تیسری عالمی جنگ کی گونج

تیسری عالمی جنگ کی گونج

امریکہ میں حکمران ری پبلکن پارٹی اور سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے رکن سینیٹر باب کروکر نے امریکی صدر کے کردار اور رویے پر بہت کھل کر تنقید کی ہے ۔باب کروکر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ عہدے کو رئیلٹی شو کی طرح استعمال کر رہے ہیں۔ٹرمپ جس طرح جوہری ہتھیاروں سے لیس شمالی کوریا کو للکار رہے ہیں وہ امریکہ کو تیسری عالمی جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔امریکہ کے ایک نامی گرامی سینیٹر نے جو وزیر خارجہ کے عہدے کے امیدوار بھی تھے ڈونلڈ ٹرمپ پر بہت سنگین الزام عائد کیا ہے ۔امریکہ اس وقت ایک جنگجو مافیا کے زیر اثر آگیا ہے ۔خدا جانے یہ مافیا امریکہ کو کس طرف لے جا رہی ہے مگر امریکہ میں جنونیت کا اثر صر ف امریکہ کی حدود کے اندر تک نہیں رہتا بلکہ یہ اثرپوری دنیا پر پڑتا ہے ۔آج بھی دنیا امریکہ کی چھیڑی ہوئی جنگوں کے باعث بدحال اور دامانِ تار تا رہے۔اس وقت امریکہ تین ملکوں کو کھل کر للکار رہا ہے جن میں دو اعلانیہ ایٹمی طاقتیں ہیں ۔شمالی کوریا کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ساتھ بھی امریکی براہ راست چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں ۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پالیسی تقریر میں شمالی کوریا اور پاکستان کو بے نقط سناڈالیں ۔اس فہرست میں تیسرا ملک ایران ہے ۔ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ منسوخ کرنے کے لئے حیلے بہانے تلاش کئے جارہے ہیں اور اب ایران کے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جارہا ہے ۔ایران نے ابھی جوہری صلاحیت حاصل نہیں کی مگر اس کا دفاعی نظام اور میزائل سسٹم خاصا مضبوط ہے ۔پاکستان اور شمالی کوریا اعلانیہ ایٹمی طاقتیں ہیں۔ان سب ملکوں کو دیوار سے لگانے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے ۔شمالی کوریا کے راہنما کم جونگ ان کھل کر امریکہ پر میزائلوں کی برسات کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں ۔وہ دور مار میزائلوں کی خودکش جیکٹ پہنے دکھائی دے رہے ہیں ۔ایران کے صدر حسن روحانی کہہ رہے ہیں کہ امریکہ نے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد وں کی فہرست میں شامل کیا تو منہ توڑ جواب دیں گے ۔وہ کہہ رہے ہیں جوہری معاہدے کی منسوخی امریکہ کی سٹریٹجک غلطی ہوگی ۔ امریکہ کے معتوب تیسرے اہم ملک پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستان کے روایتی دھیمے سُروں والے موقف کو اور معذرت خواہانہ اور دفاعی لہجے کو بدلتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کی آڑ میں کسی دشمن نے کوئی بھی مہم جوئی کرنے کی کوشش کی چاہے وہ کتنا ہی بڑا اور زور آور کیوں نہ ہو اس کو خمیازہ بھگتنا ہوگا ۔بھارت کے لئے پاکستان کو صرف دشمن کہہ دینا کافی ہوتا ہے مگر جنرل باجوہ کے بیان میں ''کتنا ہی بڑا '' اور ''زور آور'' جیسے الفاظ کچھ نئے اور عجیب ہیں ۔ان لفظوں کا مخاطب کون ہے ؟ اب یہ کوئی راز نہیں۔