بھٹو اور نواز شریف کا موازنہ بنتا ہی نہیں

بھٹو اور نواز شریف کا موازنہ بنتا ہی نہیں

پیاسی فیم مشاہداللہ خان کو کون سمجھائے کہ ذوالفقار علی بھٹو اور میاں نواز شریف میں بہت فرق ہے۔ دونوں کا موازنہ اور انہیں مساوی شخصیت کہنا سمجھنا عقل پر چاند ماری کا شوق پورا کرنا ہے۔ بھٹو سیاستدان تھے۔ اعلیٰ سطح کے قانونی ماہر وسیع المطالعہ۔ انگریزی' اردو سندھی کے مقرر' خارجہ امور پر ان کی مہارت کا ایک زمانہ آج بھی معترف ہے۔ بھٹو کے بت میں کسی بریگیڈیئر قریشی' گورنر جیلانی اور جنرل حمید گل نے روح نہیں پھونکی۔ حریت فکر ان کی گھٹی میں شامل تھی۔ سامراج دشمن اور عوام دوست رہنما تھے۔ تیسرے فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کے سامنے جھکنے کی بجائے انہوں نے مستانہ وار پھانسی کا پھندہ چوما اور سیاسی تاریخ میں امر ہوگئے۔ 1973ء کے آئین کے خالق' ایٹمی پروگرام ' زرعی اصلاحات' پاکستانیوں کے لئے مشرق وسطیٰ میں روز گار کے دروازے کھلوانے والے بھٹو میں انگنت خوبیاں تھیں۔ لاریب وہ انسان تھے ولی کامل ہر گز نہیں ان سے چند سیاسی غلطیاں بھی سر زد ہوئیں لیکن اگر خوبیوں اور خامیوں کا جائزہ لیا جائے تو خوبیوں کا پلڑا بھاری رہے گا۔ بھٹو پر ایک پائی کی کرپشن کا الزام ان کے خون کے پیاسے اور پھانسی چڑھانے والے بھی ثابت نہیں کر پائے۔ انہوں نے میدان سیاست میں داخلے کے لئے کسی بریگیڈئیر قریشی کو گھر بنوا کردیا نہ گورنر جیلانی کے زیر تعمیر گھر کو سپر وائزر کے طور پر مکمل کروایا۔ جناب نواز شریف کی اوائل جوانی میں دو خواہشیں تھیں اولاً نائب تحصیلدار بھرتی ہونا ثانیاً سب انسپکٹر پولیس بننا۔ نائب تحصیلدار کی بھرتی کے وقت وہ تحریری امتحان میں ناکام ہوئے اور سب انسپکٹر کی بھرتی کے وقت دوڑ میں ناکام ہوگئے۔ کالی وردی کا شوق انہوں نے قومی رضا کاروں کی کمپنی کمانڈر بن کر پورا کرلیا اور پھر جب جنرل ضیاء کے دور میں پنجاب کے وزیر خزانہ بنے تو انہوں نے درجنوں ایرے غیرے تحصیلدار بنا دئیے۔ پنجاب کے وزیر خزانہ پھر دوبار وزیر اعلیٰ اور تین بار وزیر اعظم بننے والے نواز شریف پر روز اول سے کرپشن اقرباء پروری اور اختیارات سے تجاوز کے سنگین الزامات لگتے آرہے ہیں۔ وزارت عظمیٰ سے تینوں بار ان کی رخصتی کرپشن اور اقربا پروری کے الزامات کے تحت ہوئی۔ اس بار تو انہیں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے نا اہل قرار دیا۔ ان کی نا اہلی جھوٹ بولنے' جھوٹا بیان حلفی جمع کروانے اور اثاثے چھپانے کے الزام میں ہوئی اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اپنی نا اہلی والے دن سے وہ یہی پوچھتے پھر رہے ہیں '' مجھے کیوں نکالاگیا؟''۔

