صحت کے مسائل

صحت کے مسائل

وطن عزیز میں تعلیم اور صحت سرمایہ کاری کے لحاظ سے کافی منافع بخش شعبے سمجھے جاتے ہیں جس میںسرمایہ کار بے تحا شا پیسے کما رہے ہیں۔ کسی زمانے میں دانا اور عقل والے ان دو شعبوں کو عبادت تصور کرتے تھے مگر اب ان دونوں شعبوں کی وہ عزت نہیں رہی جو ماضی میں ہوا کر تی تھی۔ اب یہ دونوں شعبے بُہت حد تک مفاد پرست، خود غرض اور لالچی لو گوں کے ہاتھوں میں ہیں۔جہاں تک ان دو شعبوں کے لئے قانون سازی کا تعلق ہے ان کے لیے قانون سازی تو کی گئی ہے مگر اس پر عمل نہیں ہو رہا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ صحت عامہ کا معیار روز بروز گرتا جا رہا ہے۔فی لوقت خیبر پختون خوا میں سرکاری مد میں9 ٹیچنگ یعنی تد ریسی ہسپتال ہیں جبکہ نجی سطح پر بھی9 ٹیچنگ ہسپتال ہیں۔مگر نجی سطح پر طب سے متعلق جو تدریسی ادارے کام کر رہے ہیں وہ حکومتی اداروں سے اچھے کام کر رہے ہیں۔خیبر پختون نخوا کی حکومت نے سال 2015ء میں ایک پالیسی کا اعلان کیا تھا اس پالیسی کے تحت ٹیچنگ یعنی تد ریسی ہسپتال کے کنسلٹنٹ کو یہ اختیار تھا کہ وہ یا تو ٹیچنگ ہسپتالوں میں شام کے وقت پریکٹس کریں گے اور یا اپنا کلینک کھو لیں گے۔جن ہسپتالوں کے کنسلٹنٹ پراس کا اطلاق تھا ان ہسپتالوں میں خیبر ٹیچنگ ہسپتال، لیڈی ریڈنگ ہسپتال اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس شامل ہیں۔مگر انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اکثر کنسلٹنٹ ٹیچنگ اداروں اور پرائیویٹ طور پر دونوں لحا ظ سے کام کرتے ہیں۔ یہ بات نوٹ کی گئی ہے کہ اکثر و بیشتر مریض اگر چہ کنسلٹنٹ ٹیچنگ ہسپتالوں میں جاتے ہیں مگر بد قسمتی سے بسا اوقات یا تو ڈاکٹر دیر سے آتے ہیں اور یا اپنے کلینکس کو سرکاری ہسپتالوںکی جگہ ترجیح دیتے ہیں۔کچھ کنسلٹنٹ حکومت کی طرف سے ان دونوں نظاموں سے فائدہ اُٹھا رہے ہوتے ہیں۔جہاں تک اس نظام کا تعلق ہے تو اس سے وہ مالک حضرات جنہوں نے بڑے بڑے ہسپتال اور لیبا رٹریاں کھولی ہیں وہ انتہائی پریشان ہیں ۔ وہ یہ سوچتے ہیں کہ اگر یہ سسٹم مو ثر انداز سے چلا تو اس سے ان کی طبی تجارت کو کسی حد تک نقصان ہوگا ۔ پرائیویٹ ہسپتالوں اور لیبا رٹریوں پر جو سرمایہ کاری کی ہے وہ اس قسم کی پریکٹس سے بُری طرح متا ثر ہوگی۔اگر ہم موجودہ دور میں دیکھیں تو وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتیں ڈاکٹروں اور نر سوں کی تنخواہوں اور مراعات پر اربوں روپے خرچ کر رہی ہیں مگر پھر بھی سرکاری ہسپتالوں کی کا ر کر دگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ جبکہ اسکے بر عکس نجی ادارے عام لوگوں کی صحت کی بہتری میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ مگر بد قسمتی سے پاکستان میں سرکاری اور پرائیویٹ کوئی ایسا ہسپتال نہیں جس میں سابق صدور پر ویز مشرف ، آصف علی زرداری ، سابق وزیر اعظم نواز شریف اور انکی اہلیہ کلثوم نواز اور ملک کے دوسرے بڑو ں کا علاج ہو سکتا ہو۔اگر ہم غور کرلیں تو وفا قی حکومت بشمول چاروں صوبوں کی حکومتیں ڈاکٹروں کو ماہانہNon- practising Allowance ہزاروں روپے دے رہی ہیں ۔ اسی طرح وفاقی حکومت ڈاکٹروں کو مریضوں کی نگہداشت کے الائونس کے طور پر گریڈ ١٧ کے ڈاکٹروں کو ٢٠ ہزار روپے، گریڈ ١٨ کے لئے ١٦ ہزار روپے جبکہ ١٩ اور ٢٠ گریڈ کے ڈاکٹر حضرات کو ١٤ ہزار روپے الائونس دے رہی ہے۔ مگر پھر بھی ان کے گلے شکوے ختم نہیں ہوتے۔اسکے علاوہ یہ ڈاکٹر حضرات کلینیکل لیبارٹریوں ، سی ٹی سکین ، ایم آر آئی، ایکس رے ، الٹرا سائونڈ والوں اور ادویات کی کمپنیوں سے جو کمیشن لیتے ہیں وہ بھی کسی سے پو شیدہ نہیں۔وطن عزیز میں اچھے انسان اور ڈاکٹر بھی ہیں لیکن بد قسمتی سے حکومت کی طرف سے قوانین کے موثر طریقے سے نفاذ نہ ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر حضرات اور دوسرے متعلقہ شعبہ والے دونوں ہاتھوں سے غریب مریضوں کو لوٹ رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ غریب مریض اپنی علاج کے لئے مکان ، جائیداد اور دوسرے قیمتی اثاثے بیچ کر در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہو تے ہیں۔اکثر و بیشتر یہ بات بھی نو ٹ کی گئی ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں صحت سے متعلق مختلف مشینیں یا تو خراب پڑی ہوتی ہیں اور یا خراب کرکے مریض کواپنے من پسند کلینکس اورلیبا رٹریوں میں بھیجا جاتا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حکومتی ادارے جو عوام کی فلا ح و بہبود کے لئے عوام کے خون پسینے کی کمائی سے بنائے جاتے ہیں وہ قصداً عمداً کام کرنے کے قابل نہیں چھوڑے جاتے تاکہ ڈاکٹر حضرات اپنی من پسند لیبا رٹریوں میں مریضوں کو بھیجیں۔ ہمارے معا شرے میں اچھے ڈاکٹر حضرات بھی ہیں مگر وہ ڈاکٹر حضرات جو پیسے کمانے کے زیادہ شو قین ہیں اُنکے لئے تو ہسپتال مریضوں کو گھیرنے کی ایک جگہ ہے جہاں سے مریضوں کو جال میں پھنسایاجاتا ہے اور پھر اپنے کلینکس اور پرائیویٹ ہسپتال بھیجتے ہیں۔یہ بھی عرض ہے کہ ڈاکٹروں پر نگرانی سخت کی جائے کہ وہ ہسپتال کی جگہ باہر اپنے کلینکس میں مریضوں کو نہ لوٹیں بلکہ ہسپتال میں ان مریضوں کا علاج کریں اور ریاست کی طرف سے صحت عامہ پر جو پیسے خرچ ہو رہے ہو تے ہیں اسکا جائز مصرف کیا جائے تا کہ اسکے مثبت نتائج بر آمد ہوں ۔

متعلقہ خبریں