جمہوریت کے تسلسل کی ضرورت

جمہوریت کے تسلسل کی ضرورت

وطن عزیز کے اصل مسائل کیا ہیں ،ہمیں درپیش چیلنجز کا مقابلہ کس طرح کرنا چاہئے اور عالمی دنیا نے اپنے مسائل پر کیسے قابو پایا ؟یہ اور اس جیسے بیسیوں سوالات ہیں جن کی طرف ہماری توجہ نہیں ۔دفعتاًخیال آتا ہے کہ ہم کیسی قوم ہیں جنہیں اپنے اصل مسائل کا بھی ادراک نہیں ،کبھی یہ سوچ بھی بند دماغ کے نہاں خانے میں جا گزیں ہوتی ہے کہ ہم قوم نہیں بلکہ ہجوم ہیں جو پانی کے بہاؤ کی طرح حالات کے رحم و کرم پر چلتے جا رہے ہیںاور جو شخص مسائل کا ادراک کر لے ہم اسے رہنے نہیں دیتے ،مئی 2013کے عام انتخابات میںکامیابی حاصل کرنے کے بعد سابق وزیر اعظم میاںمحمد نواز شریف نے اپنے طویل سیاسی تجربے کی بنا پر یہ نتیجہ اخذ کر لیا تھا کہ پاکستان کو اگر مسائل کے گرداب سے نکالنا ہے تو اس مقصد کے لیے معاشی استحکام از حد ضروری ہے‘ سو انہوں نے جب حکومت تشکیل دی تو روز اول سے ہی پاکستان میں معاشی استحکام کے لیے کوشش شروع کردی، چونکہ میاں نواز شریف پاکستان کے دیرینہ مسائل سے بخوبی آگاہ تھے ،جن میں توانائی کا بحران اور دہشت گردی کا عذاب سر فہرست تھا۔ ڈالر کی بڑھتی قیمت کے ساتھ ساتھ دیگر بیسیوں قسم کے مسائل تھے لیکن میاں نواز شریف نے توانائی کے بحران سے ملک کو نکالنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کر دیا ‘ بڑے ڈیم جو ایک عرصہ سے متنازع ہو چکے تھے ان کی تکمیل پر وقت ضائع کرنے کی بجائے انہوں نے پورے ملک میں توانائی کے چھوٹے چھوٹے پراجیکٹس تشکیل دیئے۔ دسمبر 2017ء میں حکومت زیرو لوڈشیڈنگ کا اعلان کرنے والی ہے جس سے لوڈشیڈنگ کا مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ افواج پاکستان کے ساتھ مل کر میاں نواز شریف نے دہشت گردوں کو شکست سے دوچار کیا ‘ اس سے قبل جو صورت حال تھی اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں‘یہی وجہ ہے کہ آج نظام زندگی چل رہا ہے اور لوگوں میں ویسا خوف نہیں جیسا کہ آج سے چند سال پہلے تھا۔ اسی طرح میاں نواز شریف نے اقتدار سنبھالتے ہی پورے ملک میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھا دیا‘ گزشتہ چار سالوں میں ملک میں جس قدر ریکارڈ ترقیاتی کام مکمل ہوئے اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ میٹرو بس سروس سے لے کر چترال لواری ٹنل کی تکمیل کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں کارپٹڈ روڈز بنے ۔ زراعت کے لیے میاں نواز شریف کا کارنامہ ایسا ہے جس نے کاشتکاروں کو بلاشبہ نئی زندگی دی۔ زرعی قرضوں سے لے کر فصل کے نقصانات کے ازالے کے لئے قابل قدر اقدامات کئے گئے ۔جب انہیں عدالتی حکم پر نا اہل کیا گیا تو بیسیوں منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں تھے، اور یہ ریکارڈ برقرار رہا کہ پاکستان کی تاریخ میں کوئی بھی وزیر اعظم اپنی آئینی مدت پانچ سال پورے نہیں کر سکا۔ یوں ایک طے شدہ منصوبے کے تحت پاکستان کو ترقی کے ٹریک سے اُتار دیا گیا کیونکہ پاکستان کی مخالف قوتیں یہ بات بخوبی جانتی ہیں کہ اگر پاکستان میں چند سال تک جمہوریت کا تسلسل رہا تو چند سالوں میں ہی نہ صرف یہ کہ پاکستان کے مسائل ختم ہو جائیں گے بلکہ بہت جلد یہ ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہو گا۔ اگر احتساب کی بات کی جائے تو ادنیٰ عقل رکھنے والا شخص بھی یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ صرف ایک ہی خاندان کا احتساب ہی کیوں؟ کیا ماضی کی حکومتیں کرپٹ نہیں تھیں، ان پر بھی کرپشن کے درجنوں کیسز ہیں ، احتساب کی تان شریف خاندان پر آکر ہی کیوں ٹوٹتی ہے؟ انتقام کی سیاست جب شروع ہوتی ہے تو انسان سے کیسے کیسے کام کرواتی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ بیگم کلثوم نواز کی بیماری کو بھی بہانہ سمجھا گیا کہ یہ نیب کورٹس سے راہِ فرار کے لیے ڈرامہ رچایا جا رہا ہے۔ لیکن قوم نے دیکھا کہ میاں نواز شریف اپنی بیمار اہلیہ کو بیماری کی حالت میں لندن چھوڑ کر پاکستان میں مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے آئے۔ ایک لمحے کے لیے سوچیں کیا شریف خاندان کے علاوہ دیگر جماعتوں کے سیاستدان سارے کے سارے صادق اور امین ہیں؟ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سیاستدانوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے لیکن یہ احتساب جب تک بے لاگ اور بلاتفریق نہیں ہوگا پاکستان اور پاکستان کے عوام کو اس کے فوائد حاصل نہ ہوں گے۔ نواز شریف اگر آج ووٹ کے تقدس کی بات کر رہے ہیں تو اسے نواز شریف کے ذاتی فائدے کے بجائے ملکی سطح پر سنجیدگی کے ساتھ لیا جانا چاہیے کیونکہ 1970ء کے عام انتخابات میں مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ نے 168سیٹیں حاصل کی تھیں جب کہ مشرقی پاکستان میںذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی نے 85سیٹیں حاصل کی تھیں ۔ اب اکثریت کے حساب سے وزارت عظمیٰ کے حق دار شیخ مجیب الرحمان تھے لیکن افسوس کہ ووٹ کے تقدس اور مینڈیٹ کو تسلیم نہ کیا گیا۔ اس کا نتیجہ پاکستان کے دو لخت ہونے کی صورت سامنے آیا۔ ہمارے خیال میں ملک کو ایک بار پھر ایسی ہی صورت حال کا سامنا ہے، عوام کے ووٹ کو احتساب کے نام پر تسلیم نہیں کیا جا رہا ہے جس کے بھیانک نتائج سامنے آ سکتے ہیں ۔اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ جمہوریت کے تسلسل کے لیے کوشش کی جائے تاکہ ہمارے مسائل ختم ہوں اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔

متعلقہ خبریں