آرمی چیف کا درست استدلال

آرمی چیف کا درست استدلال

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک نئے انداز میں ملک میں سیاسی ومعاشی استحکام کے موضوع پر سیمنار سے خطاب کیا، جس میں ملکی معیشت کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ آرمی چیف نے کہا کہ ملک میں انفرا سٹرکچر وتوانائی بہتر ہو رہی ہے مگر کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس حق میں نہیں، کشکول توڑنا ہے تو ٹیکس کی وصولی کا نظام بہتر بنانا اور جی ڈی پی کی شرح میں اضافہ کرنا ہوگا۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان بھر میں عام آدمی کو ازسرنو یقین دلانا ہوگا کہ ریاست کی جانب سے یکساں برتاؤ ہوگا۔ آرمی چیف نے درست سمت میں سنجیدگی سے اشارہ کیا ہے کیونکہ اس وقت ملکی صورتحال اور معیشت پر توجہ کی بجائے سیاسی بقاء کی جنگ پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ سال کے عرصے میں معیشت پر تمام دعوؤں کے باوجود کم ہی توجہ دی گئی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملکی معیشت کی بہتری کا دارومدار داخلی استحکام اور سیاسی استحکام کے بغیر ممکن نہیں جس کی موجودہ دور حکومت میں بظاہر سب اچھا دکھائی دینے کے باوجود سب سے زیادہ ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ یہ درست ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وہ صورتحال نہیں لیکن اس کے باوجود امن کی بحالی کے وہ ثمرات سامنے نہیں آسکے ہیں جو مطلوب ہیں، اس کی سب سے بڑی وجہ ملک میں سیاسی عدم استحکام ہے۔ عدالتوں میں ساری توجہ سیاسی مقدمات پر مرکوز ہے اور اس امر کا امکان نظر نہیں آتا کہ2018 کے انتخابات تک اس صورتحال کا خاتمہ ہو اور حکومت معاشی صورتحال کی بہتری کی طرف لوٹ سکے۔ بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے معالات اب پہلے جیسے نہیں رہے جب آئی ایم ایف آخری لمحات میں اپنے پروگرام کو توسیع دے کر ہمیں دیوالیہ پن کا شکار نہیں ہونے دیتی تھی، امریکی صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے تناظر میں ایسا نہیں لگتا کہ اس مرتبہ بھی آئی ایم ایف ہمیں یہ سہولت دینے پر آمادہ ہوگی۔ موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے باعث جو عارضی بہتری دکھائی دے رہی تھی اب وہ تحلیل ہو چکی جس کے باعث توانائی سمیت ہر چیز کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور عوام ایک خوفناک مہنگائی کی زد میں ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ گزشتہ چار سالوں میںبرآمدات میں اضافہ نہ ہوا، کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ گزشتہ مالی سال تک دو اعشاریہ بارہ ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا، پہلے دو ماہ میں بیرونی خسارہ دو اعشاریہ دو ارب ڈالر تھا اور آئی ایم ایف کے مطابق 2017-18 کیلئے جی ڈی پی کے نو اعشاریہ چار یا سولہ سے سترہ ارب ڈالر تک بڑھ سکتا ہے اگرچہ ایف بی آر کی وصولیاں بہتر ہو ئیں مگر حکومت ٹیکس بیس کو وسیع کرنے کے بنیادی کام میں کامیاب نہ ہوئی۔ محولہ صورتحال پر محبان وطن کا اظہارتشویش اور اس جانب اشارہ فطری امر ہے جس پر غور و خوض کرنے کی ضرورت ہے ۔ ملک میں جہاں ٹیکسوں کی ادائیگی اور وصولی کے نظام میں اصلاحات اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے وہاں شاہانہ اخراجات کی بجائے حکمرانوں سے لے کر بیوروکریسی تک سادگی کا طریقہ کار اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ ملکی معیشت کو دیمک کی طرح چاٹنے والی بد عنوانی کے خلاف جہاد کر کے ہی قرضوں کی واپسی اور ملکی معیشت کو سہارا دینا ممکن ہوگا ۔ اس مقصد کیلئے ملک میں قائدین کے درمیان اختلاف اور محاذ آرائی کی بجائے ہم آہنگی بنیادی اہمیت کا حامل معاملہ ہے جس پر تمام فریقوں کو غور کر کے ملکی مفاد کو مقدم رکھنے کاعملی اظہار کرنے کی ضرورت ہے ۔
خود کردہ را علاج نیست
سیاستدانوں اور حکمرانوں کے بھی عجیب طور طریقے اور چہرے ہوتے ہیں نااہل شخص کے پارٹی صدر بننے کے بدترین مخالفین نے اس وقت تو سینٹ سے بل منظور ہونے دیا جب وہ اس بل کو نامنظور کر کے حکومت کی راہ روکنے کی پوزیشن میں تھے۔ سینٹ میں حکومت کو اکثریت حاصل نہ ہونے کے باوجود بل منظور کرانے کا موقع دیا گیا اس الزام سے تحریک انصاف جیسی جماعت بھی بری الذمہ نہیں۔ پی پی پی اور دیگر جماعتوں کو ویسے ہی مک مکا کے الزام کا سامنا رہتا ہے۔ بل کی منظوری اور قانون بن جانے کے بعد اب اس حوالے سے سانپ گزرنے کے بعد لکیر پیٹنے کی مصلحت سوائے عوام کو بیوقوف بنانے کے سوا کچھ نہیں ۔ طرفہ تماشہ یہ ہے کہ اس ایوان میں اسی بل کے خلاف پھر قرار داد لائی جاتی ہے جس کی منظوری اس ایوان نے خود کرائی تھی ۔ اس حرکت پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے اس طرح کی سیاست اور آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوششوں سے عوام کا سیاسی نظام اور سیاستدانوں پر سے اعتبار اٹھنے کا باعث بن رہا ہے ۔ بہر حال اس مصلحت کی اگر بل کے محرکین اور اس پر مخالفانہ پر رائے دینے والے وضاحت کریں کہ ایک ماہ کے اند ر ایک بل کی منظوری دے کر اس کو قانون بنادیا جاتا ہے اور پھر اس کے خلاف قرار داد دلا ئی جاتی ہے ان عناصر سے سوال کیا جانا چاہیئے کہ آخر ان کی ایسی کیا حکمت عملی ہوگی کہ خواہ اپنے ہی منظور کر دہ قانون کو خود ہی اکثریت نہ ہونے کے باوجود ختم کیا جا سکے ۔

متعلقہ خبریں