ہاتھی کے دانت

ہاتھی کے دانت

سیاست کے کھیل میں سب سے زیادہ تذکرہ عوام کا ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں عام آدمی کے حوالے سے سب گفتگو کرتے ہیں سیاستدان جب سٹیج پر آتے ہیں تو عام آدمی کی حالت بدلنے کے حوالے سے زمین و آسمان کے قلابے ملادیتے ہیں۔ ان کے ذہن میں یقینا یہی بات ہوتی ہے کہ عام آدمی کے ووٹ نے ان پر قومی و صوبائی اسمبلیوں کے دروازے کھولنے ہیں۔ انہوں نے بڑی بڑی بلٹ پروف گاڑیوں میں پھرنا ہے۔ اس عام آدمی کی رائے میں اتنی توانائی تو یقینا موجود ہے جس کی وجہ سے یہ سیاسی رہنما وزیر ، وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم کے منصب جلیلہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں لیکن اقتدار کے ایوانوں تک پہنچتے ہی سب سے پہلے عام آدمی کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ سب کچھ بدل جاتا ہے لیکن نہیں بدلتی تو عام آدمی کی حالت نہیں بدلتی۔ تپتی دھوپ میں بینکوں کے سامنے لمبی قطاروں میں کھڑے اپنی باری کے انتظار میں عام لوگ کئی کئی گھنٹے گزار دیتے ہیں۔ 

