خواب نہ دکھائیں تعبیر دیجئے حضور!

خواب نہ دکھائیں تعبیر دیجئے حضور!

بظاہر تو جناب نواز شریف کا یہ کہنا خوش آئند ہے کہ ''مسلم ، ہندو ، سکھ و عیسائی ہم سب ایک اور پاکستانی ہیں '' مگر کڑوا سچ یہ ہے کہ زمینی حقائق اس سے یکسر مختلف ہیں ، لاکھ دعوئوں کے با وجود ہم اس تلح حقیقت کو نظر انداز نہیں کر سکتے کہ آج کا پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی 11اگست 1947ء کی اس تقریر کے بالکل بر عکس ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ '' ریاست آپ کی ذات پات ، مذہب و عقید ے ، رنگ و نسل اور انسانی شناخت کی بنیاد پر نہیں بلکہ مساوی شہری حقوق کی فراہمی کی پابندہیں ۔ پاکستان اور اس میں آباد تمام لوگوں کا ملک ہے ۔ قرارداد مقاصد ۔ 1956ء اور 1973ء کے دستور جناح صاحب کے اس تصور پاکستان سے مختلف ہیں جس کا نقشہ انہوں نے دستور ساز اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں کھینچا تھا ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جو قوتیں ، جماعتیں اور عنا صر قیام پاکستان کے شدید مخالف تھے وہ پچھلے 70سال سے پاکستان کو اپنی ڈھب کی ریاست بنانے پر بضد ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی حضرات ہندوستان کو ایک سیکولر ملک کے طور پر دیکھنے کے آرزو مند ہیں ۔ بی جے پی اور انتہا پسند ہندو جماعتوں کی اقلیت دشمن پالیسیوں پر نوحہ کناں مگر پاکستان کو خاص فہم کی مذہبی ریاست بنانا ان کی ''انقلابی '' جد و جہد کا حصہ ہے اس '' انقلا بی '' جد وجہد نے پاکستان کو کیا دیا اور کیا خو د یہ جد وجہد اور مطالبات 1973ء کے دستور کی اس شق سے متصادم نہیں جس میں وعدہ کیا گیا ہے کہ ریاست اس امر کو یقینی بنائے گی کہ لوگوں کے فہم و عقید ے کے خلاف تنظیم سازی نہ ہونے پائے تاکہ کسی بھی طبقے کے سیاسی ، معاشی ، سماجی اور مذہبی حقوق متا ثر نہ ہوں ۔ 70سال پر پھیلی اس فکری ابتری اور پیدا شدہ مسائل سے بنے مادوں میں وزیر اعظم کی تازہ گفتگو کانو ں کو بہت بھلی لگتی ہے مگر افسوس کے زمینی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں صورتحال ایسی ہر گز نہیںکہ دعویٰ کیا جا سکے کہ وہ دن دور نہیں جب یہ ملک اقلیت دوست ملک کے طور پر شناخت بنا لے گا ۔ وزیر اعظم کے مذکورہ خیالات بذات خود اکثر یت و اقلیت کا ذکر لئے ہوئے ہیں جبکہ کسی ریاست کی معراج یہ ہے کہ اس کے سارے شہری مساوی حیثیت کے مالک ہوں ۔ مکروعرض کئے دیتے ہیں ایک سوشل ڈیمو کریٹ ریاست لوگوں کی ذات پات ، مذہب و عقید ہ یا رنگ ونسل دیکھ کر حقوق نہیں دیتی بلکہ ریاست کا بنیا دی فرض ہی یہ بنتاہے کہ وہ ایسی اقدار کو پر وان چڑھائے کہ ہر شخص فخر سے یہ کہہ سکے کہ ہاں ہم اس ملک کے باعزت و با وقار شہری ہیں ۔ہمارے مذہبی سیاسی اور معاشی حقوق پر کوئی قد غن نہیں ۔ معاف کیجئے گا یہاں تو باو آدم ہی نرالا ہے ۔پچھلے 20برسوں کے دوران پنجاب سے کتنے عیسائی اور سندھ سے کتنے ہندو نقل مکانی کر گئے اس کے اعداد و شمار ہی اصل صورتحال کو سمجھنے کے لئے بہت ہیں ۔ ہم ان شکایات پر بھی بات نہیں کر سکتے جو ان دونوں برادریوں کے نقل مکانی کرنے والے شہریوں کو لا حق تھیں اور وہ ترک وطن پر مجبور ہوئے ۔ سوال یہ ہے کہ کس کی ذمہ داری تھی کہ عیسائی اور ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی شکایات کا ازالہ کرتا ۔ اصلاح احوال کی ذمہ داری کے لئے موجود قوانین پر سختی سے عمل ہوتا ؟۔ یہی بنیادی سوال ہے سو اولاًاس کا جواب تلا ش کیا جانا ازحد ضروری ہے ۔ کیا یہ تلخ حقیقت نہیں کہ ہمارے یہاں ایسا ماحول بننے ہی نہیں دیا گیا جس میں ایک مذہب و عقید ے کا شہری دوسرے عقیدے یا مذہب کے شہری کے حقوق پامال ہونے پر قا نون کی حاکمیت اور مساوی حقوق کی فکر کی بنیاد پر ڈٹ کر کھڑا ہو سکے ۔ ذمہ داروں کا تعین کرتے ہوئے یہاں دانتوں کو پسینہ آجاتا ہے ۔ اقلیتوں کے حقوق کی بات کرنے والوں پر خاص فکر کے جنونی چڑھ دوڑتے ہیں ۔ ایسے حالات میں جب عدم تحفظ کا جادو سر چڑ ھ کر بول رہا ہو تو کیا ہم اپنے وزیر اعظم کی تقریر سے جی بہلا ئیں یا تالیا ں پیٹیں ؟ بہت ادب کے ساتھ یہ عرض کرنے پر مجبور ہوں کہ اگر حکومت وقعتاً مذ ہبی ہم آہنگی مساوی شہری و سیاسی حقوق اور یکسا ں تحفظ کی فراہمی کے لئے سنجید ہ ہے تو پھر کسی تاخیر کے بغیر اقلیتی برادریوں کی ملک سے نقل مکانی کو روکے اور خوف کا ماحول پیدا کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کرے ۔ اس کے لئے قانون سازی کی ضرورت ہے تو کی جائے ۔ محض باتوں سے جی بہلانا مقصود ہے تو اور بات ہے ۔ لیکن یہ سلسلہ بھی زیادہ دیر تک قائم رہنے کا نہیں ۔ (پوری دیانتداری کے ساتھ ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جو بانی پاکستانی کی 11اگست 1947ء والی تقریر سے عبارت ہوں ۔ لاریب قانون سازی کی اہمیت ہے مگر سب سے پہلے ہمیں اپنے تعلیمی نصاب (یوں کہیں کے نصاب ہائے کیونکہ اس ملک میں پانچ طرح کے نصاب تعلیم پڑھائے جارہے ہیں )تعلیم پر از سر نو توجہ دینا ہوگی۔ وعدے اور دکھا وے چھوڑ یئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے ۔ 70سال لگ گئے دیگر مذاہب کے شہریوں کے لئے عائلی قوانین بنانے میں ۔ اس میں بھی اصل کریڈٹ سپریم کورٹ کو جاتا ہے منتخب اداروں کے ارکان نے تو اگلے 700سال بھی اس پر توجہ نہیں دینا تھی ۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر ہم اپنی آئندہ نسلوں کو ایک فلاحی جمہوری شرف انسا نیت سے مالا مال ملک اور نظام دینا چاہتے ہیں تو انقلابی خطوط پر اصلاحات اور قانون سازی کرنا ہوگی ۔ اس تصور کو حقیقت کا روپ دینا ہوگا کہ پاکستان اس میں آباد بائیس کروڑ لوگوں کا ملک ہے اور ہر شخص کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق کردار ادا کرنے کا حق حاصل ہے ۔ ہم اگر ایسا ماحول اور سوچ پر وان نہیں چڑھاسکتے تو خالی خولی باتیں کرتے رہنے کا کیا ہے کوئی فائدہ نہیں ۔ فائدہ اتحاد قانون کی با لا دستی ، باہمی احترام اور مساوت میں ہے ۔ کیا اس پر توجہ دینے کوآ ما دہ ہے حکومت ؟

متعلقہ خبریں