ریپڈ بس منصوبہ میں وزیر اعلیٰ کی ذاتی دلچسپی

ریپڈ بس منصوبہ میں وزیر اعلیٰ کی ذاتی دلچسپی

پشاور کے ٹریفک کے کل وقتی حل کے لئے ریپڈ ٹرانزٹ بس منصوبہ صر ف وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک ہی کا خواب نہیں بلکہ صوبے کے عوام اور بالخصوص پشاور کے شہریوں کا بھی خواب ہے ۔ اگر چہ دیر آید درست آید کے مصداق اس منصوبے کی اہمیت اور اس پر تیزی سے کام شروع کرنے کی اب حامی بھری جا رہی ہے لیکن صوبائی حکومت کوا س امر کا اعتراف کرناہوگا کہ اس منصوبے پر انہوں نے عوام سے جو بار بار وعدے کئے تھے ان کو پورا کرنے میں غیر ضروری تاخیر کی گئی ہے ۔ صوبائی حکومت اگر اس بنیاد ی مسئلے پر سنجید گی سے کام شروع کرتی ہے تو اب تک یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچ چکا ہوتااور اس کا شمار صوبائی دارالحکومت میں موجو دہ حکومت کے بڑے منصوبے کی تکمیل میں ہو چکا ہوتا بہر حال وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے ریپڈ بس منصوبہ کم سے کم مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے اس کی ذاتی نگرانی سے عزم کا اظہار کیا ہے اس کی جلد اور بر وقت تکمیل ممکن ہی اس وقت نظر آتی ہے جب وزیر اعلیٰ خود اس پر کام کی رفتار کا ہفتہ وار بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں اور اس منصوبے کی را ہ میں حائل رکاوٹوں اور مشکلات کا ازالہ کرنے کی ذاتی سعی کر یں۔ اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ صوبائی دارالحکومت کے شہری مناسب ٹرانسپورٹ نہ ہونے سے کن مشکلات کا شکار ہیں اور ان کے ازالے کے لئے کیا ہونا چاہیے ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ اس اہم عوامی نو عیت کے منصوبے کی تعمیر و تکمیل میں مزید تاخیر نہیں ہو گی اور صوبائی حکومت اس کی جلد تکمیل سے نہ صرف سر خرو ہوگی بلکہ یہ آئندہ عام انتخابات میں عوام سے رجوع کے لئے زاد راہ بھی ثابت ہوگا ۔
سی پیک کی پھر مخالفت
پاک چین اقتصادی راہداری پر وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی سربراہی میں صوبائی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے اطمینان کے بعد عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے سی پیک بارے تحفظات کے اظہار میں تیزی اور تحریک انصا ف پر یوٹرن لینے کا الزام سیاسی ہے یا اس میں حقیقت ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے البتہ سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی نے سی پیک پر وفاق کیخلاف عدالت میں جو مقدمہ دائر کیا ہے اس پر وفاق کو دو ہفتوں کے اندر جواب داخل کر انا ہے۔ وفاق کے جواب کے بعد صورتحال واضح ہو جائے گی جبکہ عدالت سے فیصلہ آنے کے بعد اس کا حتمی نتیجہ بھی بر آمد ہوگا یا پھر فریقین مقدمے کو آگے نہ بڑھائیں ۔بہر حال عدالت میں کیا ہوتا ہے اس سے قطع نظر تحریک انصاف کی خاموشی اختیار کرنے کے بعد اے این پی کا تنقید کے میدان میں کود نا اور صورتحال کو مشکوک بنانے کی سعی اگر واقعتا عوامی مفاد میں ہے اور واقعی تحریک انصاف نے سی پیک کے معاملے میں صوبے کے عوام کے حقوق کی نگہبانی میں کوتاہی کی ہے پھر تو اے این پی کا مئوقف اصولی قرار پاتا ہے جس کی حمایت کی جانی چاہیے لیکن اگر ایسا نہیں تو پھر اے این پی کے لئے بے وقت کی راگنی سے اجتناب ہی بہتر ہوگا ۔سی پیک قومی اور بین الاقوامی اہمیت کا حامل عظیم منصوبہ ہے جس کے اثرات و ثمرات کے حوالے سے ماہرین کی آراء خوش آئند اور حوصلہ افزا ء ہیں۔ اس میں خیبر پختونخوا کو دہشت گردی سے متاثر اور پسماندہ ہونے کے ساتھ جغرافیائی طور پر قربت اور فطری گزر گاہ ہونے کے ناتے موزوں حصہ ملنا چاہیے چونکہ خیبر پختونخوا کی حکومت اور منتخب وزیر اعلیٰ اس سلسلے میں بار بار مساعی کے اظہار کے بعد اطمینان کا اظہار کرنے لگے ہیں تو ان کی نیت پر شک و شبہ کی کوئی وجہ نہیں بلکہ ان پر اعتماد کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے باوجود اگر اے این پی کی قیادت کے پاس صوبے کو محروم رکھنے کے ٹھوس ثبوت ہیں تو ان کو عوام کے سامنے لایا جانا چاہیے اور اس ضمن میں وفاق سے بھی سنجید ہ اورمتین انداز میں رابطہ بھی غلط نہ ہوگا البتہ خواہ مخواہ کی مخالفت اور منصوبے کو متنا زعہ بنانے سے احتراز بہتر ہوگا ۔ توقع کی جانی چاہیے کہ آمد ہ دنوں میں اے این پی کی قیادت اس ضمن میں مدلل با ثبوت اورٹھوس مئوقف کے ساتھ عوام کو سمجھانے اور حکومت کو قائل کرنے کی کوشش کر کے ذمہ داری کا ثبوت دے گی ۔
احسن مگر ناقابل یقین
محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا کی جانب سے سرکاری پرائمری سکولوں میں فونیکس کے ساتھ انگریزی کی تدریس انقلابی قدم ہوگا اس طرح کے طریقہ تدریس کا سرکاری سکولوں میںمعروضی حالات میں تصو ربھی محال ہے بہر حال سیکریٹری تعلیم اور فونیکس کے ماہرین کے درمیان اس ضمن میں جو معا ہدہ طے پایا ہے اس کی مکمل تفصیلات اور طریقہ کار کا علم ہوتا تو اس پر تبصرہ بھی ممکن تھا۔ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ اگر سرکاری سکولوں میں اس معیار اور طرز کا طریقہ تدریس متعارف کرایا جائے تو عوام کو مہنگے داموں اپنے بچوں کو نجی سکولوں میں بھجوانے سے نجات ملے گی اور سرکاری سکولوں پر عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا ۔

متعلقہ خبریں