نادرا کے دفتر کے سامنے ضعیف العمر بزرگ بوڑھی خواتین گود میں شیر خوار بچے لیے نوجوان عورتیں چلچلاتی دھوپ میں شناختی کارڈ کے حصول کے لیے کئی کئی ہفتے گزار دیتی ہیں لیکن ان کی باری نہیں آتی۔ کوئی ان کا پرسان حال نہیں ہے۔ پشاور لاہور کراچی اور وطن عزیز کے دوسرے شہروں میں بدامنی اور لاقانونیت کی جو صورتحال ہے اس سے بھی تو عام آدمی ہی متاثرہورہا ہے۔ عام آدمی کب تک زمین کا رزق بنتا رہے گا یہ تاریک گلیوں میں اپنی محنت کی کمائی کب تک لٹاتے رہیں گے۔راہزنی کی روز بروز بڑھتی ہوئی وار داتوں نے لوگوں کا سکھ چین چھین لیا ہے۔ بھتہ خوری کی وبا عروج پر ہے۔ سینکڑوں لوگ ہیں جو بھتہ خورو ں کے رحم و کرم پر ہیں۔ یہ کہاں جائیں کس سے فریاد کریں ؟عوام سب سے آسان نشانہ ہیں اس لیے ہرجگہ انہیں ہی ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جارہا ہے مہنگائی کی یہ صورتحال ہے کہ اب غریب آدمی کے لیے باورچی خانہ چلانا بھی ممکن نہیں رہا۔ کاش ہماری جمہوری حکومتیں بجٹ بناتے وقت غریب آدمی کے بارے میں بھی سوچ لیا کریں۔ اب اس وقت سیاست کے میدانوں میں جو صورتحال ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان حالات سے کچھ سیکھا جاتا الٹا اس کا انعام عام آدمی کو یہ ملا ہے کہ بجلی کے بلوں نے اس کا جینا دوبھر کردیا لوگ خودکشیوں پر مجبور ہوگئے ہیں۔ آپ حکومت شوق سے کیجیے بیرونی دورے بھی کرتے رہیے عوام کے ساتھ آپ کے کیے جانے والے بڑے بڑے خوشنما وعدے بھی سر آنکھوں پر لیکن بجلی کا مسئلہ تو حل کیجیے۔ غریب پر اتنا پریشر ڈالیے جو وہ برداشت کرسکے۔یہ جلسے جلوسوں میں آپ کے لیے زندہ باد مردہ باد کے نعرے بھی لگاتا ہے جب لاٹھی چارج ہوتا ہے تو سر بھی غریب کے بچے کا پھٹتا ہے۔اسے جمہوریت کے سنہرے خواب دکھائے جاتے ہیں تو یہ ان پر آنکھیں اور دماغ دونوں بند کرکے یقین بھی کرلیتا ہے۔ یہ پچھلے ستر سالوں سے سہانے خواب دیکھ رہا ہے اس کے خوابوں کی تعبیر ہی اسے دلا دیجیے پٹرول سستا ہوا تو غریب خوش تھا اس بیچارے کی خوشی تو ٹرانسپورٹ کے کرایوں تک محدود ہے اس کے پاس گاڑی نہیں ہے اسے پٹرول نہیں خریدنا بس پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنا اور کرایہ ادا کرنا ہے لیکن قیمتیں کم ہونے کے باوجود ٹرانسپورٹ کے کرایے کم نہیں ہوئے۔ جب یہ فریاد کرتا ہے تو بس کنڈکٹر اسے کہتا ہے جناب ہماری گاڑی تو سی این جی پر چلتی ہے ہم کرایہ کیسے کم کرسکتے ہیں ادویات مہنگی ہیں سبزیاں گوشت اور دوسری اشیائے خوردنی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں تو ہم کرایہ کیسے کم کرسکتے ہیں عوام سے محبت کے بڑے بڑے دعوے کرنے والے مہنگائی میں کمی نہیں کرسکتے اس کے لیے روزگار کا مناسب بندوبست نہیں کرسکتے روزگار کا بندوبست کرنا تو دور کی بات ہے جو اپنی محنت سے دو پیسے کما لیتا ہے یہ تو ا س کی حفاظت بھی نہیں کرسکتے اس کے جان و مال محفوظ نہیں ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ عروج پر ہے۔ یہ کرے تو کیا کرے اور جائے تو کہاں جائے ؟یہی وہ حالات ہوتے ہیں جب عام آدمی مایوس ہو کر پکار اٹھتا ہے کہ اس جمہوریت نے ہمیں کیا دیا اگر مغرب میں جمہوریت کا راگ الاپا جاتا ہے تو وہاں کے لوگوں کو اس کا فائدہ بھی ہے جمہوریت کے فوائد مغرب میں عام آدمی کی دسترس سے باہر نہیں ہیں !سیاستدانوں کی نہ ختم ہونے والی لڑائیاں چلتی رہیں گی لیکن عام آدمی کے بارے میں بھی تو سوچیے کہ یہ آپ کی سب سے اولین ذمہ داری ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وطن عزیز کے حالات مشکل ہیں۔ ہمارا پڑوسی بھی ہمیں آنکھیں دکھا رہا ہے آئے دن سرحد پار سے گولیوں کے تحفے وصول ہو رہے ہیں کراچی میں ایک اور بہت بڑا سیاسی ڈرامہ چل رہا ہے۔ فاروق ستار کی پریس کانفرس دیکھ کر ذہن میں ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اورکی تکرار ہوتی رہی۔ خیبر پختونخوا میں بھی امن و امان کی صورتحال دگرگوں ہے ارباب اقتدار اور ارباب سیاست کا اپنا اپنا سچ ہے یہ سب کچھ چلتا رہے گا لیکن ایک کروڑ روپے کا سوال یہ ہے کہ اس سارے ڈرامے میں عوام کہاں ہیں جمہوریت کا جو پھل عوام کو ملنا چاہیے وہ انہیں کیوں نہیں مل رہا ؟سیدھی اور سچی بات تو یہ ہے کہ ہماری قیادت نے ہمیں مایوس کردیا ہے ہم دنیائے آب و گل میں سر اٹھا کر جینے کے قابل نہیں رہے۔ یہی بے انصافیاں اور ہماری معاشرتی ناہمواریاں ہیں جنہیں ہم نے دور کرنا تھا لیکن ہم یہ سب کچھ نہیں کرسکے۔

متعلقہ خبریں