نوبیل انعام تلے کراہتے روہنگیا مسلمان

نوبیل انعام تلے کراہتے روہنگیا مسلمان

برما میں نوبیل انعام یافتہ راہنما آنگ سان سوچی کی سرپرستی میں مسلمانوں پر قیامت برپا ہے ۔گویا کہ برما کے مسلمان نوبیل انعام تلے دب کر رہ گئے ہیں جیسا کہ اس انعام اور اعزاز کے نام سے ہی ظاہر ہے کہ یہ ان شخصیات کو عطا کیا جاتا ہے جو سیاسی اور شہری آزادیوں اور انسانی حقوق کے حوالے سے گراں قدر خدمات انجام دے چکے ہوتے ہیں ۔گوکہ سیاسی اغراض کی خاطر کچھ معاشروں میں اثر نفوذ اور کچھ میں ہلچل پیدا کرنے کے لئے امن کا یہ عالمی اعزاز عطا کرنا اب معمول سا بن چکا ہے اس کے باوجود ایوارڈ کے حوالے سے دوآرا ء ہر دور میں پائی جاتی رہی ہیں۔اس ایوارڈ کی چھتری تلے آج برما روہنگیا مسلمانوں کا مقتل بن کر رہ گیا ہے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس ایوارڈ کے سیاسی استعمال سے بے خبر لوگ آنگ سان سوچی سے یہ ایوارڈ واپس لینے کا مطالبہ کرنے میں پیش پیش ہیں۔ان لوگوں نے ایک آن لائن پٹیشن کے ذریعے نارویجن نوبیل انسٹی ٹیوٹ سے مطالبہ کیا کہ برمی راہنما کو 1991ئمیں دیا جانے والا انعام واپس لیا جائے ۔جب اس پٹیشن پر دستخط کرنے والوں کی تعداد تین لاکھ چھیاسی ہزار تک پہنچی اور یہ سلسلہ دراز سے دراز تر ہونے لگا تو نارویجن انسٹی ٹیوٹ نے ایوارڈ واپس لینے سے یہ کہہ کر معذرت کر دی کہ انسٹی ٹیوٹ کے اصول میں دیا گیا ایوارڈ واپس لینے کی کوئی گنجائش نہیں۔ حد تو یہ کہ آنگ سان سوچی برما میں ہونے والے قتل عام کو نسل کشی قرار دینے میں بھی متامل ہیں ۔اقتدار اور طاقت کا نشہ کس طرح انسانوں کے سوچنے سمجھنے کے معیار اور انداز بدل دیتا ہے یہ جمہوری جدوجہد کی علامت کے طور پہچانی جانے والی سوچی کے حال اور ماضی پر نظر ڈالنے سے واضح ہوتا ہے ۔بین الاقوامی میڈیا سے سوشل میڈیا تک گردش کرنے والی دلدوز تصویروں اور ویڈیو کلپس انسانی ضمیر کو جھنجوڑ رہے ہیں مگر انسانیت میں اب ضمیر کہاں کیونکہ ضمیر کی جگہ اب معاشی مفادات اور مصلحتوں نے لے رکھی ہے ۔المیہ یہ ہے کہ برما میں مسلمانوں پر قیامت ڈھانے والوں کو ریاست کی بھرپور سرپرستی حاصل ہے جس سے نریندر مودی کی وزارت اعلیٰ کے زمانے کی یاد تازہ ہورہی ہے جب ایک متعصب وزیر اعلیٰ کی سرپرستی اور پولیس کی معاونت سے انتہا پسند ہندوئوں نے پانچ ہزار مسلمانوں کو بے رحمی سے قتل کیا تھا۔جب برما مسلمانوں کے لہو سے رنگین تھا تو عین اسی وقت اسی نریندر مودی کی چین سے برما آمد اور آنگ سان سوچی سے ہاتھ ملاتے ہوئے دونوں کے لبوں پر معنی خیز مسکراہٹ تھی ۔شاید دونوں خطے میں پھیلتے ہوئے اس'' مودی ڈاکٹرائن '' پر خوشی سے نہال ہو رہے تھے ۔ آنگ سان سوچی نے یہ کہنے سے گریز نہیں کیا کہ بھارت اور برما کو ایک جیسے حالات کا سامنا ہے ۔دنیا میں فلسطین سے برماتک جہاں کہیں بھی مسلمان کسی سیاسی تنازعے میں اُلجھے ہوئے ہیں بھارت وہاں مسلمانوں کے ہاتھوںمشترکہ مظلومیت کی چادر تان کر مشترکہ حالات کا چورن بیچنے پہنچ جاتا ہے ۔برما میں جہاں مسلمان بدترین ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں مودی کی اس مصنوعی مظلومیت کی گریہ وزاری سے محفوظ نہ رہ سکا اور مودی وہاں بھی مشترکہ مظلومیت کا پاندان لئے پہنچ گئے ۔برما جسے میانمار کہا جاتا ہے مسلمان اقلیت کے لئے جہنم بن کر رہ گیاہے۔برما میں مسلمان جدی پشتی مقامی ہیں ۔برمی حکومتوں نے بھی مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور نسل کشی کے عمل کی بھرپور سرپرستی کی ۔بودھوں نے روہنگیا مسلمانوں کی بنگلہ دیش واپسی کے مطالبات دہرانا شروع کر دئیے جبکہ روہنگیا مسلمانوں کا اصر ار تھا کہ فرزندان زمین ہیں اور صدیوں سے اسی زمین سے جڑے ہوئے ہیں۔برمی حکومت نے مسلمانوں کی شہریت منسوخ کرکے انہیں غیر قانونی شہریوں کا درجہ دے دیا۔اس طرح وہ زندگی کی دوڑ میں پیچھے ہی نہیں رہے بلکہ مکمل طور پر دیوار سے لگ کر رہ گئے۔گزشتہ چند برس سے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی منظم انداز سے جاری ہے ۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردووان واحد مسلمان لیڈر ہیں جو اس ظلم کے خلاف اعلانیہ بات کررہے ہیں اور دیگر عالمی راہنمائوں سے رابطے کر کے اس ظلم کو رکوانے کے لئے کردار ادا کرنے پر آمادہ کر رہے ہیں۔ ترک خاتون اول بیگم امینہ اردووان خصوصی طور پر برمی پناہ گزینوں کے آنسو پونچھنے بنگلہ دیشن پہنچیں۔حکومت پاکستان نے بھی روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کی ہے اور برمی حکومت سے اس نسل کشی کو روکنے اور ظلم کے واقعات میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے ۔سوشل میڈیا پر کچھ جذباتی لوگ پاک فوج کو برما میں اتارنے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اس مہم کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔یہ ایک تصوراتی بات ہے ۔دنیا کا موجود سسٹم بین الاقوامی قوانین اور معاہدات پر کھڑا ہے ۔کسی مینڈیٹ کے بغیر کوئی ملک یک طرفہ کارروائی کے طور پر کسی دوسرے ملک کی حدود میں فوج نہیں اُتا ر سکتا ۔ پاکستان اس صورت حال میں یہی کردار ادا کر سکتا ہے کہ روہنگیا پناہ گزین جہاں کہیں ہیں ان کی امداد ومعاونت کی جائے اور سفارتی سطح پر ان کا مقدمہ زوردار انداز سے لڑے۔ برمی حکومت کو اسلحہ کی فروخت کے معاہدات پر نظر ثانی کی دھمکی دے کر بچانے کی ہر ممکن کوشش کرے ۔

متعلقہ خبریں