آنے والے انتخابات کامنظر

آنے والے انتخابات کامنظر

الیکشن کا سال ہے ۔ مستقبل کے اندازے لگانے ، جوڑ توڑ کرنے اور عوام کو زیادہ سے زیاد ہ متاثر کرنے کی کوششوں میں اضافہ ہوگا ۔ یہ سارے ہی دعوے جھوٹے ہوا کرتے ہیں ۔ ایک بار پولنگ بوتھ میں ووٹ ڈال دیا پھر عوام کہاں اور عوامی نمائندے کہاں ۔ نہ سیاست دانوں کا طریقہ کار بدلا ہے اور نہ عوام کے خواب ۔ وہ آج بھی کسی مسیحا کے انتظار میں ہیں ۔ کتنی ہی بار انہیں اس نیند سے جھنجوڑ کر جگا نے کی کو شش میں لوگوں نے اپنی محنت کو وقت کے فرش پر گر کر بکھر جاتے دیکھا ہے ۔عمران خان بھی اسی جھنجھلا ہٹ کا شکار ہیں کچھ ان کی صفوں میں سرنیچے کیے انہی کے اصولوں کے دشمن گھوم رہے ہیں اور کچھ حکومت وقت کے سامنے کسی کی چلتی ہی نہیں ۔ پاناما لیکس کا معاملہ کسی طور سہارا دے کر انہوں نے عوام کے سامنے کھڑا تو کر لیا ہے لیکن اس سے سیاسی معاملات پر کیا اثر ہو سکتا ہے ۔ اس میںشکوک و شبہات قائم ہیں ۔ یہ قوم بھی سنسنی خیز ی پسند کرتی ہے سو پاناما کا ذکر آتے ہی ہمہ تن گوش تو ضرور ہو جاتی ہے لیکن یقین جانیئے انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ ان کی انہی جیبوں سے ان سیاست دانوں نے کتنا روپیہ چوری کیا ۔ انہیں اس با ت کی بھی کوئی خواہش نہیں کہ یہ پیسہ واپس آجائے ۔ انہیں اس کا بھی علم نہیں کہ یہ پیسہ واپس آگیا تو ان کی زندگیوں میں کیا تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے یہ بس دیکھتے ہیں پاناما کی لڑائی جاری ہے اپنے مفادات سے بے خبر یہ تماش بینوں کی طرح اس لڑائی کے ارد گرد حصا ر باندھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ 

کوئی فریق دوسرے کے منہ پر زور کا طمانچہ جڑ دے تو خوش بھی بہت ہوتے ہیں ، تالیاں پیٹتے ہیں لیکن جیسے ہی معاملہ کچھ ٹھنڈا پڑ ے یہ اپنے اپنے کاموں میںمشغول ہو جاتے ہیں ۔کیونکہ انہیں کسی بات سے کوئی تعلق محسوس نہیں ہوتا ۔ سیاسی حالات کی نبض پر ہاتھ رکھیں تو ایک نیا ہی منظر تشکیل پاتا دکھائی دیتا ہے ۔ اس منظر کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ابھی بھی پاکستان کی مشکلات کے دن تمام نہیں ہوئے وہ لوگ جو پاکستان سے محبت کے دعویدار ہیں اور عدالت کی جانب نظریں جمائے بیٹھے ہیں ۔ جنہیں یہ امید ہے کہ شاید پاناما کیس کا فیصلہ ہوگیا تو اس ملک کی تقدیر بد ل جائے گی ۔ ساری بد عنوانی اور بد قسمتی کا خاتمہ ہو جائے گا ۔ اس ایک فیصلے کے بعد ہر ایک نئے شے سنہری اور ہر صبح رو پہلی ہو جائے گی ۔ پاناما لیکس کا کیا فیصلہ ہوگا اس کے بارے میں کچھ بھی کہنا مشکل ہے ۔ لیکن اتنا کہنا مشکل نہیں کہ اس فیصلے کا اثرمیاں نواز شریف کے سیاسی مستقبل پر کچھ زیادہ ہونے والا نہیںمیاں نواز شریف یوں بھی دوبارہ وزیر اعظم نہیں بن سکتے ۔ شریف برادران کے درمیان کی کشمکش نے انہیں کوئی ایک شخص تیار کرنے کی فرصت ہی نہیں دی جو انکے لیے اس وقت تک وزارت عظمیٰ سنبھال سکتا جب تک انکے اپنے بچے اس وزارت عظمیٰ کے لیے تیار نہ ہو جاتے اس وقت تو مریم نواز بھی وزیر اعظم بننے کے لائق نہیں اور حمزہ شہباز میں بھی ایسی کوئی کیفیت دکھائی نہیں دیتی ۔ شہباز شریف کی صحت انہیں اجاز ت نہیں دیتی میاں نواز شریف ایسی غلطی بھی نہ کرنا چاہیں گے ۔ کیو نکہ اگر شہباز شریف ایک بار مرکز میں داخل ہوگئے تو شاید مریم نواز کی جگہ بنا نا مشکل ہو جائے ۔ ایک طرف یہ کشمکش ہے ، دوسری طرف آصف علی زرداری ، بلاول بھٹو کو لے کر اسمبلی پہنچ رہے ہیں ، لیکن اگلے انتخابات میں ایسی کوئی انہونی دکھائی نہیں دیتی جس میں پیپلز پارٹی ملک میںایسی کوئی اکثریت حاصل کر نے میں کامیاب ہو جائے جسکے نتیجے میں بلاول بھٹو ملک کے وزیراعظم ہو جائیں ۔ عمران خان اور تحریک انصاف میں ابھی ایسا کوئی زور دکھائی نہیں دیتا جو انہیں وزارت عظمیٰ کی سند تک پہنچا سکے ہاں اگر اس وقت قاضی حسین احمد زندہ ہوتے اور پی ٹی آئی نے اپنے جلسوں میں ناچ گا ناکر کے جماعت اسلامی کو اپنے آپ سے اس قدر متفر نہ کر لیا ہوتا تو حالات میں کسی قدر تبدیلی ہو سکتی تھی ۔ سراج الحق میں بھی قاضی حسین احمد کی طرح مجھے وہ چقماق پیدا کرنے کی صلاحیت تو دکھائی دیتی ہے لیکن معاملہ کسی جانب کروٹ لیتا نظر نہیں آتا کہ پی ٹی آئی کی سیاست کا رنگ پیپلز پارٹی سے مشابہ ہے اور خواہشات جماعت اسلامی جیسی۔ ایسے میں محسوس یوں ہوتا ہے کہ آنے والے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) پنجاب میں اپنی طاقت بر قرار رکھے گی ۔ ایم کیو ایم کی غیر موجود گی میں پیپلز پارٹی سندھ میں اپنی گرفت مضبوط کر لے گی ۔پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں ہی رہے گی ۔ قومی اسمبلی میں ان تینوں پارٹیو ں کی سیٹوں کا تناسب بھی اسی لحاظ سے رہے گا ۔ جے یو آئی کی کیفیت جو گزشتہ انتخابات میں تھی ، ان انتخابات میں بھی کم و بیش ویسی ہی رہے گی ۔ بلوچستان کا معاملہ تو برس ہا برس سے ایک ہی جیسا چلا آتا ہے ۔ ان انتخابات میں بھی کوئی تبدیلی بظاہر دکھائی نہیں دیتی ہمیں بادشاہوں کی عادت ہے ۔ اور ابھی کسی جانب سے بھی ولی عہد تیا ر نہیں ۔ ان ولی عہدوں کے انتظار میں اگلی حکومت ایک مخلوط حکومت ہوگی ۔ جو شاید ملک کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے بہت مثبت بھی نہیں لیکن اس دور میں یہ فیصلہ ہونے میں مددگار ثابت ہوگی کہ اس سے اگلے انتخابات میں حکومت کس کی ہو سکتی ہے ۔ اس مخلوط حکومت میں تینوں ولی عہد قومی اسمبلی میں پہنچ سکتے ہیں اور اپنی اگلی اڑان کے لیے تیار ہو سکتے ہیں ۔ آنے والے انتخابات پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے بہت اہم ہیں افسوس صرف اس بات کا ہے کہ جمہوریت کہلانے کے باوجود بھی ہم بادشاہت کے چنگل سے آزاد نہیں ۔

متعلقہ خبریں