چار قومی اتحاد کی منتشر عالم اسلام پر یلغار

چار قومی اتحاد کی منتشر عالم اسلام پر یلغار

دنیا میں پانچ بڑے مذاہب ہیں۔ عیسائیت، بدھ ازم،اسلام ،ہندومت اور یہودیت۔ ان میں سے تین مذاہب کے لوگ طویل عرصے سے مسلمانوں کا لہو بہا رہے تھے۔ واحد بدھ مت تھا جس کا مسلمانوں کے ساتھ کہیں ٹکرائو نہ تھا لیکن برما کے بدھوں نے اس کی بنیاد بھی رکھ دی اور وہ وقت آگیا کہ چار مذاہب کے لوگ ملت واحدہ بن کر مسلمانوں پر یلغار کرتے نظر آ رہے ہیں۔ان کے آپسی تعلقات پر نظر ڈالیں تو یہ سب ایک دوسرے کے خیر خواہ ہیں۔انڈیا اسرائیل کا پرجوش دوست۔امریکہ اور یورپ انڈیا اور اسرائیل کے پشت پناہ۔اور انڈیا،امریکہ یورپ،اسرائیل برما کے بدھوں کے خیر خواہ۔عالم اسلام کی مجموعی فوجی طاقت کو اگر ایک جگہ جمع کیا جائے تو یہ اتنی زیادہ ہے کہ چند منٹوںکے اندر پورے برما کو راکھ کا ڈھیر بنا سکتی ہے لیکن یہ طاقت اس قدر منتشر ہے کہ اگر ساری کفریہ طاقتیں ایک ایک کر کے تمام مسلم ملکوں پر حملہ آور ہوتی جائیں تو سب مسلمان ملک ایک ایک کر تہس نہس تو ہوتے جائیں گے لیکن اک دوجے کی مدد کو نہیں آئیں گے کیونکہ ان کے حکمرانوں کے دلوں پر ان کی طاقت کی دھاک بیٹھی ہوئی ہے۔مجھے تو یہ گمان بھی ہے کہ خدانخواستہ اگر امریکہ پاکستان پر حملہ کر دے اور عربوں سے کہے کہ ہمارا تیل بند کر دیں تو وہ حکم کی تعمیل میں دیر نہیں کریں گے۔ جب اندلس مسلمانوں کے ہاتھ سے نکلا تھا تو فرڈی نینڈ کے مظالم سے مسلمانوں کو بچانے کے لئے بابروسہ برادران نے اپنے بحری بیڑے کے ذریعے ان گنت مسلمانوں کو سپین سے نکال کر محفوظ علاقوں تک پہنچانے کا بیڑہ اٹھایا۔اس جرم کی پاداش میں انہیں بحری قزاق مشہور کر دیا گیا حالانکہ یہ سارے بھائی تجارتی مقاصدکے لئے بحری جہاز چلاتے تھے۔ان کی ساری تگ وتاز کا مقصد مسلمانوں کو قتل عام سے بچا کر محفوظ ساحلوں تک پہنچانا تھا لیکن عیسائیوں نے مشہور کر دیا کہ یہ جنونی قاتل ہیں۔ان کیلئے باربرازم(بر بریت) کی اصطلاح استعمال کی گئی جو آج بھی انگریزی ڈکشنری میں موجود ہے۔اب اکیسویں صدی میں انہوں نے مسلم متحارب گروپس کو دہشت گرد کا عنوان دیا ہے اور کسی بھی دوسری ایسی قوم کے لئے یہ اصطلاح استعمال نہیں کرتے جوپرتشدد اقدام یا قتل عام کرتی ہے۔مثال کے طور پر امریکی اور یورپی میڈیا برمی مسلمانوں کے اعضاء کاٹنے اور انہیں زندہ جلانے والے بدھوں کو دہشت گرد کہنے سے گریزاں نظر آ رہا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ عیسائیوں،ہندوئوں اوریہودیوں نے یہ اصطلاح صرف مسلمانوں کے لئے مخصوص کر دی ہے اور جو مسلمان اپنے دفاع میں ہتھیار اٹھائے گا اسے دہشت گرد گردانا جائے گا۔

