عالمی قیام امن میں اقوام متحدہ کا کردار

عالمی قیام امن میں اقوام متحدہ کا کردار

مغرب میں بنیادی انسانی حقوق کی حفاظت اور اس کے نتیجے میں قیام امن اور آپس کی خانہ جنگیوں اور خون ریز لڑائیوں سے بچنے کے لئے جو منشور بڑی جدوجہد کے بعد سامنے آیا وہ 15 جون 1215ء کو ''میگنا کارٹا'' کے نام سے مشہورہوا۔ مغربی دنیا میں اس کو امن و امان کے قیام کا نقطہ آغاز کے ساتھ نقطہ اختتام اور لیگ آف نیشنز اور اس کے بعد اقوام متحدہ کے قیام کا منتہا بھی قرار دیا جاتا ہے۔

قیام امن میں اقوام متحدہ کے کردار پر بات کرنے سے پہلے مناسب ہوگا کہ اس عظیم ادارے کے بارے میں دو مختلف نقطہ ہائے نظر کا ذکر کیا جائے تاکہ بعد میں اس کے کردار پر بحث میں آسانی ہو۔ 1789ء میں انقلاب فرانس کے نتیجے میں منشور حقوق انسانی سامنے آیا۔ اس کے بعد لیگ آف نیشنز اور اسی تسلسل میں اقوام متحدہ کے قیام کو دانشور' فلاسفر اور سیاستدان وغیرہ انسان کے فکری ارتقاء کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا موقف یہ ہے کہ جنگوں کی ماری اور ستائی ہوئی مغربی دنیا اس بات کے سوچنے پر مجبور ہوئی کہ انسانیت جنگوں کی تباہی و بربادی کی مزید متحمل نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا مختلف اقوام اور ممالک کے مقتدار اور اہل انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے منشور ودساتیر وجود میں آئے۔ لیکن عالمی امن کے قیام کے لئے وہ ناکافی ثابت ہوئے۔ لہٰذا اب کسی ایسے بڑے اور موثر ادارے کے قیام کی ضرورت محسوس ہوئی جو اتنا با اختیار اور طاقتور ہو کہ اقوام عالم کے درمیان مزید جنگوں کو وقوع پذیر ہونے سے روک دے۔ یہ اسی صورت میں ممکن تھا کہ اقوام اور حکومتیں اپنے اقتدار اعلیٰ کے کچھ حصے سے رضا کارانہ طور پر دست بردار ہو جائیں اور تفویض کردہ اختیارات کے حامل ادارے کی بالادست حیثیت کو تسلیم کرلیں۔ اسی تصور کے تحت لیگ آف نیشنز کا قیام عمل میں تو آیا لیکن اس طرح کے ایک '' عالمی ادارے'' کا تصور چونکہ ابھی اقوام و ملل کے اذہان میں راسخ اور واضح نہیں تھا لہٰذا اس میں دلچسپی برائے نام رہ گئی۔ لیگ آف نیشنز کی عملی تشکیل اور اس کی مربوط کوشش کا آغاز پہلی جنگ عظیم کے دوران ہوا اور اس کا بنیادی مقصد یہ بتایاگیا کہ جنگ ایک ممنوع عمل اورجرم ہے۔ کسی بھی ملک کو اس جرم کا ارتکاب کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ لیکن لیگ آف نیشنز کے کچھ خفیہ مقاصد ایسے سامنے آئے کہ دو اہم ممالک جرمنی اور جاپان نے اس کے چارٹر پر دستخط نہیں کئے۔ لہٰذا جنوری 1942ء کو دوسری جنگ عظیم کے دوران چھبیس ممالک کے ایک چارٹر پر دستخط کرنے کے بعد لیگ آف نیشنز کو ''اقوام متحدہ ''(UNO) میں تبدیل کردیاگیا۔ پھر 26جون 1945ء کو امریکی شہر ''سان فرانسسکو'' میں اقوام متحدہ کے دستور العمل کا اعلان ہوا اور اس کے چارٹر پر پچاس ممالک نے دستخط کئے۔ 24 اکتوبر 1945ء کو اس ادارے نے باضابطہ طور پر کام شروع کیا اور بتدریج دنیا کے تمام ممالک اس کے رکن بن گئے اور اقوام متحدہ پوری دنیا کی مشترکہ حکومت قرار پائی۔
بیسویں صدی کو سائنس و ٹیکنالوجی اور تہذیب و تمدن کی ترقی کی صدی کہا جاتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اس کو جنگوں کی صدی بھی کہا جاتا ہے اور اس کو ''اقوام متحدہ'' کے قیام کے بعد قیام امن کی کوششوں کی صدی کا نام بھی دیا جاتا ہے۔
اقوام متحدہ نے انسان کے بنیادی حقوق کا ایک عالمی ضابطہ وضع کیا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ انسان کو حاصل ہونے والے بنیادی حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ اس کو ہیومن رائٹس ڈیکلریشن کہتے ہیں۔ اگر کوئی ملک یا حکومت یا کوئی اور اگران بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرکے دوسرے انسان کو نقصان پہنچائے تو اس کے خلاف اقدامات کئے جاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی طرف سے حکومتوں کو پابند کیاگیا ہے کہ وہ اپنے اپنے ملکوں میں ان کی حفاظت یقینی بنائیں۔
اگرچہ اقوام متحدہ کے قیام لیگ آف نیشنز کے بعد اس دعویٰ کے ساتھ عمل میں آیا کہ پہلی اور دوسری عالمگیر جنگوں کی ہولناک تباہی کے بعد دنیا مزید کسی جنگ کی متحمل نہیں ہوسکتی لیکن اعداد و شمار اور 1945ء کے بعد انسانی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ یہ عالمی ادارہ اپنے اس دعویٰ میں کامیاب ہونا تو در کنار بتدریج دور نکل کر اب بعض اوقات جنگوں کو برپا کرنے میں ملوث اور شامل دکھائی دیتا ہے۔
اگرچہ اپنے قیام کے چند سال کے اندر اندر اس ادارے نے اپنی ایک عالمی فوج بھی تیار کی جو رکن ممالک کے حصہ بقدر جثہ کے مصداق دستوں پر مشتمل ہے اور بوقت ضرورت استعمال میں لائی جاتی ہے۔ لیکن اقوام متحدہ کے تمام ہی اداروں کا ریکارڈ کم کامیابیوں اور زیادہ ناکامیوں پر مشتمل ہے۔ اس طرح اس کی امن فوج کا کردار بھی ملا جلا ہے۔ کئی ایک تیسری دنیا کے چھوٹے موٹے ہمسایہ ملکوں کے درمیان سرحدی یا لسانی تنازعات کی بنیاد پر چھوٹی موٹی جنگوں کو ختم کرنے میں امن فوج نے عارضی کامیابی تو حاصل کرلی لیکن بہت سارے علاقوں میں آج بھی یہ عالمی امن فوج ناکامیوں سے دوچار نظر آتی ہے۔ حالانکہ اقوام متحدہ کے دستور العمل کی شق نمبر39 میں صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ '' سلامتی کونسل پر دنیا میں امن و امان قائم کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے''۔
سلامتی کونسل کو یہ حق دیاگیا ہے کہ وہ ہر اس ملک میں دخل اندازی کرے جہاں امن کو تہ و بالا کیا جا رہا ہو۔ اس بات کا فیصلہ بھی سلامتی کونسل کے پاس محفوظ ہے کہ وہ دخل اندازی میں طاقت کااستعمال کرے یا نہ کرے۔

متعلقہ خبریں