نواز شریف کے متوالے انہیں آہنی سیاستدان کہتے ہیں۔ اکتوبر1999ء میں دوسری بار برطرفی کے بعد مقدمات کی سماعت کے دوران ان کی آہنیت کا پردہ چاک ہوا اور سب کو پتہ چل گیا کہ وہ چوری کھانے والے مجنوں ہیں۔ دسمبر2000ء میں دس سالہ معاہدہ جلا وطنی انہوں نے ایک معافی نامے کے عوض خریدا۔ امریکہ اور چند عرب ممالک نے انہیں رہا کروانے کے لئے جو کوششیں کیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ بھٹو صاحب کو رہا کروانے کے لئے معمر قذافی اور حافظ الاسد کے ساتھ شاہ ایران نے متعدد کوششیں کیں لیکن بھٹو نے اپنے دوستوں کو پیغام بھجوایا کہ '' میں تاریخ کے ہاتھوں مرنے کی بجائے جرنیلوں کے ہاتھوں مرنا زیادہ پسند کروں گا'' انہوں نے اپنی بات نبھا دکھائی۔ جناب نواز شریف کے لئے کم بارکر نامی مغربی صحافی نے اپنی کتاب میں جو لکھا اس پر شرمندہ ہوا جاسکتا ہے لیکن کون شرمندہ ہو۔ نواز شریف کو بھٹو کا ہم پلہ قرار دینے والے مشاہد اللہ کا خمیر پی آئی اے کے کارکنوں کی تنظیم پیاسی سے اٹھا ہے۔ پیاسی جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم تھی۔ وہی پیاسی جس کے کارکنوں نے جنرل یحییٰ خان کے دور میں کراچی ائیر پورٹ پر ٹرالی چڑھا کر ایک غیر ملکی وزیر خارجہ کو قتل کردیا تھا۔ مشاہداللہ ان دنوں پیاسی کے رہنما تھے۔ ان کی اپنی اصول پسندی یہ ہے کہ کراچی کے رہنے والے ہیں اور صاحبزادی کو پنجاب سے خواتین کی مخصوص نشستوں پر ایم این اے بنوا رکھا ہے۔ حیرانی ہوتی ہے جب یہ کہا جاتا ہے کہ نواز شریف اور بھٹو میں کوئی فرق نہیں۔ کیوں فرق نہیں' ارے بھائی بھٹو اپنی مثال آ پ تھے۔ کسی بھی موضوع پر گھنٹوں بلا تکان دلائل دیتے گفتگو کرنے والے' میاں صاحب تو ملاقات کے وقت پرچیاں ہاتھ میں لے کر بیٹھتے ہیں۔ خود نمائی کا شوق اس قدر ہے کہ 1990ء میں پہلی بار وزیر اعظم بنے تو قائد اعظم ثانی کہلانے لگے۔ اسی سال انہوں نے باقاعدہ درخواست دے کر اپنی تاریخ پیدائش 25دسمبر کروائی۔ بھٹو ایک اجلے عوام دوست ترقی پسند رہنما تھے۔ میاں صاحب کیا ہیں معلوم نہیں۔ کبھی وہ جنرل ضیاء کے مشن کو پورا کرنے کا عزم دہراتے تھے۔ سیاسی طور پر وہ جنرل ضیاء ہی کے وارث ہیں ان کی سیاست بھٹو دشمنی سے عبارت ہے۔ 4اپریل 1979ء کو بھٹو پھانسی چڑھے تو میاں صاحب کے گھر دو دن تک شکرانے کا لنگر چلتا رہا۔ بھٹو ایسی قباحتوں سے محفوظ تھے۔ امریکی صدر کینیڈی نے ایک ملاقات میں بھٹو کی گفتگو سے متاثر ہو کر کہا '' مسٹر بھٹو اگر آپ امریکہ کے شہری ہوتے تو میرے وزیر خارجہ ہوتے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے مسکراتے ہوئے کہا' جناب صدر اگر میں امریکہ کا شہری ہوتا تو پھر وزیر خارجہ نہیں بلکہ امریکہ کا صدر ہوتا'' بھٹو کھانے کی میز پر مرغن غذائوں کی جگہ موسمی سبزی' ثابت مسور کی دال' آلو گوشت اور ہفتے میں ایک بار مچھلی پسند کرتے تھے۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ بھٹو اور نواز شریف کا موازنہ کرنے والوں کو اپنا '' مچ'' مارنے کی کوشش کرنے کی بجائے تاریخ پر رحم کرنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں