خفیہ غلامی

خفیہ غلامی

حال ہی میں ایک دس سالہ گھریلو ملازمہ ، طیبہ ،پر بہیمانہ تشدد کا واقعہ اس وقت سامنے آیا جب اس ننھی ملازمہ کی تشدد زدہ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں ۔ ان تصاویر میں طیبہ کے چہرے اور جسم پر تشدد کے نشان صاف دیکھے جاسکتے تھے۔ مذکورہ بہیمانہ واقعہ اسلام آباد کے ایک پوش علاقے میں ایک حاضر سروس جوڈیشل آفیسر کے گھر میں پیش آیا۔ سول سوسائٹی اور میڈیا کے شور مچانے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے طیبہ کو جج کے گھر سے اپنی تحویل میں لے لیا لیکن تمام قانونی کارروائیوں کے بعد پھرمفاہمت کی وہی پُرانی کہانی دہرائی گئی جوایسے واقعات میں اکثر دہرائی جاتی ہے۔ملزم اور بچی کے والدین کے درمیان مفاہمت کے بعد بچی کو انہی والدین کے سپرد کر دیا گیا جنہوں نے اپنے جگر کے ٹکڑے کو صرف 18000 روپے کے عوض بیچا تھا اور کبھی واپس مڑ کر اس کی خبر بھی نہیں لی تھی۔یہاں پر بہت سے سوالات جنم لیتے ہیں، طیبہ کوان والدین کے پاس واپس کیوں بھیجا گیا جنہوں نے اسے اپنے ہاتھوں سے فروخت کیا تھا؟ اس سارے معاملے میں بچی کے مفادات کیا ہیں؟ بچی کے مفادات کی حفاظت کا ذمہ دار کون ہے؟ ریاست کہاں ہے اور اپنا کردار کیوں نہیں ادا کر رہی ؟ بدقسمتی سے ہم ایک ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جس میں بچوں کے خلاف تشدد کو روٹین سمجھ کر قبول کر لیا گیا ہے اور بچوں کے حقوق کی پامالی کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ طیبہ جیسے بہت سے بچے آج بھی نامساعد حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔سول سوسائٹی ایسے واقعات کو دنیا کے سامنے لانے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے لیکن ہماری ریاست ان معاملات میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کررہی۔ ہمیں چائلڈ ڈومیسٹک لیبر کی ہر سطح پر مذمت کرنی چاہیے اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ گھروں میں کام کرنے والے بچوں پر تشدد کے واقعات پر قابو پانے کے لئے سخت ترین اقدامات کرے۔ اس کے علاوہ بچوں پر تشدد کے مسئلے کی روک تھام کے لئے قانونی اورسماجی اقدام بھی اٹھا ئے جانے چاہئیں۔طیبہ پر تشدد کا واقعہ اس قسم کا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے جس نے میڈیا کی توجہ حاصل کی ہو۔ اس سے پہلے بھی ہمارے ملک میں ایسے کئی اندوہناک واقعات پیش آچکے ہیں ۔میں یہاں پر ایسے پچاس کیسز قارئین اور پالیسی سازوں کے سامنے رکھنا چاہوں گا جو2010ء میں لاہور میں شازیہ مسیح کے ساتھ پیش آنے والے خوفناک واقعے کے بعد میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچے۔ مجھے یہ معلوم نہیں کہ کوئی این جی او یا انسانی حقوق کی تنظیم بچوں کے خلاف ہونے والے تشدد کے واقعات کا ریکارڈ رکھتی ہے یا نہیں لیکن دستیاب اعدادوشمار سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان 50 میںسے 30 واقعات میں تشدد کا نشانہ بننے والے بچے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈومیسٹک چائلڈ لیبر دیگر شعبوں میں چائلڈ لیبر کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہے کیونکہ کسی بھی دوسرے شعبے میں کام کرنے والے بچوں کی اموات کی شرح اتنی بلند نہیں ہے۔اسی طرح ڈومیسٹک چائلڈ لیبر میں کئی بچوں کی اموات کے باوجود بھی ہماری حکومت اس مسئلے کو مسلسل نظر انداز کرتی چلی آ رہی ہے۔اموات کے علاوہ گھروں میں ہونے والے تشدد کی وجہ سے کئی بچے زخمی ہوتے ہیں اور ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو ساری زندگی کے لئے اپاہج ہوجاتے ہیں۔ بڑے شہروں میں ایسے بہت سے منظم گروہ پائے جاتے ہیں جو بچوں کی سمگلنگ میں ملوث ہیں اور بچوں کو گھروں میں کام کرنے کے لئے صاحبِ حیثیت لوگوں کو فراہم کرتے ہیں۔ 'ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ (ای سی اے) 1991ء ' میں ترمیم کے ذریعے ڈومیسٹک چائلڈ لیبر پر پابندی عائد کر دینی چاہیے۔اس حوالے سے حکومتی موقف یہ ہے کہ اگر ای سی اے کے ذریعے ڈومیسٹک چائلڈ لیبر پر پابندی عائد کر دی جائے تو لیبر انسپکٹرز کے لئے گھروں کے اندر جا کر خلاف ورزی کرنے والوں کو پکڑنا بہت مشکل ہے۔ یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لیبر قوانین کے تحت جن جگہوں پر انسپکٹرز باآسانی معائنہ کرسکتے ہیں وہاں پر کوئی بہتری آئی ہے ؟ قوانین پر عمل درآمد ہمیشہ سے ہمارے ملک میں مشکل رہا ہے لیکن ڈومیسٹک چائلڈ لیبر پر پابندی عائد کرنے سے بیوروکریٹس، ججزاور پارلیمنٹریزینز سمیت ملک کے تعلیم یافتہ طبقے کو یہ ضرور معلوم ہو جائے گا کہ گھر میں کسی بچے کو ملازم رکھنا خلافِ قانون ہے۔ اس کے علاوہ سول سوسائٹی کی مدد سے آگاہی مہم چلا کر عام لوگوں کو بچوں پر تشدد کرنے کے مکروہ فعل سے باز رکھا جاسکتا ہے۔ طیبہ کیس کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت کو فوراًاراکین ِ پارلیمنٹ، ججوں ،بیوروکریٹس اور تمام سرکاری ملازمین کے گھروں میں ڈومیسٹک چائلڈ لیبر پر پابندی عائد کردینی چاہیے۔ پنجاب میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے چیف منسٹر کو فوری ایکشن لینے کی سخت ضرورت ہے۔

(بشکریہ: ایکسپریس ٹریبیون،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں