اعتراف بھی اور عدم اعتماد بھی

اعتراف بھی اور عدم اعتماد بھی

امریکہ کا افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں بالخصوص اور فاٹا میں بالعموم دہشت گردوں سے نمٹنے میں پاکستان کو درپیش مشکلات کا ادراک اگر حقیقی ہوتا تو امریکہ افغانستان کے ان لغو دعوئوں کو کبھی اہمیت نہ دیتا جن میں افغان حکام پاکستان پر انگشت نمائی کرتے رہتے ہیں۔ اس امر کی معروضی اور زمینی حقائق کی روشنی میں کوئی حقیقت نہیں کہ فاٹا میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں موجود ہیں جہاں سے ان کو افغانستان میں کام کے مواقع ملتے ہیں ۔ افغان حکمرانوں کے اس الزام پر امریکہ کی جانب سے سر ہلانے کی بجائے اگر زمینی حقائق کے مطابق اس الزام کا جائزہ لیا جاتا تو صورتحال خود بخود واضح ہوتی۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ شمالی و جنوبی وزیر ستان، باجوڑ، مہمند اور خیبر ایجنسی میں پاک فوج گزشتہ دہائی سے جس مستعدی اور قربانیوں کی تاریخ رقم کرتے ہوئے کارروائیوں میں مصروف ہے قبائلی علاقوں میں چیکنگ کا جو نظام رائج ہے اس میں دہشت گردوں کی چوری چھپے آمد اور موجود گی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ وہاں مشکوک افراد کی آمد ورفت ناممکن بناد ی گئی ہے اور حالات کی سختی کا یہ عالم ہے کہ مقامی آبادی کو سیکورٹی معاملات کی سختی پر بڑے پیمانے پر شکایات ہیں اور وہ سیکورٹی کی صورتحال پر نالاں ہیں۔ ان کو شکوہ ہے کہ وہ علاقے کے جدی پشتی باشندے اور محب وطن عوام ہیں۔ مکمل قانونی دستا ویزات اور شناخت رکھنے کے باوجود اب بھی ان کو علاقے میںوہ آزادی میسر نہیں جو ان کا بنیادی حق ہے۔ اس طرح کی صورتحال میں دہشت گردوں اور مشکوک عناصر کی آمد ورفت کا شبہ کیسے ہوتا ہے اس کا اگر افغان حکمران اور امریکہ جواب دیں تو مغالطہ کا ازالہ ہو سکتا ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپریشن ضرب عضب میں جس بڑے پیمانے پر گھر گھر تلاشی لی گئی جنگلوں اور پہاڑوں پر دہشت گردوں سے خونریز لڑائی گئی اس کے بعد ان عناصر کی پھر بھی موجود گی کیسے ممکن ہے ۔ امریکہ اور افغان حکومت کی جانب سے آپریشن ضرب عضب کے دوران بجائے اس کے کہ سرحد بند کر کے اور سرحد کے اس پار نگرانی اور حفاظتی اقدامات سخت کر کے دہشت گردوں کے افغانستان میں داخلے کے امکانات کو مسدود کیا جا تا افغانستان میں موجود بین الاقوامی فوج اور افغانستان کی قومی فوج نے سرحدی چوکیاں خالی کر کے دہشت گردوں کو فرار اور افغانستا ن میں داخلے کا اپنے ہاتھوں موقع دیا جسے اگر دہشت گردوں کو دانستہ و نادانستہ مد عو کرنے اور ان کو پنا ہ دینے سے تعبیر کیا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔ اس وقت بھی تحریک طالبان کے امیر مولوی فضل اللہ افغانستان کے کسی علاقے میںنہ صرف موجود ہیں بلکہ مبینہ طور پر ان کا جتھا بھی اس کے ساتھ ہی متحرک ہے۔ وطن عزیز میں روز ہونے والے ہر بڑے واقعے میں دہشت گردی کی واردات کی کڑیاں افغانستان ہی سے ملتی ہیں اس کے باوجود الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے والا معاملہ ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور افغانستان اگرصورتحال کا ادراک کر کے افغانستان میں داخلی طور پر متحرک ان عناصر کا قلع قمع کرنے کی راہ اپنائیں یا پھر مذاکرات اور مفا ہمت کے ذریعے داخلی قوتوں کو حصہ بقدرحبثہ اور قابل قبول طور پر حکومت و اقتدار میں حصے کی پیشکش کریں ،طالبان کو مسلح جدوجہد ترک کرنے پر آمادہ کرنے کے لئے کوئی فارمولہ وضع کیا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ اس وقت تک کم از کم اس صورتحال میں امریکہ اور افغا نستان نہ صرف دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ طالبان سے پاکستان کی مساعی سے شروع شدہ مذاکرات کو سبو تاژ کرنے کے مرتکب ہو چکے ہیں ۔ روس چین اور پاکستان کی جانب سے افغانستان کے معاملات کے حل میں دلچسپی اور ان کا حل نکالنے کا عمل اگر چہ مدعی سست گواہ چست کا مصداق ٹھہرتا ہے لیکن خطے کے اہم اور متا ثرہ ملک ہونے کے ناطے پاکستان کاخاص طور پر اس عمل کے لئے متحرک ہونا اس امر کا ٹھوس ثبوت ہے کہ پاکستان ہر قیمت پر افغانستان میں قیام امن اور استحکام کا حامی ہے تاکہ اس کے اثرات سے پاکستان محفوظ رہے جبکہ روس اور چین کے خطے میں اپنے تجارتی مفادات کوممکن اور محفوظ بنانے کے لئے اپنی جگہ کو شاں ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو امریکہ افغانستان جو مشن لیکر آیاتھا اس میں تو نا کامی نو شتہ دیوار ہے مگر سپر پاور کو یہ قبول نہیں کہ وہ شکست کی خجالت لئے افغانستان سے مکمل طور پر رخصت ہو ۔یہی وجہ ہے کہ امریکہ افغانستان میں قیام امن کی سنجیدہ مساعی اور اس میں پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کو اعتما د میں لیکر کوئی قابل قبول حل تلاش کرنے کی ذمہ داری پر توجہ دے۔ الٹا پاکستانی حکومت کو مشورہ دے رہا ہے کہ پاکستانی حکومت کو اس بات کو سمجھنا چاہیئے کہ افغانستان کی سیکورٹی پاکستان اور بھارت کی بھی سیکورٹی ہے ۔دنیا کو پاکستان کی مشکلات کو سمجھنا اور پاکستان کے کردار کا معترف ہونا پڑے گا اور معروضی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے خطے میں قیام امن کی راہ نکالنا ہوگی۔ دنیا کا فرض ہے کہ وہ پاکستان کو مطعون کرنے کی بجائے اس کی مدد کرے یا کم از کم انگشت نمائی اور بد اعتمادی سے باز رہے اور پاکستان کو اپنے معاملات سے اپنے طریقے سے نمٹنے دے ۔

متعلقہ خبریں