افغانستان میں مبہم امریکی اہداف

افغانستان میں مبہم امریکی اہداف

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئی افغان پالیسی کے اعلان کے بعد قومی اور بین الاقوامی سطح پر سیاسی اور سفارتی حلقوں کی جانب سے اس پالیسی کے ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ پر بھی بے حد تنقید کی گئی ہے ۔ دنیا بھر کے سیاسی تجزیہ کاروں اور ماہرین کی جانب سے اس پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایاگیا ہے جو کہ افغانستان کے ساتھ ساتھ پورے جنوبی ایشیاء پر اثرانداز ہوتی ہے اور جس کے ذریعے امریکہ اس خطے میں پاکستان کی بجائے بھارت کو علاقائی قیادت دینے کے حق میں نظر آتا ہے۔اپنی انتخابی مہم میںکئے گئے دعوئوں کے برعکس صدر ٹرمپ نے صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنی پہلی افغان پالیسی میں افغانستان سے امریکی فوج نکالنے کی بجائے مزید 4000 فوجی بھیجنے کا اعلان کیا ہے جس سے افغانستان میں امن قائم ہونے کی بجائے افغان جنگ کی طوالت کے امکانات میںمزید اضافہ ہوگیا ہے۔ اگر زمینی حقائق کو دیکھا جائے تو افغانستان میں عسکری قوت اور جنگی ہتھیاروں سے جیت حاصل کرنا ناممکن ہوچکا ہے ۔ اگر امریکہ کو افغانستان میں امن قائم کرنا ہے اور اپنے مفادات حاصل کرنے ہیں تو اس مقصد کے لئے مذاکرات کا راستہ اپنانا ہوگا۔جہاں تک صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افغان پالیسی کے موقع پر کی جانے والی تقریر کی بات کی جائے تو اس تقریر میں امریکہ کے افغانستان میں اہداف کی وضاحت نہیں کی گئی ۔ اس کے علاوہ مذکورہ تقریر غیر مربوط ہونے کے ساتھ ساتھ کسی جامع سٹریٹجی سے بھی محروم دکھائی دیتی ہے۔ مثال کے طور پر، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی پالیسی کا مرکزی نقطہ افغانستان میں سولہ سالوں سے جاری جنگ کو عسکری طریقوں سے حل کرنے کی کوشش کرنا ہے جس میں افغانستان میں مزید فوجیوں کی تعیناتی اور پاکستان پر دبائو بڑھانے کی حکمتِ عملی سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ صدر ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی اس خطے کی پیچیدہ سیاسی اور علاقائی صورتحال کو سمجھنے کے علاوہ افغانستان میں پاکستان اور بھارت کے علاوہ ایران، روس اور چین جیسے دیگر بڑے علاقائی کھلاڑیوں کے مفادات کا احاطہ کرنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے ساتھ ساتھ ایران، روس اور چین کے ساتھ سفارتی تعلقات میں بہتری لائے بغیر افغانستان میں قیامِ امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا لیکن صدر ٹرمپ ان حقائق سے ناواقف نظر آتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ کی جانب سے افغانستان میں داعش کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لئے اجتماعی اقدامات کرنے کی ضرورت پر بھی زور نہیں دیا گیا ۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ کی نئی پالیسی میں افغانستان کی معاشی اور اقتصادی صورتحال میں بہتری، ملک سے غربت، بھوک و افلاس، ناخواندگی، کرپشن اور سماجی عدم مساوات کے خاتمے کے بارے میں بات نہیں کی گئی۔ سابق صدر اوبامہ کی افغان پالیسی پر نظر دوڑائی جائے تو ٹرمپ کی افغان پالیسی سابق صدر کی پالیسی میں کوئی مثبت تبدیلی یا بہتری لانے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔شاید صدر ٹرمپ افغانستان کی جنگ میں تیز ی لانے کے خواہاں ہیں لیکن موجودہ صورتحال کے تناظر میں جب امریکہ کو چین کے سپر پاور بننے کے خطرے سے نمٹنے کے علاوہ ، جزیرہ نما کوریا میں جاری بحران اور مشرقِ وسطیٰ میں داعش کے بڑھتے ہوئے خطرے کا سامنا ہے کیا امریکہ افغان جنگ میں تیزی لانے کا متحمل ہو سکتا ہے ؟ صدر ٹرمپ نے اپنی پالیسی میں اس چار فریقی گروپ کا ذکر بھی نہیں کیا جو کہ افغانستان میں جاری طویل جنگ کے خاتمے کے لئے تشکیل دیا گیا تھا ۔ اس پالیسی میں خطے میں امریکی موجودگی کو غیر معینہ مدت تک طول دینے کا اعلان کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں خطے کی سیاست میں امریکی کردار میں اضافہ ہوگا۔ صدر ٹرمپ نے بہت سے اختیارات فیلڈ کمانڈرز کو تفویض کردیئے ہیں جن کی وجہ سے سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے جنگ کے خاتمے کے امکانات کم ہوجائیں گے۔ٹرمپ نے اپنی تقریر میں افغانستان کی معاشی، سماجی ، معاشرتی اور اقتصادی صورتحال میں بہتری کے لئے بھارت کی کوششوں کی تعریف کی ہے لیکن پاکستان کو اس حوالے سے مکمل طور پر نظر انداز کردیا ہے۔ اس کے علاوہ صدر ٹرمپ پاکستان کو یہ یقین دلانے میں بھی ناکام رہے ہیں کہ نیو دہلی افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کاروائیاں کرنے کے لئے استعمال نہیں کرے گا۔ ٹرمپ کی نئی پالیسی سے واضح ہوتا ہے کہ امریکہ خطے میں بھارت کو پاکستان اور چین کے خلاف علاقائی طاقت کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے تاکہ امریکہ کو انڈو۔پیسیفک اور ایشیاء ۔پیسیفک میں نقل وحرکت کرنے میں آسانی رہے۔ صدر ٹرمپ اس بات کا ادراک کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ پاکستان بہت سے عالمی طاقت بننے کی کو شش کرنے والے ممالک کے درمیان واقع ہے اور افغانستان میں امریکہ کی جنگ لڑنے کی وجہ سے پاکستان کی ابھرتی ہوئی معیشت کو بہت زیادہ نقصان پہنچ چکا ہے۔ اگر امریکہ اسی طرح پاکستان سے ڈو۔مور کا مطالبہ کرتا رہا تو پاکستان روس، چین، ترکی اور ایران کے قریب ہوجائے گا جس سے افغانستان میں قیامِ امن کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔ یہی وجہ ہے کہ نئی افغان پالیسی کے اعلان کے بعد روس اور چین نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی ہے اور پاکستان کے وزیرِ خارجہ نے اپنا واشنگٹن کا دورہ ملتوی کرکے چین، روس اور ترکی کی طرف رختِ سفر باندھ لیا ہے۔

(بشکریہ: ایکسپریس ٹریبیون،ترجمہ:اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں