سی پیک پر اعتراضات کا مسکت جواب

سی پیک پر اعتراضات کا مسکت جواب

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے امریکا پر زور دیا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک)کو بھارتی نظریہ سے نہ دیکھا جائے کیونکہ یہ سیکورٹی حکمت عملی نہیں بلکہ ایک معاشی منصوبہ ہے جس سے جنوبی ایشیا اور اس سے ملحقہ خطوں میں امن و استحکام آئے گا۔ان خیالات کا اظہار وزیر داخلہ احسن اقبال نے اپنے دورہ امریکا کے دوران جان ہوپکنس اسکول آف ایڈوانس انٹرنیشنل اسٹڈیز میں سیمینار سے خطاب میں کیا۔امریکا میں پاکستانی سفیر اعزاز احمد چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستانی اور امریکی حکام کے درمیان حالیہ ملاقاتوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کو دوبارہ معمول پر لانے میں راہ ہموار کی ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی سیکریٹری دفاع جیمز میٹس نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ سی پیک ایک متنازع علاقے سے گزر رہا ہے اور امریکا اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔امریکی سیکریٹری دفاع کے اس بیان کو اسلام آباد میں امریکا کی جانب سے بھارتی موقف کی تائید کی نظر سے دیکھا گیا۔وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ سی پیک خطے میں موجود تمام ممالک کے لیے فائدہ مند ہے جبکہ جنوبی ایشیا، وسطیٰ ایشیا، مشرقی وسطیٰ اور افریقی ممالک بھی اس راہداری کی مدد سے ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر امریکہ خطے میں بھارتی نظریہ سے دیکھے گا تو اس سے خطے سمیت امریکی مفادات کو بھی نقصان پہنچے گا لہٰذا اس کے لیے ضروری ہے کہ امریکا خطے کی صورتحال کو آزادانہ نقطہ نظر سے دیکھے۔بھارت کا سی پیک روٹ کو ایک خاص زاویہ نظر سے دکھانا اور اس حوالے سے تحفظات کا شکار ہونا اپنی جگہ لیکن امریکہ کو اس روٹ کو بھارتی نقطہ نظرسے دیکھنے کا کوئی حق نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کوئی بھی روٹ خواہ اس کا مقصد خالصتاً تجارتی ہی کیوں نہ ہو اس کا بوقت ضرورت ملکی دفاع کے لئے استعمال اس ملک کاحق ہے۔ پشاور اسلام آباد موٹر وے پر جنگی طیاروں کی اترنے اور اڑان بھرنے کی مشق کی مثال موجود ہے۔ علاوہ ازیں بھی جنگی اور ہنگامی حالات میں معمول سے ہٹ کر کسی سہولت کا استعمال غیر معمولی امر نہیں۔ ہمیں اس امر سے قطعی اتفاق نہیں کہ کسی شاہراہ کی تعمیر کرکے اسے ملکی دفاع اور سلامتی کے لئے استعمال میں نہ لایا جائے۔ کیا بھارت پاکستان کا پانی روک کر ہمارے خلاف آبی دہشت گردی کامرتکب نہیں ہورہاہے حالانکہ اس حوالے سے دونوں ملکوں کے درمیان باقاعدہ تحریری معاہدہ موجود ہے مگر بھارت کو سندھ طاس معاہدے کی پرواہ نہیں۔ بھارت کی جانب سے خدشات کے اظہار اور اعتراضات کی اس لئے بھی گنجائش ہے کہ بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ملک ہے جس سے خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ لیکن امریکہ کا پاکستان سے اس قسم کا کم از کم کوئی تعلق نہیں چپقلش الگ بات ہے۔ امریکہ کو سی پیک سے براہ راست کوئی خطرہ نہیں اگر وہ چین کو عالمی معیشت میں بالادست نہیں دیکھنا چاہتا تو اس کا مقابلہ معاشی طور پر کرنے کی منصوبہ بندی سے ہی ممکن ہوگا۔ بہر حال بھارت اور امریکہ اس روٹ کو جس تناظر سے بھی دیکھیں سی پیک کے قیام کا بنیادی مقصد سیکورٹی حکمت عملی نہیں بلکہ یہ ایک معاشی ترقی کا روٹ ہے جس پر بھارت اور امریکہ کو معترض ہونے کی بجائے اس سے استفادے کی سعی کرنی چاہئے۔ بھارت پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کا خواہاں نہیں۔ اگر بھارت اپنے رویے پر نظر ثانی کرے تو اس روٹ سے استفادے کی صورت میں ان کے لئے ایک بڑا موقع موجود ہے۔ امریکہ کے لئے بھی اس امر کو سمجھنا زیادہ مشکل نہیں کہ افغانستان میں قیام امن اوراستحکام امن کی صورتحال اس وقت بہتر ہوسکتی ہے جب خطے کی مجموعی صورتحال تبدیل ہو جائے شدت پسندی اور دہشت گردی کا مقابلہ تعلیم اور اقتصادی ترقی سے بڑی حد تک ممکن ہے ۔ ترقی اور تعلیم شدت پسندی کی طرف مائل نوجوانوں کے خیالات میں تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔ جہاں تک اس روٹ کو متنازعہ علاقے سے گزارنے کا سوال ہے اس ضمن میں پاکستان بار بار تاریخی حوالوں سے اپنے موقف کا اظہار کرتا رہا ہے مگر بھارت اس کو ماننے کو تیار نہیں۔ ہمارے تئیں پاکستان اور چین کو اس روٹ کو غیر متنازعہ اورزیادہ محفوظ علاقے سے گزارنے پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری روٹ کو چترال سے گزارنے کے کئی فوائد اور سہولیات موجود ہیں جن پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔جب تک امریکہ خطے میں جانبدار ملک کے طور پر پالیسیاں مرتب کرنے کے طریقہ کار پر کار بند رہے گا اس وقت تک ان کے تحفظات ملکوں کی مجبوری متصور ہوتے رہیں گے نتیجتاً افغانستان کا مسئلہ لاینحل صورت ہی میں چلتارہے گا۔ افغان مسئلے کے حل کا بہتر طریقہ امریکہ کا خطے میں غیر جانبدار ملک کی حیثیت سے ترجیحات کا تعین اور اس پر اسی انداز میں عملدرآمد ہوگا۔ امریکہ کا بھارت کی طرف جھکائو کی بجائے پاکستان کو برابر گرداننے کا عملی قدم اختیار کرنا ہی بہتر مصلحت ہوگی۔

متعلقہ خبریں