حیرت انگیز اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ا س وقت امریکہ کے موسٹ فیورٹ دو ملک اسرائیل اور بھارت ہیں ۔دونوں کے ساتھ امریکہ من وتوکی تمیز ختم کر چکا ہے اور دونوں ملکوں کے مسلمانوں کے ساتھ بہت گہرے تنازعات چل رہے ہیں ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ پر ایک مخصوص صیہونی ذہن غالب آگیا ہے جو اسے مسلمانوں کے خلاف استعمال کر رہا ہے اور یہ سرگرمیاں ایک جنگی ماحول پیدا کر رہی ہیں ۔امریکہ میں سینیٹر باب کروکر جیسے لوگ آگے نہ آئے توٹرمپ کوئی بڑا حادثہ بھی کروا سکتا ہے جس کے بعد دنیا کے پاس ہاتھ ملنے کے سوا کچھ نہیں رہے گا۔ دنیا میں جاری فتنہ ٔ وفسادکے اہم کردار وں کے رُخ سے اب دھیرے دھیرے نقاب سرکتا جا رہا ہے۔اب یہ حقیقت واضح ہونے لگی ہے کہ عالمی اور علاقائی سیاست اور صف بندی میں کون کہاں اور کس صف میں کھڑا ہے؟اب یہ بھی واضح ہورہا ہے کہ دہشت گردی ،انسانی حقوق ،اقتصادی ترقی سمیت خوبصورت اصطلاحات کے پیچھے اصل مقصداو مدعا کیا ہوتا ہے؟امریکہ کی طرف سے پاکستان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا ایک ثبوت امریکہ کی کھل کر سی پیک کی مخالفت ہے ۔امریکی سیکرٹری دفاع جم میٹس نے سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا ہے کہ چین کامنصوبہ ''ون بیلٹ ون روڈ'' متنازعہ علاقے میں سے گزر رہا ہے۔چین اور پاکستان نے امریکہ کے اس موقف کو کلی مسترد کردیا ہے ۔چین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کو اقوام متحدہ کی حمایت حاصل ہے اور یہ کسی ملک کے خلاف نہیں۔سی پیک پر امریکہ نے جو موقف اپنایا ہے وہ درحقیقت بھارت کی زبان اور موقف ہے ۔سی پیک گلگت بلتستان کے علاقے سے گزررہا ہے اور یہ پوری ریاست جموں وکشمیر کا متنازعہ حصہ ہے ۔پاکستان ہی ریاست کو درست تناظر میں متنازعہ قرار دیتا اور کہتا ہے ۔بھارت اس ریاست کو اپنا اٹوٹ انگ کہتا ہے ۔پاکستان اسے حق خودارادیت کا کیس بنا کر پیش کرتا ہے اور اس کیس کو اقوام متحدہ کی قراردادوں سے تقویت حاصل ہوتی ہے جبکہ اٹوٹ انگ والا راگ کوئی اخلاقی اور قانونی بنیاد نہیں رکھتا نہ ہی دنیا اٹوٹ انگ کی راگنی کو تسلیم کرتی ہے ۔سی پیک ایک اقتصادی سرگرمی ہے ۔چین بار بار کہہ رہا ہے کہ اس اقتصادی سرگرمی سے کشمیر پر چین کے موقف پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔پاکستان بھی کشمیر کو بدستور متنازعہ سمجھ رہا ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر زور دیتا چلا آرہا ہے ۔امریکہ اگر اس خطے کو متنازعہ سمجھتا ہے تو یہ بھارت کی بجائے پاکستانی موقف کی حمایت ہے ۔اگر ایسا نہیں تو پھر امریکی کھل کر واضح کرے کہ کیا وہ کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ سمجھتا ہے یا نہیں؟امریکہ ابھی تک سی پیک کے معاملے میں بھارت کے کندھے پر بندوق چلاتا آیا تھا ۔ بلو چستان کے حالات کو بگاڑنے کے پیچھے صرف بھارت نہیں بلکہ امریکہ بھی تھا۔ اسی لئے تو بلوچستان میں مسلح جدوجہد کے اہم کردار مدتوں سے امریکہ اور یورپ میں گلچھرے اُڑارہے ہیں ۔

متعلقہ خبریں