موجودہ مسلم تحریکات کا اجمالی جائزہ لیں تو دنیا کے ہر کونے میں مسلمان کسی بھی جگہ جارحیت نہیں کر رہے بلکہ ہر جگہ دفاعی لڑائی لڑ رہے ہیں۔دفاع کی لڑائی لڑنے والے ان مسلمانوں کے لئے مسلم ملکوں میں جنگجو اور عسکریت پسند جیسی اصطلاحیں استعمال کی جاتی ہیں۔جنگجو یعنی لڑائی کے رسیا اور عسکریت پسند یعنی جنگ کرنے کے شوقین حالانکہ یہ بے چارے یا تو حریت پسند کہلائے جانے کے مستحق ہیں یازیادہ سے زیادہ شدت پسند اور وہ بھی اس لئے کہ یہ عام مسلمانوںکی نسبت زیادہ سخت رد عمل دیتے ہیں۔
جہاں تک پاکستان کے اندر شدت پسندوں کے خودکش دھماکوں کا تعلق ہے تو یہ طالبان کے امیر ملا عمر کی کبھی بھی پالیسی نہیں رہی۔یہ سارا کھیل امریکیوں نے بھارت کے ساتھ مل کر کھیلا اور کچھ گمراہ شدت پسندوں کو گمراہ کر کے انہیں یہ باور کرایا گیا کہ پاکستان چونکہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں اس کا حلیف ہے اوراس کی سرزمین امریکہ دشمنوںکی سرکوبی کے لئے استعمال ہو رہی ہے اس لئے پاکستانی عوام اور افواج پاکستان پر حملے جائز ہیںاور یہ جو حقانی نیٹ ورک کی بات کی جاتی ہے اور پاکستان کو اس کے خلاف کارروائی کے لئے کہا جاتا ہے تواس کا مقصدپاکستانی فوج سے ایسے لوگوں کی سرکوبی کرانا ہے جنہوں نے پاکستان کوذرہ بھر نقصان نہیں پہنچایا۔پاکستان ان کے ایمان کا حصہ ہے اور یہ اسے گزند پہنچانے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔سوال یہ ہے کہ جب بھارتی فوج کشمیریوںکا اجتماعی قتل عام کر کے بیس بیس شہید کشمیریوں کو جنگلوں میں گڑھے کھود کر ان میں دفنا دے ۔جب اسرائیلی فوجی فلسطینی بچوں بوڑھوں اور جوانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹیں۔ جب افغانستان ،عراق اور شام کے کمزور مسلمانوں پر زندگی کا دائرہ تنگ کیا جائے توان کے لئے اپنی جان دے کر ظالموں کی جانیں لینے کے سو اکیا راستہ باقی رہ جاتا ہے۔کیا آج پاکستانی عوام کے جذبات یہ نہیں کہ پاک فوج برما کے ظالموں کو نیست و نابود کردے؟کیا دنیا بھر کے مسلمانوں کی یہ دیرینہ خواہش نہیں کہ عرب ملک مل کر اسرائیل پر پل پڑیں؟
ریاستی مجبوریاں اور بین الاقوامی بندشیں جب فوجوں کے راستے کی دیوار بن جائیں تو لوگ خود ہتھیار اٹھا کر نکل کھڑے ہوتے ہیںسو ساری کی ساری مسلم تحریکات کی بنیاد یہی غصہ اور بے بسی ہے اور یہ بات طے ہے کہ لڑائی کا دائرہ مزید وسیع ہوگا۔جوں جوں غیر مسلموں کے مسلمانوں کے خلاف اتحاد کی بھیانک شکلیں برما جیسی صورت حال کا باعث بنیں گی توں توں مسلم مزاحمت کی نئی نئی شکلیں سامنے آئیں گی اور اب اگر کوئی یہ امید کرے کہ یہ صورت حال ریورس ہو سکتی ہے تو یہ ممکن نہیں چار قوموں کا ایکا اور ان کی لگائی ہوئی آگ اس کرہ ارض کے ہر گوشے کو اپنی لپیٹ میں لے گی۔

متعلقہ خبریں