امریکی دھمکیوں کا توڑ

امریکی دھمکیوں کا توڑ

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بجا طور پر کہا ہے کہ پاکستان پر پابندی لگانے اور فوجی امداد مزید کم کرنے سے نقصان امریکہ ہی کا ہوگا۔ اس سے دونوں ممالک کی عسکریت پسندی کے خلاف جنگ متاثر ہوگی۔ فوجی امداد میں کمی کی صورت میں پاکستان' روس اور چین سے اسلحہ خریدنے کا اختیار استعمال کرسکتا ہے۔ پاکستان کے فنڈز روک کر امریکہ اپنے انسداد دہشت گردی کے مقاصد کبھی حاصل نہیں کرسکے گا۔ پاکستان کے پاس دوسرے مواقع پر غور کرنے کاعندیہ امریکہ کو احساس دلانے' متوجہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان حقیقی امکانات سے بھی ان کو باخبر کرتا ہے جو گوکہ کوئی پوشیدہ حقیقت نہیں بلکہ اظہر من الشمس ہیںاور ایک واضح اور کھلی پالیسی اختیار کرنے کے تقاضے ہیں۔ وزیر اعظم نے اس جانب بڑے واضح اور جرأتمندانہ انداز میں دو ٹوک الفاظ کے استعمال سے پاکستان کی جانب سے اختیار کرنے کے حامل امکانات اور راستوں کی نشاندہی کی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پالیسی میں تبدیلی کے عندیے کے بعد پاکستان کی جانب سے اس معاملے کو مسلسل زیر بحث رکھنے اور امکانات کے جائزے کو وسعت دینے کے لئے اسلام آباد میں سفیروں کی کانفرنس میں مشاورت اور پارلیمنٹ سے رہنمائی جیسے اقدامات پوری تیاری ہیں جس کی ضرورت تھی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اب امریکہ کو یہ پیغام جانا چاہئے کہ وہ ناگزیر نہیں اس طرح کے پیغامات شاید کئی بار ان کو حالیہ دنوں میں مل بھی چکے ہوں گے۔ امریکیوں کے لئے پاکستانی قیادت کے بدلتے تیور غیر متوقع اس لئے نہیں ہوں گے کہ امریکی پل پل کی خبر اور مستقبل پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ کا جذباتی خطاب ان کے بڑ بولے پن کا اظہار تھا یا پھر امریکی حکمت عملی یہ تھی کہ وہ ایک پتھر پھینک کر تالاب کی گہرائی کا اندازہ کرنا چاہتے تھے۔ ہر دو صورتوں میں ان کو اس امر کا بہر حال اندازہ ہوگیا ہوگا کہ ان کو کس ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ خطے میں دہشت گردی و انتہاپسندی کا مقابلہ کرنے کے لئے امریکہ اگر تنہا پرواز کا فیصلہ کرتا ہے تو ان کے پر پرواز سے قبل ہی پھڑ پھڑاہٹ سے محرومی کا سامنا کرسکتے ہیں۔ اس زمینی حقیقت سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا کہ پاکستان نے دہشت گردی کا جس طرح مقابلہ کرکے انسداد دہشت گردی کی کامیاب کارروائیاں کیں اپنی سرزمین کو جس قدر گل رنگ کیا امریکہ جیسا ملک سپر پاور ہونے کے باوجود بھی اس کا تصور نہیں کرسکتا۔ افغانستان میں امریکی فوج بیرکوں سے باہر نہیں نکل سکتی۔ عشرے سے زائدجاری جنگ میں افغانستان میں امریکی فوج کارروائیوں کی حقیقت کسے معلوم نہیں۔ امریکہ کسی علاقے میں تباہی پھیلا کر دہشت گردی کی موافقت پر مبنی اقدام تو کرسکتا ہے دہشت گردوں کی قوت و طاقت کا سر کچلنے میں ان کو کامیابی نہیں مل سکتی۔ اگر قرار دیاجائے تو ایک تنظیم کی حکمت عملی کے مقابلے میں امریکی شہہ دماغوں کی پالیسیاں اور حکمت عملی دم توڑی گئی تو بیجا نہ ہوگا۔ تجزیہ کار اس امر کا اعتراف کرتے ہیں کہ گیارہ ستمبر2001ء کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد چنگھاڑتے زخم خوردہ امریکہ کے مقابلے میں القاعدہ اپنی حکمت عملی میں کافی کامیاب رہی جن کا مقصد عالمی سطح پر امریکہ کے زوال کے عمل کو تیز کرنا تھا۔ جرمن ویب سائٹ کے مطابق امریکی خارجہ پالیسی کے عمل میں شامل فکری اشرافیہ میں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ سابق صدر جارج بش کی انتظامیہ نے گیارہ ستمبر کے دہشت گردانہ حملوں میں ضرورت سے زیادہ رد عمل کا اظہار کیا تھا۔ واشنگٹن دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں اب تک 4.4ٹریلین ڈالر سے زائد کے اخراجات کر چکا ہے۔ اتنی بڑی رقم کا امریکی مالیاتی بحران میں شدت لانا فطری امر ہے۔ اگرچہ امریکہ کی فوج اب بھی دنیا میں سب سے طاقتور فوج سمجھی جاتی ہے۔ لیکن جس کامیابی سے غیر منظم گوریلا گروپوں نے اسے چوٹ لگائی ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ بش دور میں قومی سلامتی کے اعلیٰ عہدیدار رچرڈ کلاک اس امر کااعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ '' ہم اپنے دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیلتے رہے جنہوں نے جان بوجھ کر ایسی کارروائیاں کیں کہ ہم ان کا جواب ان کے اندازوں کے مطابق دیں جس سے ہماری معیشت کو شدید نقصان پہنچا اور ہمارے خلاف نفرت میں اضافہ ہوا'' امریکہ کی حقیقت اب کھل چکی ہے پاکستان کو نئے دوست اور اتحادی میسر آرہے ہیں تو مضائقہ کی کیا بات ہے کہ پاکستان اپنے اسلحے کی جو ضرورت امریکہ سے خریداری کرکے پوری کرتا تھا اب وہ روس اور چین سے رجوع کرے۔ اس موقع پر پاکستان کو اب اپنی پالیسی میں اس امر کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ایسی پالیسیاں بنائی جائیں کہ اسلحہ کی ضرورت کم سے کم پڑے ہم جو اپنا سب کچھ دفاع میں جھونک دیتے ہیں اگر ہم اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لا کر ایسا ماحول پیدا کرنے کی سعی کریں جس میں ہمیں ہر وقت بقاء کی جنگ کا سامنا نہ ہو اور ہم دفاع پر مناسب رقم خرچ کرکے باقی وسائل کو قومی تعمیر و ترقی کے لئے بروئے کار لاسکیںتو یہی پالیسی امریکی دھمکیوں کا بہترین توڑ ثابت ہوسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں