افغانستان … غیر فوجی حل

افغانستان … غیر فوجی حل

وزیر خارجہ خواجہ آصف جو اپنا نیا عہدہ سنبھالنے کے بعد علاقے کے ممالک کا دورہ کر رہے ہیں انہوں نے گزشتہ روز تہران میں ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات کی ہے۔ دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پراتفاق کیا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کاغیر فوجی حل ہونا چاہیے۔ اس سے پہلے خواجہ آصف چین کابھی دورہ کر چکے ہیں اور چینی ہم منصب سے ملاقات میں بھی یہی اتفاقِ رائے ہوا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کاکوئی فوجی حل نہیں ہے اور یہ کہ علاقائی ممالک کو افغانستان میں قیام امن کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ وزیر خارجہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیاء پالیسی کے اعلان کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کے حوالے سے ہمسایہ ممالک کادورہ کررہے ہیں۔ افغانستان میں امن واستحکام کی صورت حال کے بارے میں افغانستان کے ہمسایوں ، پاکستان' ایران ' چین اور روس کی تشویش لازمی ہے چونکہ افغانستان کے حالات میں اگر مزیدکوئی خرابی پیدا ہو گی تو اس کے منفی اثرات فوری طور پر افغانستان کے ہمسایوں پر ہوں گے جبکہ امریکہ یہ اعلان کر چکا ہے کہ وہ افغانستان میں موجود امریکی فوج میں اضافہ کرے گا۔ اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوج کی نفری میں متوقع اضافہ کس نوعیت کا ہو گا اور اس اضافے کے بعد امریکی فوج افغانستان میں کیا کرے گی ۔تاہم یہ فوج کی قوت میں اضافہ ہے اور اس سے فوجی کام ہی لیے جانے کی توقع کی جانی چاہیے۔ جب گزشتہ چندہفتے کے دوران ڈونلڈٹرمپ امریکہ کی افغان پالیسی پر نظرِثانی کر رہے تھے تو اس دوران امریکی میڈیا میں بھی سوال اُٹھائے گئے کہ امریکہ کے افغانستان میں مقاصد کیا ہیں۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے نہ امریکہ کے افغانستان میں مقاصدواضح کیے ہیں اور نہ یہ واضح کیا ہے کہ مزیدامریکی فوج افغانستان میں اترنے کے بعد وہاں کیا کرے گی۔ تاہم یہ فوج کی نفری میں اضافہ ہے اس سے جنگی کام ہی لیا جاسکتا ہے۔ چندہفتے میں افغانستان میں امریکہ کے عزائم واضح ہو جانے چاہئیں۔ جیسے کہ سطور بالا میں کہاگیاکہ افغانستان میں خون خرابہ نہ صرف افغان عوام اور حکومت کے لیے ناقابلِ قبول ہونا چاہیے بلکہ اس سے افغانستان کے ہمسایوں کو بھی تشویش لا حق ہونا لازمی ہے جن میں سے پاکستان قریب ترین ہمسایہ ہے۔جس کی 2600کلو میٹر سرحدافغانستان سے ملتی ہے۔ 

پچھلے دنوں افغانستان کے وزیر خارجہ نے بھی کہا تھا کہ ان کی حکومت ملک میں امن وا ستحکام چاہتی ہے اور صدر اشرف غنی نے بھی عندیہ دیا تھا کہ وہ افغانستان میں قیام امن کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں۔اس لیے خواجہ آصف کے افغانستان کے امن واستحکام کے حوالے سے ہمسایہ ملکوں کے دورے کا ماحصل یہ ہوناچاہیے کہ روس،چین ' ایران اور پاکستان پر مشتمل ایک پانچ رکنی انتظام قائم کیاجاسکے جس میں اگر امریکہ چاہے تو اسے بھی شریک کیاجائے اور اس انتظام کے تحت افغانستان میںقیام امن کے لیے ترجیحات کاازسرِنو تعین کیا جائے۔پہلی ترجیح ظاہر ہے قیام امن ہو گی۔ اس کے لیے طالبان سے رابطہ ان کے قطر میںقائم دفتر کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔ تاہم افغانستان میں قیام امن کے لیے افغان حکومت کی ذمہ داری کو بھی نظر میںرکھنا ضروری ہوگا۔
پاکستان نے اپنی سرحد پر باڑھ لگانا شروع کردی ہے۔ تقریباًآدھی سرحد پر باڑھ لگائی جاچکی جس کی موثر نگرانی کی بدولت پاک افغان سرحد سے منشیات اور اسلحہ کی سمگلنگ روکی جا سکے گی۔ افغان حکومت کو اس بات پر قائل کیا جاناضروری ہے کہ پاک افغان محفوظ سرحد کابل حکومت کو مضبوط کرے گی۔کابل کایہ گلہ بھی ختم ہو جائے گا کہ پاکستان سے دہشت گرد جا کر افغانستان میں حملہ آور ہوتے ہیں۔افغانستان میں امن وامان کی صورت حال سرحد کی نگرانی کے ذریعے بہتر ہو گی اس کے نتیجے میں افغانستان کے افغان حل کی طرف پیش رفت ممکن ہو سکے گی۔ افغان حکومت کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ وہ طالبان کو ایک سیاسی قوت تسلیم کرے جو وہ ہیں کیونکہ افغانستان کے ایک وسیع علاقے پر ان کی عملداری قائم ہے۔ اس طرح افغان حکومت کے لیے یہ بھی ضروری ہونا چاہیے کہ وہ طالبان کی فوجی شکست کے بجائے ان کے نقطۂ نظر کو گنجائش دینے کی طرف بڑھے۔ امریکہ نے جب طالبان کی حکومت کو فوجی قوت کے زور ختم کیا اسے سولہ سال ہو چکے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی حامی افغان رائے عامہ کا وجود ایک حقیقت ہے۔ جواب اگر طالبان کوفوجی شکست ہو بھی جائے تو باقی رہے گی۔ اس لیے افغانستان کے آئندہ انتخابات کے حوالے سے جو جلد ہی ہونے والے ہیں طالبان کی شمولیت کے لیے آسانیاں فراہم کی جانی چاہئیں تاکہ اس سے افغان طالبان کے لیے یہ امید قائم ہو جائے کہ جو مقصد وہ سولہ سال تک مزاحمت کے ذریعے نہیں حاصل کر سکے اس کے لیے عام انتخابات کی تیاری میں شامل ہو کر کوشش کر سکتے ہیں۔ عام انتخابات سے قبل پاکستان میں اور ایران میں مقیم افغان باشندوں کی افغانستان میں واپسی کا بندوبست کیا جانا چاہیے۔ جب انہیں افغانستان میں ووٹ کا حق ملے گا تو یہ افغانستان میں امن کے داعیوں ہی کے برسراقتدار آنے کے خواہشمند ہوں گے خواہ امن کے داعی امیدواروں کا تعلق طالبان سے ہو گا خواہ کسی اور پارٹی سے ۔ ان کا ووٹ افغانستان کی آبادی کی اکثریت کا ووٹ امن واستحکام ہی کو جائے گا۔طالبان کو قائل کیاجانا چاہیے کہ افغان آئین میں ان کی مجوزہ ترامیم کافیصلہ آئندہ انتخابات کے بعد آنے والی پارلیمنٹ پر چھوڑ دیا جائے تاکہ وہ ایک ایسا آئین تیار کر سکے جو سب کے لیے قابلِ قبول ہو جس میں اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت فراہم کی جائے ۔ طالبان اور افغان حکومت کو ان خطوط پر مبنی تجاویزپیش کی جائیں تو مستقل امن کیلئے کسی راہ کے نکلنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں