ریپڈبس ٹرانزٹ،وزیراعلیٰ کا جنون

ریپڈبس ٹرانزٹ،وزیراعلیٰ کا جنون

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کا بیان ہے کہ پشاور میںریپڈبس ٹرانزٹ میرا Passionہے ۔اور وہ اس منصوبے کی تکمیل ہر صورت میں مارچ 2018 سے قبل چاہتے ہیں۔ یہ منصوبہ شہر سے حیات آباد تک تین پیکجزمیں 27کلومیٹر پر مبنی ہے اوراس میں آٹھ رابطہ سڑکیں موجودہ رش کو کم کرنے کے لیے اپ ڈیٹ کی جائیں گی ۔پشاور شہر کے موجودہ مسائل میں صفائی ،پینے کا صاف پانی اور بے ہنگم ٹریفک سرفہرست ہیں۔ پشاور کی موجودہ آبادی چالیس لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے اورگاڑیوں اور ٹرانسپورٹ کے دیگر ذرائع کے افراط اور پشاور کے مضافات میں بے ہنگم طور پر بننے والی نئی رہائشی کالونیوں کی وجہ سے پشاور شہر کافی پھیل چکا ہے ۔اندازے کے مطابق شہر پشاور میں ساٹھ ہزار رکشے سڑکوں پر گھومتے ہیں ۔ اس طرح ٹیکسی ، مزدااور ویگنوں کی کتنی تعداد ہوگی ۔ میٹروپولٹن شہر ہونے کی وجہ سے دوسرے شہروں سے بھی لوگ اپنے کاموں کے سلسلے میں پشاورشہر آتے ہیں ۔پشاور میں ٹریفک وارڈنز کی تعیناتی ایک اچھا تجربہ ثابت ہوا ہے لیکن رابطہ سڑکوں کی کمی اور گنجائش سے زیادہ گاڑیوں کی وجہ ٹریفک وارڈنز بھی اکثر بے بس دکھائی دیتے ہیں ۔ گزشتہ حکومتوں نے پشاور شہر کی ٹرانسپورٹ پر کوئی توجہ نہیں دی اس لیے شہر کی سڑکیں ہر وقت ٹریفک کے اژدہام کا شکار رہتی ہیں۔ موجودہ حکومت نے اس مسئلے کو سمجھااور اس پر عمل کرنے کا عزم کیا۔پشاور میں ٹرانسپورٹ کا ایک نیانظام بناکر اسے چالو کرنامشکل کام ہے اور وہ بھی صرف چودہ ماہ میں ۔ایسے کام واقعی جنون کی کیفیت میں کیے جاتے ہیں ۔ اب جنون کی بھی دو قسمیں ہوتی ہیں ۔ ایک جنون وہ ہوتا ہے کہ جس کا شکار مجنوں ہوا تھا ۔عشق لیلیٰ میں مجنوں صحرانورد ہوگیا تھا۔اوراس کاجنوں اس کواس کے باطن میں کہیں غرق کرگیا تھااور وہ اپنے جنون (لیلیٰ)کو حاصل کرنے کی کوئی کوشش نہ کرسکا۔ہم میں سے اکثر اسی جنون کا شکار رہتے ہیں کہ'' بیٹھے رہیںتصور جاناں کیے ہوئے ''۔ایسے جنون کی کیفیت میں شکار بہت سے رہنماؤں نے قوم کو نئے خواب دکھائے لیکن بے عملی کی ازلی عادت کی وجہ سے وہ خواب خواب ہی رہے ہیں ۔بہرحال دوسراجنون فرہاد کوشیریں کے عشق میں میسرآیا لیکن یہ عشق بے عملی کا شکار نہیں تھا بلکہ اس میں کچھ کرگزرنے کا جذبہ تھا۔جو ٹاسک فرہاد کو ملاتھا وہ تو ناممکنات سے میں تھا اور ہر ذی عقل یہ جانتا تھا کہ سنگلاخ پہاڑوں میںسے ''جوئے شیر'' نکالنا کسی فرد واحد کا کام نہیں ہے لیکن فرہاد نے ''ڈواآر ڈائی ''کی بنیاد پر اس چیلنج کو قبول کیااور تاریخ رقم کردی ۔اگر وہ چاہتا تو وہ بھی مجنوں کی طرح صحراؤں صحراؤں بھٹکتا رہتااور شیریں شیریں پکارتے پکارتے دنیاکا عظیم عاشق ہونے کا ایوارڈ حاصل کرلیتا۔ جیسے گمبھیر ہمارے مسائل ہیں ان مسائل کے حل کے لیے ہمیں ایسے جنوں کی طلب ہے جو فرہاد کو ودیعت کیا گیا تھا۔سی ایم کاریپڈ بس ٹرانزٹ کی تکمیل میںجنون کا اظہار ذاتی طور مجھے اچھا لگا کہ چودہ ماہ میں یہ کام مکمل کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے ۔کالج اساتذہ کی ایک محفل میںکالج اساتذہ کے مطالبات آئندہ بجٹ میں پورے کرنے کاوعدہ کیا تھا اوربڑے تیقن کے ساتھ تین بار یہ بات کہی کہ ''میں جو کہتا ہوں کرتابھی ہوں ''۔کم وقت میں منصوبوں کی تکمیل میں باب پشاور اوورہیڈ کی مثال تو بہرحال ہمارے سامنے ہے ۔سیاسی حکومتیں ضرور چاہتی ہیں کہ عوام کے مسائل حل کیے جائیں لیکن اداروں کی کوتاہی کی وجہ سے اکثر منصوبے تعطل اور تاخیر کا شکار ہوجاتے ہیں ۔

سی ایم مجھ سے زیادہ اس بات سے واقف ہوں گے اور جانتے ہوں گے کہ ان اداروں کو کس طرح کنٹرول کرنا ہے ۔میری اس ضمن میں ایک تجویز ہے کہ اس منصوبے کے تکمیلی عمل میں پشاور شہر کے شہریوں کی نمائندگی ہوجائے تو اس عمل کو رفتار ضرور ملے گی ۔ اس منصوبے میں اس بات کا اعادہ تو کیا گیا ہے کہ اس میں شہر کی خوبصورتی کو مدنظر رکھا جائے گا ۔ اس ضمن میں گزارش ہے کہ اس منصوبے میں خوبصورتی سے زیادہ آرٹسٹک اپروچ ہونی چاہیئے ۔ ہماری یونیورسٹیوں میں فائن آرٹس کے ڈیپارٹمنٹس سے استفادہ کیا جاسکتا ہے ۔کیونکہ اس بس کے راستے میں آنے والے آرٹسٹک نظارے اس منصوبے کو ضرور چارچاند لگادیں گے ۔ ایک مسئلہ عوام کے ساتھ منسلک ہے کہ ہم عوام سرکاری املاک کے ساتھ وہ سلوک نہیں کرتے کہ جو اپنی ذاتی ملکیتی اشیاء سے کرتے ہیں ۔ اس ضمن میں یہ عرض ہے کہ جب یہ منصوبہ عملی صورت اختیارکرلے تو عوامی آگہی کی ایک مہم ضرور چلائی جائے کہ ان جدیدبسوں اور ان خوبصورت راستے کی خوبصورتی تا دیر قائم رہے ۔ پشاور شہر ہم سب کا شہر ہے اس کی ٹریفک کا مسئلہ حل ہوجائے تو اس سے بڑی خوشی کی بات اور کیا ہوسکتی ہے ۔ کتنے لوگ مجبوراً اپنی گاڑیاں نکال کر شہر کی سڑکوں پرچیونٹی کی رفتار پر چلنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ اگرریپڈ بس چل پڑے تو کسی کو کیا پڑی ہے اپنی گاڑی نکالے ۔اس سے فیول کی بچت بھی ہوگی اور وقت بھی بچے گااور پشاور شہر کی سڑکیںبھی سکھ کا سانس لیں گے ۔اللہ کرے کہ ترقی کاجنون ہمارے دلوں میں قائم رہے۔جنون موجود ہو تو ترقی بس دوگام ہی رہ جاتی ہے ۔جنون کے موضوع پر دو اشعار
جنوں کو فاصلہ ہی کتنا ہے
اک قدم اختیار سے باہر
خبر تحیر عشق سن نہ جنوں رہا نہ پری رہی
نہ تو تورہا نہ تو میں رہا جو رہی سو بے خبری رہی

متعلقہ خبریں