جنرل راحیل شریف سے امید

جنرل راحیل شریف سے امید

ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف کے 39اسلامی ملکوں کی فوج کی کمان سنبھالنے کی بحث پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے سینیٹ میں بتا دیا ہے کہ جنرل صاحب نے حکومت یا جی ایچ کیو سے اس حوالے سے اجازت طلب کرنے کی کوئی درخواست نہیں کی۔ دو روز پہلے چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کے استفسار پر خواجہ آصف نے کہا تھا کہ وہ دو دن کے بعد صورت حال واضح کریں گے ۔ خواجہ آصف کے بیان سے محض یہ بات سامنے آئی ہے کہ جنرل راحیل شریف نے جی ایچ کیو یا حکومت کو سعودی عرب کے فوجی اتحاد کی کمان سنبھالنے کے حوالے سے پاکستان کے سرکاری اداروں سے کوئی سلسلہ جنبانی نہیں کی ہے۔ جس کی بنا پر چیئرمین سینیٹ نے کہا ہے کہ اگر ان کی طرف سے کوئی درخواست موصول ہو تو سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔ چیئرمین سینیٹ کے اس بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ابھی یہ بات واضح نہیں ہے کہ آیا جنرل راحیل شریف کو متذکرہ بالا فوجی اتحاد کی کمان سنبھالنے کی پیش کش ہوئی تھی یا نہیں اور انہوں نے اس پیش کش پر غور کیا تھا یا نہیں۔ اور اگر پیش کش ہوئی تھی تو انہوں نے کیا جواب دیا تھا۔ مستند خبر یہ ہے کہ جنرل راحیل شریف چند دن پہلے عمرہ کے لیے گئے تھے۔ جہاں خیال ہے کہ دنیا بھر میں ان کے مقبول عام شخصیت ہونے کے حوالے سے انہیں سعودی حکومت نے شایان شان پروٹوکول دیا تھا۔ جنرل صاحب عمرہ ادا کرنے کے بعد واپس آ چکے ہیں لیکن میڈیا میں چلنے والی اس بحث کے بارے میں انہوں نے وضاحت نہیں کی۔ اس کی ایک وجہ یہ شمار کی جا سکتی ہے کہ جنرل صاحب طبعاً شہرت پسند آدمی نہیں ہیں۔ اپنے دور سپہ سالاری کے دوران بھی میڈیا پر ان کے منصب کے متعلق ضروری بیانات ہی نشر ہوئے یا ان کی وہ فلمیں اور تصویریں شائع ہوئیں جو اگلے محاذوں کے دوروں یا بعض اجلاسوں کی صدارت کرتے ہوئے بنائی گئی تھیں۔ انہوں نے اس دور میں پیشہ ورانہ امور سے ہٹ کر کوئی بیانات نہیں دیے۔ اس پس منظر کے حوالے سے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ شہرت کو ناپسند کرتے ہیں اور کسی بحث میں نہیں پڑنا چاہتے۔ لیکن بحث کا موضوع وہ بن چکے ہیں۔ جنرل راحیل شریف کے سعودی عرب کی قیادت میں 39اسلامی ملکوں کی فوج کی کمان سنبھالنے کی باتیں ان کے دور سپہ سالاری میں بھی ہوتی رہی ہیں لیکن ان باتوں کو خواہشوں کے تابع سوچ سمجھا گیا۔ان باتوں کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جنرل صاحب نے دورِ سپہ سالاری میں پانچ مرتبہ سعودی عرب کا دورہ کیا۔ جب ریٹائرمنٹ کے بعد جنرل صاحب عمرہ کے لیے گئے تو یہ کوئی انہونی بات نہیں تھی۔ انہیں جو پروٹوکول دیا گیا اس کی وجہ بھی ان کی بین الاقوامی شہرت تصور کی جا سکتی ہے۔ اس سے شہ پا کر سوشل میڈیا کے فعال لوگوں نے غالباً یہ اندازہ کر لیا کہ جنرل راحیل شریف اسلامی ملکوں کی مبینہ فوج کی سپہ سالاری سنبھال رہے ہیں۔ بعض من چلوں نے تو یہ بھی کہا کہ پاک فوج کے پچاس افسر (غالباً ریٹائرڈ) پہلے ہی سعودی عرب پہنچ گئے ہیں جو مختلف شعبوں میں کام کریں گے۔ جب یہ شہرت عام ہوئی تو ایک ٹی وی چینل نے وزیر دفاع خواجہ آصف کو مخاطب کیا جنہوں نے صیغۂ شکیہ میں جواب دیا کہ ''کمان سنبھال لی ہوگی'' اس غیر واضح بیان نے اس بات کو تقویت دی کہ شاید جنرل صاحب کو اس حوالے سے پیش کش ہوئی اور انہوںنے قبول کر لی۔ سوشل میڈیا کے فعال لوگوں کو اس بات پر غور کرنا چاہیے تھا کہ آیا اس 39رکنی فوج کا کہیں کوئی وجود ہے؟ فوجی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ فوج کسی ایک جگہ موجود نہیں ہے۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ اس میں کس ملک کے کتنے کتنے فوجی ہیں؟ کون سے ایسے ملک ہیں جن کے کوئی فوجی اس میں نہیں ہیں۔ کیا ان مختلف ملکوںکی فوجوں کے آپس میں رابطے ہیں یا نہیں ہیں۔ کیا ان مختلف ملکوں کی فوجیں ایک کمان میں ہیں؟ اور ایسے ہی دیگر سوال ۔ تو پھر کس فوج کی کمان جنرل راحیل شریف کو سونپی جا رہی ہے؟ پھر کہا گیا کہ یہ فوج دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرے گی۔ اس طرح یہ ایک مخصوص فوج ہو جاتی ہے جو کسی فوج کا ہی ایک حصہ شمار ہو گی۔ جنرل صاحب نے خود سوشل میڈیا پر ان باتوں کے حوالے سے زبان نہیں کھولی۔ یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ انہوں نے ان باتوں کو درخوراعتنا نہیں سمجھا ۔ پھر جب یہ باتیں پاکستان کے باقاعدہ میڈیا تک پہنچ گئیں تو جنرل راحیل شریف کے بعض دوستوں نے وضاحت کی۔( ریٹائرڈجنرل امجد شعیب اور ریٹائرڈ جنرل اعجاز اعوان) انہوں نے بتایا کہ جنرل راحیل شریف کو ایسی پیش کش ہوئی تھی۔ انہوں نے تین شرطیں رکھیں ۔ (١)۔ وہ کسی کی کمان میں کام نہیں کریں گے۔ (٢)۔ ایران کو اس اتحاد میں شامل کیا جائے۔ واضح رہے کہ یمن کی خانہ جنگی میں ایک فریق کی امداد و حمایت سعودی عرب کررہا ہے، دوسرے فریق کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایران اس کی سرپرستی کر رہا ہے۔ تیسری شرط یہ تھی کہ ان کے بارے میں کسی انتظام کے حوالے سے حکومت پاکستان کی منظوری ضروری ہو گی۔ پاکستان ، ایران ،عراق اور شام سمیت کئی اسلامی ممالک اس فوجی اتحاد میں شامل نہیں ہیں۔ جب پاکستان کو اس اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی تو پاکستان کی پارلیمنٹ نے اس حوالے سے مخالفت کر دی تھی اور اس حوالے سے تفصیلی بحث چلی تھی۔ اس بحث میں وہ تمام وجوہ واضح ہوگئی تھیں جن کی بنا پر پاکستان نے اس اتحاد میں شامل ہونے سے معذرت کر لی تھی۔ اس پر بعض عرب ممالک ناراض بھی ہوئے تھے۔ (ریٹائرڈ ) جنرل راحیل شریف پاکستانی قوم کا فخر ہیں۔ ہر پاکستانی انہیں نجات دہندہ سمجھتا ہے۔ وہ پاکستانیوںکے دلوںمیں احترام کے مقام کے حامل ہیں۔ تاریخ انہیں پاکستان کے چند نامور لوگوں میں مقام دے گی۔ ان کا شہرت سے اجتناب کا مزاج اپنی جگہ تاہم قوم ان سے توقع کرتی ہے کہ وہ بذات خود اس ابہام کو ختم کر دیں گے۔

متعلقہ خبریں