میں سو فیصد نشستیں حاصل کرنے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکی ہیں ۔ دیگر جماعتیں تو پہلے ہی سے د س بارہ نشستوں کے ساتھ اپنے علاقوں (اضلاع) تک محدود رہی ہیں ۔ پاکستان میں مذہبی سیاسی جماعتیں شروع دن سے سیاست میںہیں ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عوام نے ووٹ کے حوالے سے اُن کو بہت کم توجہ دی ہے ۔ مذہبی جماعتیں سیاست میں حصہ لیں یا نہ لیں ، یہ ایک مہتم بالشان بحث ہے ۔ اور اس پر معرکتہ لآرا بحثیں موجود ہیں اور مستقبل میں بھی ، اس قسم کی بحثیں ہوتی رہیںگی ، سیکولر مغربی جمہوریت میں سیاست کا مذہب سے یا مذہب کا سیاست سے کوئی تعلق مانا ہی نہیں جاتا ، خود عالم اسلام کے اندر گزشتہ چار پانچ عشروں سے جدیدیت (ماڈرن ازم ) اور روشن خیالی کی جو ہوا بلکہ طوفان چلا آیا ہے اُس نے عالم اسلام کی بہت ساری اچھی اور بری روایات و اقدار کو بہا کر رکھ دیا ہے ، لیکن مذہبی سیاسی جماعتوں کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے اور مصر و فلسطین اور افغانستان و پاکستان جیسے ملکوں کو ناقابل تلافی نقصانات سے دوچار کیا ہے ۔ ایسے حالات و مناظر میں جب پختونوں کے صوبے میں ایم ایم اے کی بحالی کی خبر آتی ہے تو مذہبی طبقات میں اُسے پسندید گی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ۔ مذہبی جماعتوں کے درمیان سیاسی اتحاد سے بڑھ کر مذہبی بنیادوں پر اتحاد ضروری ہے ۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بر صغیر پاک و ہند میں قیام پاکستان کی تحریک کے دوران جو اختلافات پیدا ہوئے اُس کے اثرات اتنے گہرے ثابت ہوئے کہ الا مان وا لحفیظ ۔ لیکن یہ بھی مذہبی سیاسی جماعتوں کا کمال ہے کہ جب کبھی اُن کو ضرورت پڑتی ہے وہ سب کچھ بھلا کر یا پس پشت ڈال کر ہاتھوں میں ہاتھ ڈال لیتے ہیں ۔ 2002ء میں پرویز مشرف کے دور میں افغانستان کے حالات نے جس طرح مذہبی سیاسی جماعتوں بالخصوص جمعیت علماء اسلام اور جماعت اسلامی کو آپس میں ملا دیا اس کے نتیجے میں ایم ایم اے (متحدہ مجلس عمل ) وجود میں آئی ۔ اور یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ اتحاد میں اگر خلوص ہو تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُس میں برکت پیدا ہوہی جاتی ہے ۔ یہی وجہ تھی کہ ایم ایم اے نے انتخابات میں مخالفین کو حیران کر دیا ۔ ایم ایم اے کی صورت میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ مذہبی جماعتوں کو حکومت ملی ۔۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایم ایم اے کی دوبڑی اور سرخیل جماعتوں کے درمیان اقتدار کے سبب جو اختلافات پیدا ہوئے اور ایک دوسرے پر جو ناقابل یقین الزامات لگا کر بھونڈ ے انداز میں الگ ہوئیں ۔ وہ حافظہ رکھنے والوں کو اب بھی یاد ہے ۔ ان کے درمیان اختلافات و انتشار نے اسلام اور اسلام پسندوں کو جو نقصان پہنچا یا وہ اپنی جگہ ، خود دونوں مذہبی جماعتوں کو آنے والے وقتوں میں اقتدار و مفادات کے لئے اپنی ساخت و مزاج اور منشور و دستور کی مخالف کی جماعتوں سے اتحاد پر مجبور کیا ، جس کے عوام پر اثرات اس کے سوا کچھ نہ تھے کہ ’’مولوی ‘‘ اپنے مفاد ات کے لئے ہر کسی کے ساتھ اتحاد کر سکتے ہیں ۔ پچھلی دفعہ ایم ایم اے کی بحالی کی سعی میں سید منور حسن کا یہ سوال آج بھی جواب طلب ہے کہ جب تک ایم ایم اے کے ٹوٹنے کا سبب معلوم نہ کیا جائے اور مستقبل میں اُس کا تدارک نہ کیا جائے تب تک دوبارہ بحالی حساس طبقوں پر کچھ زیادہ خوشگوار اثرات مرتب کرنے میں شاید زیادہ کامیابی حاصل نہ کر سکے ۔ جمعیت اور جماعت کی تاریخ اورکیمسٹری میں جو ،جوہر ی اختلاف ہے جب تک اُس کو قرآن کریم اور سنت مبارکہ کی تعلیمات کے ذریعے ہمیشہ کے لئے ختم نہ کیا جائے تب تک شاید ایم ایم اے کا بننا اور ٹوٹنا جاری رہے گا ۔ لیکن بہر حال سیاست ، سیاست ہے ، کرنی ہی چاہیئے ۔

متعلقہ خبریں