فاٹا انضمام اور اس کے مخالفین

فاٹا انضمام اور اس کے مخالفین

صورتحال پر تو بقول شاعر یہی تبصرہ کیا جا سکتا ہے کہ جس کو سمجھے تھے انناس وہ عورت نکلی ، جی ہاں بعض تجزیہ نگاروں کے تبصرروں سے متاثر ہو کرہم بھی یہی سمجھ رہے تھے کہ سار ا کھڑا گ مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کا پھیلا یا ہوا ہے اور باوجود یکہ قبائلی علاقوں کے عوام اور وہاں کے ممبران پارلیمنٹ کی اکثریت قبائلی علاقوں کی خیبر پختونخوا میں شمولیت کے حامی ہیں ، اگر چہ کہیں کہیں کچھ ملکان اور بعض دوسرے عناصر مبینہ طور پر پولٹیکل انتظامیہ کی شہ پر اس مطالبے کی مخالفت پر کمر بستہ ہیں کیونکہ بقول شخصے اگر قبائلی علاقے خیبر پختونخوا میں شامل ہوگئے، وہاں ایف سی آر کا مکمل خاتمہ ہو گیا ، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی عملداری قائم ہوگئی اور صوبے کی پولیس فورس کا دائرہ وہاں تک پھیل گیا تو اس کے بعد بہت سے لوگوں کے حلوے مانڈے ختم ہوجائیں گے ۔ دوسرا یہ سوال بھی قابل غور ہے یعنی یہ کہ قبائلی علاقوں کے حقوق کی ٹھیکیدار ی مولانا صاحب اور اچکزئی کو کس نے تفویض کی ہے ، مگر ہمیں یہ پتہ نہیں تھا کہ اصل مسئلہ اننا س اور عورت میں مشابہت کے حوالے سے ہے ، اور جس طرح تجریدی آرٹ کے نمونوں کی تشریح انتہائی مشکل ہوتی ہے اور فن مصوری کے ہر نقاد کی سوچ ایک ہی تصویر کے بارے میں اپنی اپنی اور مختلف ہوتی ہے تبھی تو ایک چیز کو انناس سمجھتا ہے دوسرااسے عورت سے تشبیہہ دے دیتا ہے ، بالکل اسی طرح اب تک حضرت مولانا اور اچکزئی کے نظریات میں الجھے ہوئے پاکستانیوں کو جھنجوڑتے ہوئے اے این پی کے رہنما اور قومی اسمبلی میں پارٹی کے پارلیمانی لیڈر حاجی غلام احمد بلور نے اصل حقائق سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ لیگ (ن) ہزارہ لابی کی وجہ سے فاٹا انضمام سے پیچھے ہٹ گئی ہے یعنی بقول غالب 

تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ
جب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نہ سود تھا
حاجی صاحب موصوف نے گزشتہ روز میڈیا نمائندوں سے بات چیت میں کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) ہزارہ لابی کی وجہ سے فاٹا انضمام کے فیصلے سے پیچھے ہٹ گئی ہے اور خود کو بچانے کیلئے مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کو آگے کر دیا ہے ، انہوں نے سوال اٹھا یا کہ آخر مسلم لیگ (ن) فاٹا انضمام کے تاریخی فیصلے کا کریڈٹ نئی حکومت کو کیوں دینا چاہتی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن د س سال سے کشمیر کمیٹی کے چیئر مین چلے آرہے ہیں مگر اب تک مقبوضہ کشمیر میں ریفرنڈم منعقد نہیں کرواسکے ہیں ، آخر چندماہ میں فاٹا میں کیسے ریفرنڈم کروائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر آرمی چیف کو بھی کردار ادا کرنا چاہیئے کیونکہ پانچ سال کے دوران اگر فاٹا پھر سے دہشتگردی کا شکا ر ہوگیا تو تباہی سب پر آئے گی ۔ حاجی غلام احمد بلور کی باتوں سے متعلقہ حلقے کیا نتائج اخذ کر تے ہیں اس کا تو ہمیں معلوم نہیں البتہ جس لابی کا ذکر کرتے ہوئے حاجی غلام بلور نے ماضی میں محولہ لابی کے کردار پرانگلی اٹھائی ہے وہ بہت ہی واضح ہے ، دراصل مسئلہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام پر کسی اعتراض کا نہیں کیونکہ فاٹا کے عوام کے ساتھ انگریز کے دیئے ہوئے قانون کے ذریعے آزادی کے حصول کے باوجود جو انسانیت سو ز سلوک اب تک روا رکھا جارہا ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے اور اسی کا رن قبائلی عوام اس غلامانہ سلوک سے جان چھڑانے کیلئے طویل جدوجہد کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ انہیں بھی دوسرے پاکستانیوں کی طرح انسان سمجھا جائے ۔ تو پھر کچھ لوگ کیوں ان پر یہ ظالمانہ نظام اسی طرح مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ ایک اہم سوال ہے جس کی کوکھ میں کچھ اور مقاصد پوشیدہ ہیں ، دراصل جس طرح غلام بلور نے اشارہ بھی کر دیا ہے کہ لیگ (ن) کی لیڈر شپ نے صوبے کے نام کی تبدیلی کے حوالے سے بھی ان کے ساتھ وعدہ خلافی کی تھی اور بالآخر یہ کریڈٹ بھی آصف علی زرداری کی قسمت میں لکھ دیا گیا تھا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت میں صوبے کا نام تبدیل کیا گیا ۔ جبکہ اس حوالے سے ضلع ہزارہ میں نام کی اس تبدیلی پر سخت احتجاج بھی کیا گیا ، یہاں تک کہ ہزارہ میں احتجاج کے دوران بعض قیمتی جانوں کا ضیاع بھی ہو اجو یقینا قابل افسوس واقعہ تھا ، اور اس کے رد عمل کے طور پر ہزارہ صوبے کی تحریک شروع کر دی گئی تھی اور یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس کی وجہ سے ہزارہ کے لیگی حلقے نہ صرف خیبر پختونخوا کے نام بلکہ اب فاٹا کے انضمام کے بھی خلاف ہیں ۔ کیونکہ صوبے کے نام کی تبدیلی کے بعد وہاں علیحدہ صوبے کی جو تحریک چلائی گئی اگر فاٹا کے علاقوں کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا جاتا ہے تو صوبہ ہزارہ کا مطالبہ اپنی موت آپ مر جائے گا ۔ ویسے بھی صوبہ سرحد کے نام کو خیبر پختونخوا سے بدلنے کی وجہ سے صوبے کے ایک ضلع کونئے صوبے میں ڈھالنے کا مطالبہ بھی غلط بلکہ غیر فطری تھا اور ہے ، کیونکہ انگریز کے دور سے صوبہ سرحد کے نام سے مشہور ایک پختون علاقے کا اگر صرف نام تبدیل کیاگیا تو یہ نیا صوبہ قائم کرنا تو نہیں تھا جس سے ایک ضلع کے عوام جو خود بھی دراصل پختون نسل سے ہی تعلق رکھتے ہیں ، البتہ ہزارہ میں رائج ہندکو زبان بولتے ہیں ، یہ مطالبہ کر یں کہ ان کیلئے علیحدہ صوبہ قائم کیا جائے ۔ اس لئے اگر فاٹا کا انضمام صوبے میں ہو جاتا ہے تو ہزارہ صوبہ کا مطالبہ پھر کس برتے پر کیا جائے گا ۔ یہی وہ مسئلہ ہے جس کی وجہ سے لیگ (ن) ایک بار پھر کریڈٹ کھونے پر تلی ہوئی ہے ، شاید اس جماعت کے نصیب میں ہی یہ نہیں لکھا کہ فاٹا کے عوام اس جماعت کے احسان مند ہوں ۔

متعلقہ خبریں