اس سوال کا آپ ہی کے پاس بہتر جواب ہے

اس سوال کا آپ ہی کے پاس بہتر جواب ہے

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کا یہ کہنا بجا ہے کہ ادارے قانون کے مطابق کام کریں اور ججوں کو اثر و رسوخ سے آزاد ہونا چاہئے۔ وطن عزیز میں اگر یہ دو کام ہوں تو ملک کے آدھے سے زیادہ مسائل خود بخود حل ہوں اور عوام کو سستے انصاف اور بروقت انصاف کا حصول آسان ہو۔ ہمارے تئیں وطن عزیز میں ادارں کا قانون کے مطابق کام نہ کرنے کی دیگر کئی ایک وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں اور معاشرے میں اس کی تربیت نہیں دی جاتی۔ ہماری گھٹی میں سفارش اور پرچی شامل ہوتی ہے کہیں بھی جاتے ہوئے سب سے پہلے سہل راستہ اور جان پہچان ڈھونڈے بغیر ہمیں اطمینان ہی نہیں ہوتا۔ سرکاری دفاتر ہوں یا سرکاری سکول کالجز یونیورسٹیاں یہاں تک کہ بعض اوقات اچھے انتظام والے اداروں میں بھی جان پہچان کے بغیرکام نہیں نکلتے۔ یہ ایک ایسا المیہ ہے جس پر توجہ کی ضرورت ہے۔ ہمارے تئیں اس رویے کا خاتمہ تعلیمی اداروں میں بچوں کی بہتر تربیت سے شروع ہونی چاہئے تاکہ نئی نسل اس قسم کے منفی رویے سے ابتداء ہی سے متنفر ہو جائے جبکہ انصاف کی فراہمی اور اثر و رسوخ کو قبول نہ کرنا خود ججوں کے انصاف کا امتحان ہے جس کے بارے میں چیف جسٹس صاحب ہی بہتر تجویز دے سکتے ہیں۔ البتہ اتنا ضرور ہو کہ ایسے فیصلے سامنے نہ آئیں جن کو متنازعہ قرار دینے کی گنجائش ہو۔ اگر ایسا ہوگا تو ججوں پر بھی دبائو میں آنے کا الزام لگے گا۔ عدالتیں اگر سیاسی مقدمات کو سماعت کے لئے قبول کرنے سے احتراز کریں تو یہ بھی ایک احسن قدم ہوگا۔ اگر ناگزیر ہو تو اعلیٰ عدالتوں کی بجائے ان مقدمات کو ذیلی عدالتوں کو بھجوایا جائے تاکہ اعلیٰ عدالتوں کے سامنے آنے تک ان مقدمات بارے اٹھی ہوئی دھول بیٹھ جائے اور اعلیٰ عدالتیں اسی دھول سے محفوظ صاف فضا میں فیصلہ دے سکیں۔
داعش ہیڈ کوارٹر بارے پولیس کا دعویٰ
ناصر پور پشاور میں فلور ملز کے داعش پاکستان کا ہیڈ کوارٹر ہونے کا پولیس کے دعویٰ کو اگر درست مان لیا جاتا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر اتنی اہم کامیابی کااعلان کسی اعلیٰ ذریعے کی پریس کانفرنس کی بجائے گمنام طور پر کیوں کیاگیا؟ پولیس کو ایسے کیا شواہد ملے جس کی بناء پر یہ قرار دیا گیا کہ یہی داعش کا ہیڈ کوارٹر تھا۔ یہ بات بھی اپنی جگہ اچھنبے کی ہے کہ داعش نے اتنے غیر محفوظ علاقے میں ہیڈ کوارٹر بنانے کی غلطی کیسے کی۔ ہمارے تئیں جب تک اس کی اعلیٰ حکومتی شخصیات اور حلقوں کی جانب سے باقاعدہ طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا اور میڈیا کو اس حوالے سے بریفنگ نہیں دی جاتی اور اس کے سوالات کا جواب نہیں دیا جاتا اس وقت تک محض اس مبہم سے دعوے کی کوئی حقیقت نہیں۔ معلوم نہیں اس کی وجہ کریڈٹ لینے کا ہے یا کچھ اور اگر واقعی یہی داعش کا ہیڈ کوارٹر تھا تو یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ یہ سوال بھی مد نظر رہے کہ سابق وزیر داخلہ پاکستان میں داعش کی موجودگی سے انکار کرتے رہے سوائے ایک آدھ جگہ شہر کی دیواروں پر نعرے تحریر کرنے کے داعش کے حوالے سے کوئی اور اثرات کبھی محسوس نہیں کئے گئے۔ بہر حال بہت سارے سوالات پولیس کے اس دعوے کو کمزور بنا رہے ہیں۔ حکام کو اس طرح کے انکشافات میں احتیاط سے کام لینا چاہئے اور اگر ضرورت محسوس کی جائے تو اسے مناسب طور پر میڈیا اور عوام کے سامنے لایا جائے۔
مخیر افراد اور وزیر صحت کی توجہ درکار ہے
ہماری گزشتہ روز کی اشاعت میں ایک نادار شخص کی طرف سے پائوں کے آپریشن کے لئے دو لاکھ روپے کے اخراجات میں مدد کی اپیل پر ہماری ہمدردوں سے حسب سابق اور حسب توفیق حصہ ڈال کر ثواب دارین کے حصول کی توقع ہے۔ اس طرح کے مواقع اہل خیر کے لئے آسمانی پکار کے مترادف ہوتے ہیں جن کو مالک کائنات نے اسطاعت اور وسعت دی ہے۔ ان کی دولت کا اس سے بڑھ کر کیا بہترین مصرف ہوگا کہ ان کی مدد سے ایک شخص اپنے پائوں چل کر ان کو تاحیات دعائوں میں یاد رکھے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ ہمارے صاحب حیثیت قارئین ایک لاچار اور بیمار شخص کی مدد میں بخل کا مظاہرہ نہیں کریں گے اور ان کے علاج معالجے کے اخراجات میں ضرور حسب توفیق مدد کریں گے۔ صوبائی وزیر صحت اگر اپیل کنندہ کے سرکاری علاج کی ہدایت کریں تو یہ ان کے لئے توشہ آخرت بن سکتاہے۔توقع کی جانی چاہئے کہ علاج کے منتظر ایک لاچار شخص کی دست گیری کے لئے فلاحی تنظیموں کے علاوہ وہ ادارے بھی اپنا کردار اداکریں گے جن کے پاس فلاحی کاموں کے لئے فنڈز موجود ہوتے ہیں۔ اگر صوبائی دارلحکومت پشاور میں موجود کئی بڑے ہسپتالوں میں سے کسی ایک ہسپتال کی انتظامیہ چاہے تو ایک شخص کے پائوں کا آپریشن اتنا مشکل کام نہیں۔ صوبے کے تین بڑے تدریسی ہسپتالوں کے ماہر ڈاکٹرز بھی اگر متوجہ ہوں تو مسئلہ با آسانی حل ہوسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں